Translation unavailable. Showing original.
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
29 جولائی، 2026
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ اسی شہر وبستی میں لوگ بلا تفریق مذہب انسان چبوترے ، چوپال اوردرخت کی چھاؤنی میں بیٹھ کر اپنے دل کی بات دوسرے انسان کہتا تھا ہنسی ، مذاق دل لگی ہوتی تھی ،ایک دوسرے حال احوال معلوم کرتے ایک دوسرے کی پریشانی میں مدد کرتے تھے ،ہرآدمی دوسرے آدمی کے گھر جاتا تھا کوئی بیمار پڑتا تو اس کی عیادت کرتا، دعائیں دیتا تسلی کی باتیں کرتا شادی بیاہ اور دیگر خوشی و غمی کے موقع پر شریک ہوتا تو کہہ سکتے ہیں وہ ایک دوسرے ساتھ مل جل کرے رہتے اور ہر وقت ایک دوسرے کےلیے کھڑے رہتے ،کسی طرح کا کوئی بیر نہیں،کوئی نفرت نہیں محبت کی زبان سب بولتے تھے ،آج بھی جو پرانے لوگ ہیں وہ پرانے خیالات کے ہیں،ان کا آنا جانا رہتا ہے بات چیت رہتی ہے کسی طرح کا کوئی تناؤ ان میں نہیں،لیکن زمانے نے کروٹ لی،دل میں لالچ پیدا ہوا ،جاہ و منصب کی تڑپ بڑھی ،مال ودولت اور عیش وعشرت کا شوق پیدا ہوا زمانے نے ترقیات کی منزل طے کی تو کچھ بےحس انسانوں نے انسان کو امیر وغریب، کالے گورے مذہب کے نام پر انسانوں کو بانٹ دیا، یہ بیماری جلدی نہیں پھیلی بلکہ صدیوں لگ گئے تب جاکر یہ بیماری عام ہوئی ،جب سے شوشل میڈیا عام ہوا ابلاغ و ترسیل کے ذرائع پھیل گئے اخبار وجرائد کی بھرمار ہوئی تو شرپسندوں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا،ہندو مسلم کا گیم کھیلا گیا، اشتعال انگیزی شروع کی گئی دونوں جانب کے لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا انگریزوں اس کا خوب فائدہ اٹھا ان کو لڑانے خوب کردار نبھایا اور اپنی حکومت کی ،جاتے جاتے بھی من گھڑت جھوٹی کہانی کی بنیاد رکھ کر گیا اور اب اسی کہانی کی بنیاد یہ نئی نسل ایک دوسرے سے اس طرح نفرت کررہی ہے گویا انسان ہی نہ ہو ،اب تو کسی غیر کے سامنے سے گزرنے میں بھی خطرہ جان کا، ہر ایک دوسرے کے جان کا دشمن بن گیا ،اب مجال ہے کہ کوئی دوسرے مذہب کا آدمی کسی غیر بات کرے، یہ نیادور شروع ہوا ہے جس میں روایت بدل گئی ،لوگ بدل گیے جذبات بدل گیے اب پرانی یادوں سے اپنے دل بہلا لیں گے-
زمانے کے تغیر کی کہانی پوچھتے کیا ہو
کہ ہم سے اپنی ہی تصویر پہچانی نہیں جاتی
اس کا نقصان سب کو ہوتاہے جب ایک ملک لوگ آپس میں لڑیں اسی کو غیر کہیں تو اس سے آپسی اتحاد کمزور ہوتا ہے اس کا فایدہ غیر اٹھاتے ہیں آپ دیکھیے یہ ملک کتنا طاقتور تھا لیکن جب آپسی نفرت بڑھی لڑائی فساد ہونے لگا تو پھر یہ ملک خود پیچھے چلاگیا ،دکھ اس بات کا نہیں کہ لوگوں نے غلطی کی بل کہ دکھ اس بات کاہے اس کو سدھارنے کی کسی کو فکر نہیں اور مزید اس آگ میں گھی ڈالنے میں اقتدار میں بیٹھے لوگ کررہے ہیں حالانکہ غلطی درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے اندھیرے میں رہنے کو عافیت گردانا -
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں دو طرح کے لوگ پاۓ جاتے ہیں ایک وہ جو باشعور ہیں ،پڑھے لکھے ہیں ،ان میں اچھی سوجھ بوجھ ہے، قلم وکتاب سے لگاؤ ہے ،حالات حاضرہ سے خوب واقف ہیں، اچھے برے کو سمجھتے ہیں ،نفع ونقصان کا خوب ادراک ہے ،وہ بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے، دنیا سلام کہتی ہے ،سب محو حیرت ہوتے ہیں ،بے ساختہ بولتے ہیں واہ کیا بات ہے ؟کیا طرزِ تکلم ہے؟ کیا انقلابی زبان ہے؟کس طرح بے جھجھک زبان قینچی کی طرح چل رہی ہے؟ گویا زبان وادب کا لحاظ کرتے ہوۓ اپنی بات مضبوطی سے رکھتے ہیں ،اسی سے خرمن باطل میں آگ لگا دیتے ہیں ، جاہ وحشم کی زمیں میں زلزلہ لبرپا کر دیتے ہیں ، اقتدار تک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں ،جن کی آواز پر لوگ لبیک کہتے ہیں اور وہ اس صداۓ انقلاب کی طرف چل پڑتے ہیں، جہاں سے ایک تحریک کی بنیاد پڑتی ہے مجلس انقلاب کا حصہ بن جاتے ہیں پھر اپنی مطالبات کو زبان وبیان کے دم پہ رکھتے ہیں پھر اس میں کامیاب ہوتے ہیں ،یہ لوگ واقعتا اپنے سوچ وفکر میں حق پر ہیں ،انہیں تابناک مستقبل کی فکر ہے ،نسل نو کی آبیاری کا جذبہ ہے، آشیانے کو بہتر صورت میں دیکھنے کے خواہاں ہیں ،اس کےلیے جان وتن کی قربانیاں خوشی خوشی دینے کےلیے مستعد ہیں ،غلطی پر متنبہ کرنے کا جذبہ ہے اور وہ اس سلسلے میں کسی طرح کی معذرت خواہی کو گوارا نہیں کرتے ،یہ لوگ سچے ہیں ،پکے ہیں ، اچھے ہیں، اس پر الزام بے جا ہے، صحیح بات کو تسلیم کرنا ایک اچھے انسان کی علامت ہے -
