« مجھے مذکر بناؤ »



ایک طالبِ علم کی تعلیم مکمل ہوئی تو استاذ کو کہنے لگا
*شیخی ادعی لی*
مراد تھی کہ استاذ محترم میرے لیئے دعاء کیجے
استاذ جواباً کہتا
*ذکرنی لادعوک لک*
اس کا ظاہری معنی بنتا کہ مجھے یاد کروانا میں تمہارے لیئے دعاء کروں گا
طالبِ علم کو سمجھ نہ آئی مگر وہ چلا گیا
کچھ دنوں بعد طالبِ نے پھر کہا
*شیخی ادعی لی*
تو استاذ نے وہی کہا
*ذکرنی لادعوک لک*
طالبِ علم کو پھر سمجھ نہ آئی وہ چلا گیا
کئی بار دعاء کا کہنے پر یہی جواب ملا تو طالبِ علم کہنے لگا
*انا اذکرک دائماً*
اس کا معنی بنتا ہے
میں آپ کو ہمیشہ یاد دلاتا ہوں
مگر استاذ کہنے لگا
> انت لا تذکرنی بل تونثنی و تقول ادعی لی فلو قلت ادع لی بصیغة المذكر كنت ادعو لك
تم مجھے مذکر نہیں مؤنث بناتے ہو کیونکہ تم *ادعی لی* کہتے ہو جو کہ مؤنث کے لیے بولا جاتا ہے اگر تم *ادع لی* کہتے تو میں تمہارے لیئے دعاء کرتا 😅
*ادعی لی* کا معنی ہے کہ اے عورت میرے لیئے دعاء کرو
یہ موئنث امر حاضر کا صیغہ ہے
استاذ بار بار کہتا تھا *ذکرنی* مجھے مذکر بناؤ 😅 مگر شاگرد سمجھتا *ذکرنی* کا معنی مجھے یاد کرواؤ ہے
طلباء ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں کہ بس
بعض اوقات نئے نئے طالبِ علم استاذ کو کہ رہے ہوتے ہیں استاد صاحب آپ نے یہ *عرض* کیا تھا
میں نے یہ *فرمایا* تھا 😅
استاد صاحب اس کا ترجمہ *عرض* کر دیجے
یہ مخلوق نہایت `عجیب` بھی ہوتی ہے اور بڑی `حبیب` بھی ہوتی ہے ☺️

محمد مصعب پالنپوری