Translation unavailable. Showing original.
مٹی سے بنے انسان تکبر تجھے روا نہیں
28 جولائی، 2026
گل رضاراہی ارریاوی
متعلم :دارالعلوم دیوبند
١٤٤/٢/١ھ
انسان کا وجود آگ مٹی ،پانی اور ہوا سے مرکب ہے، انسان میں تلون مزاجی اسکی واضح دلیل ہے ،انسان میں بنیادی چیز مٹی ہے، جس سے انسانی سانچہ تیار ہوا ہے اور وہ ہمیں ایک خوبصورت انسان کی شکل میں نظر آتاہے ،مٹی اپنی فطرت میں لچک ،عاجزی اور پستی رکھتی ہے ،اس میں کسی کو تردد نہیں ہے کہ بندہ دنیا میں خدا کی جن نعمتوں سے لطف اندوز ہوتاہے ہیں ان میں میں تقریباً تمام چیزیں زمین سے ہی نکلتی ہے تو گویا زمین ہمارے لیے نفع کی چیز ہے چونکہ ہم انسان کی خمیر اسی زمین کی مٹی سے تیارشدہ ہے اس لیے ہمارے اندر بھی فطرتاً دوسرے کے نفع پہنچانے کا مادہ پہلے سے ہے اسی وجہ سے "خیرالناس من ینفع الناس "کی حدیث منقول ہے ہم دگر انسان و دیگر مخلوقات کےلیے خیر ونفع کا ذریعہ بنیں اور یہ اسی وقت ہوگا جب کہ ہم اپنے فطری خمیر کے مطابق زندگی گزاریں کیوں کہ غرور وتکبر نہ صرف انسان بلکہ دگر مخلوقات کے ساتھ بھی خیر کا ذریعہ بننے سے بھی روک دیتاہے-
خود پسندی اور انانیت انسان کو انسان سے کاٹ دیتا ہے ،اسی سےنفرت بھی پنپتی ہے محبت ختم ہوتی ہے اور رشتے اچھے ٹوٹنے لگتے ہیں ،جو خود کو بڑا سمجھتا ہے ممکن ہے کہ وہ اپنی نظر وگمان میں بڑا ہو لیکن دوسروں کی نظر میں وہ بڑا نہیں ہوتا،عظمت و برائی کا حق صرف خداۓ واحد کے سزاوار ہے ،اس کے سوا کسی کو نہیں -
شیطان اپنے علم وعمل میں یکتاۓ زمانہ تھا مگر انہوں نے خود کو بڑا سمجھا اور اسی کی وجہ سے سجدہ سے منع کیا نتیجہ ظاہر ہوا کہ مردود وملعون خسییس ورذیل جیسے خطاب لے کر راندۂ درگاہ ہوا ،اس کے مقابلے میں حضرت آدم اپنی خطا پر نادم و پشیماں ہوۓ تو عزت پائی نبوت سے سرفراز فرماۓ گیے-
آپ سوچیے!