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو علم و دانش،شعور و آگہی ، ادراک و احساس سے کورے ہیں ،فکر و تدبر ،فن وہنر ،حسن ذوق ،سیادت و سیاست سے عاری ہیں ،زبان وبیان ادب واحترام سے خالی ہے ،قلم و قرطاس کی سیاہی سے غافل ہیں ، صاحب زبان ہوکے بھی بے زبان ہیں ،سب وشتم، غیظ وغضب ،نفرت و تعصب کے پتلے ہیں ،صنم خانے کے دیوانے ہیں ،وہ دکھاتے ہیں کہ ہم بے خوف ہیں جو چاہے کرسکتے ہیں مگر حقیقت میں ان کا خاطر جبن سے لبریز ہے جسارت ودلیری سے محروم ہیں ،ایسی چیز کو بچانے میں لگے ہیں جس کو بچانے کی ضرورت نہیں ،اس کا تعلق تہذیب و ثقافت سے جوکہ محفوظ رہتی ہے ،انہیں علم تاریخ کا شوق نہیں وہ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ہیں، ہاں مگر دعوے ہزار ہیں جو بے دلیل ہے ،یہ سب کسی طاقت کے آغوش میں ہیں ،جہاں وہ خود کو اتنا آزاد سمجھتے ہیں کہ ان کےلیے سو قتل بھی معاف ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جو ترقیات کےلیے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں ،اتحاد و اتفاق کی رسی کاٹنا چاہتے ہیں ،اکیلے ہی رہنے کے خواہاں ہیں، جو لفظ انسان کے معنی سے بھی بعید ہے، یہ وہ ہیں جو موقع پرست ہیں،یہ بیچارے کسی طرف نہیں ہیں ،موقع جس طرف ہے اس طرف ہیں-
رات تو وقت کا پابند ہے ڈھل جاۓ گی
دیکھنا یہ ہے کہ چراغوں کا سفر کتنا ہے؟
جب ایک مکان کے دو نقشے ہوں ایسے میں ان لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ جو وفا کے پیکر ہونے کے باوجود وفا کے دلائل ہر روز پیش کرتے ہیں اور انہیں زبان وقلم کو حرکت دینے میں سوچنا پڑتا ہے کہ جس طرف بھی زبان وقلم اٹھاۓ تو اس کو سوال کے کٹہرے میں آنا پڑے گا، انہیں بتانا پڑے گا کہ ان کی بات کس پس منظر میں ہے ؟شان ورود کیا ہے ؟ چونکہ لوگ نئے ہیں، شہر نیا ہے ،چہرے نئے ہیں ،مزاج نیا ہے ،ہر چیز کا زاویہ نیاہے، ان کے یہاں سچائی جھوٹ ہے، جھوٹ سچائی ہے ،حق باطل ہے اور باطل حق ہے ،غلط صحیح ہے اور صحیح غلط ہے؛ کیونکہ نقش خیال برعکس ہے، اس لیے ان کے یہاں ہر وہ عمل جائز و درست ہے جو عام طور سے غلط سمجھا جاتا ہے ایسے ماحول میں وہ طبقہ کیا کرے؟ جس پر ہمیشہ سوال کا خطرہ رہتا ہے، ان کی راۓ پر ردود کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اگر کوئی بات غلط نکل گئی تو رائی کا پہاڑ بن جائے،یا بجاۓ اپنی قوم کی حمایت کے کسی دوسرے کے حق میں مفید ہوا تو اس کےلیے شعور سے نہیں بلکہ شور سے کام لیں گے ،تو ایسے میں وہ طبقہ خاموش رہے، چپ رہے" من صمت نجا "پر عمل کرے ،مفاد پرستوں کے ہتھے نہ چڑھے ،فاصلہ بناۓ رکھے -
کوئی ہاتھ بھی نہ ملاۓ گا جو گلے ملوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرافاصلہ سے ملاکرو
اگر لب کشائی کی ضرورت پڑے تو بقدرِ ضرورت دلیل کے ساتھ کچھ ذکر کردے، چونکہ یہ نئے مزاج کا شہر ہے یہاں ہر چیز کا رخ بدل دیا جاتا ہے ـ
بس ہم منتظر ہیں حدوث زمان کے ،ہم منتظر ہیں وجود کے عدم کا اور عدم کے وجود کا،لاشیئ کے شیئ کا اور شیئ کے لاشیئ کا -
یہ مے کدہ سبھی کا ہے ،مے خوار بھی سبھی ہیں ،مے کش بھی سبھی کاہے ،تو ہم کیوں سب کو الگ سمجھتے ہیں ان کا رشتہ بہت مضبوط ہے سب دوسرے کے بغیر شیئ معدوم کے درجے میں ہیں
سوچیں ،سمجھیں ، چمن کو سنوارے اور بلبل چمن کو راحت پہونچاۓ، اس کےلیے مسائل پیدا نہ کریں ،خود بھی خوش رہیں اوروں کو بھی خوش رکھیں
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے واسطے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
خداۓ لم یزل ہم سب کو محبت کی دولت کی سے نوازے آمین