کیا کسی انسان کو اس جسم حادث اور اس کے لوازمات کے ساتھ تکبر کا حق ہوسکتاہے،ولادت سے لے کر وفات تک ،گود سے لے کر گور تک ،بچپن سے لےکر پچپن تک ہر موڑ پر دوسرے انسان کا محتاج ہے -
صرف بچپن کاتصور ہوجاۓ تو وہی انسان کی عاجزی کےلیے کافی ہو کہ وہ ایک ناپاک قطرہ کا حصہ ہے، ناپاک خون پی کر پیدا ہونے کے قابل ہوا ،جس کے تصور سے ہی انسان گھن محسوس کرتاہے ،جب وہ پیدا ہوا تو کروٹ بدلنے ،بھوک مٹانے اورضروریات بشریہ سے فارغ ہونے میں ماں کا محتاج ہے،آگے بڑھیے جب آدمی بڑا ہوتا ہے کام کاج کرنے لگتاہے جس وقت سوچتا ہے کہ " میں ہوں " قوت وطاقت کا سستا نشہ ہوتاہے، تب بھی اگر تھوڑا بخار آجاۓ ،سر میں درد ہوجاۓ پیٹ کی تکلیف سے دوچار ہوجاۓ تو چیخیں نکل جاتی ہے -
بڑھاپے کا ذکر ہی کیا کرنا وہ تو ہوتاہی ہے عین بے چاری وبےبسی کا ،جسم ڈھلنا شروع ہوتاہے، ہاتھ پیر جواب دینا لگتا ہے، زبان لڑکھرا نے لگتی ہے ،کان ایک بار میں سننے کو تیار نہیں ہوتے ،باتیں یاد نہیں رہتی ، یاد کی ہوئی چیز بھی یاد نہیں رہتی ، کھانا کھانے کے باوجود یاد نہیں رہتا کہ "میں نے کھانا بھی کھایا ہے"پھر جب انسان مرجاتا ہے تو پھر اس کی بے سی دیکھنے لائق ہوتی ہے کتنا مجبور ہے ؟خود سے غسل بھی نہیں کر پاتا، کپڑا پہننے سے بھی عاجز ہے، کروٹ تک نہیں بدل سکتا ،دنیا کے اس مسافر کو اس کی اپنی منزل پہ پہچانےلیے اس کو اچھے سے گرم پانی کے ذریعے نہلایا جاتا ہے ،صابن خوشبو وغیرہ لگایا جاتاہے، آخر میں ایک سفید جوڑے پہناۓ جاتے ہیں، دلہن کی طرح ان کو سنوارا جاتاہے ،پھر قبرستان تک دوسروں کے کندھے پہ یہ اپنی منزل طے کرتاہے ، لوگ اس خاکی کو قبر کی خاک کےسپرد کرکے رخصت ہوجاتاہے گویا انسان اس دنیا میں پیدا ہونے سے مرنے تک سب میں دوسرے کا محتاج ہے -
اب اگر ایسا انسان غرور کرے تو" أنف فى الما وأست في السماء"کے مترادف ہے،اوقات سے بڑھ اوقات دکھانا ہے،یہ در اصل خدا کے ساتھ مقابلہ آرائی ہے، جس کو خدا کبھی گوارا نہیں کرتا
بارہا ایسا ہوا جس نے تکبر کیا وہ ذلیل ورسوا ہوا ،ابلیس ،فرعون یہ سب کھلی نظیر ہے ،تاریخ نے ایسے لوگوں کو بطور عبرت محفوظ رکھی ہے-
تواضع انسان کو عزت بخشتا ہے،لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت بیٹھ جاتی ہے، حدیث بھی کہیتی ہے" من تواضع للہ رفع اللہ لہ"اللہ کے لیےتواضع رفعت وعزت کا سبب ہے- تواضع سے اللہ تعالیٰ زندگی میں برکت دیتا ہے اور تکبر سے برکت چھین لیتاہے-
لہذا؛ ہم انسانوں اپنی حقیقت یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مٹی سے بنے ایک محتاج انسان ہیں جس کا وجود بھی کسی کا دیا ہوا ہے، جب چاہے وہ اس کو ختم کرسکتا ہے ہمیں اس کے باقی رکھنے کا کوئی اختیار نہیں -
انسان کی ہر چیز حادث ہے اس کا محل بھی حادث ہے اسی کو منطقی زبان میں کہہ سکتے ہیں" محل حادث بھی حادث ہوتی ہے"
ایسے مجبور ولاچار انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ تکبر کرے خود کو بڑا سمجھے، انہیں تکبر کا کوئی حق نہیں،زمین پہ رہ آسمان چھونے کی کوشش بے کار ہے -
اس لیے؛ ہمیں عاجزی وانکساری کے ساتھ رہنا چاہیے ،ہم انسان بنیں، ابلیس نہ بنیں ،جب یہ کرلیں گے تو ان شاءاللہ یہ امیر وغریب چھوٹے بڑے کا امتیاز ختم ہوجاۓ گا -ان شاءاللہ