(


✍🏻تعلیم و تعلم ایک بہترین مشغلہ ہے -

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !

ٔخیرکم من تعلم القران وعلمہ 

اسی طرح قران کریم کی دیگر آیات اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ تعلیم و تعلم اور علم کی اہمیت بہت زیادہ ہے 


تعلیم و تعلم کے باب میں اور سیکھنے سے کھانے کے تعلق سے جس طرح فن تقریر اور فن خطابت ایک خاص ضرورت ہے اسی طرح فن تحریر بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے -

 فن خطابت اور فن تحریر میں تھوڑا سا فرق ہے 

یہ الگ بات ہے کہ خطابت ابتدا سے ہے اور تمام انبیاء کرام خطابت کو اپنے دین کی خدمت کے لیے استعمال کرتے تھے ،لیکن خطابت کا دائرہ محدود ہے انسان ایک وقت میں ایک بات کہتا ہے لیکن وہ بھول جاتا ہے ان کا افادہ اور استفادہ محدود زمانے تک رہتا ہے اور ایک نسل گزرنے کے بعد اس کا افادہ اور استفادہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر خود بعض دفعہ خطیب ومقرر کو اپنی بات یاد نہیں رہتی، لیکن فن تحریر کا فائدہ یہ ہے کہ وہ دیرپا اور پائدار رہتی ہے اس میں دوام اور ثبوت پایا جاتا ہے اس لیے سنجیدہ اور متفکر اور اہل علم حضرات خطابت میں زور دینے کے بجائے وہ تحریر کا سہارا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام کے دنیا سے گزر جانے کے بعد لوگوں نے علوم منتشرہ کو جمع کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیا اور تمام علوم دینیہ کو خواہ تفسیر ہو یااصول تفسیر ، حدیث ہو یا اصول حدیث ،فقہ ہویا اصول فقہ ،علم الکلام ہو، اسی طریقے سے عربی کے سلسلے میں جو قواعد مرتب ہیں ،جیسے فن نحو ،فن صرف وغیرہ یہ سب کے سب اسی تحریر کا ایک نمونہ ہے،

آج دنیا بھر کی لائبریری علوم دینیہ سے بھری پڑی ہیں کئی لاکھ نہیں بلکہ کئی کروڑ کتابیں لائبریری میں رکھی ہوئی ہیں، جو علماء اہل اسلام نے تصنیف کی اور اس کی ترتیب اور تبویب کا کام کیا -

لیکن افسوس ہے کہ آج لوگوں میں تحریر سیکھنے کا جذبہ کم ہوگیا ہے, سیکھنے کے لیے بعض دفعہ لوگ آمادہ تو ہوتے ہیں لیکن وہ صحیح طور پر رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مضامین کو ہمارے تحریر کو کون پڑھے گا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑھنے والے کے لیے بڑا سا بڑا مضمون مختصر معلوم ہوتا ہے اور نہ پڑھنے والوں کے لیے مختصر سا مضمون بھی طویل معلوم ہوتا ہے ،سابقہ زمانے سے لے کر اب تک بہت سے لوگ ایسے ہیں مسلم و غیر مسلم میں بھی جو دوسو، پانچ سو اور بعض روایت یہ پہنچی ہے کہ ایک ہزار صفحات تک کتابیں پڑھ لیتے ہیں تو یہ حسن ذوق کی علامت ہوتی ہے جسے یہ حاصل ہو جائے تو اس کے لیے بڑی بڑی تحریریں بھی چھوٹی سی معلوم ہوتی ہیں اور جس کے اندر پڑھنے کا جذبہ نہ ہو تو اس کے لیے ایک لائن کی تحریر بھی سنگ گراں معلوم ہوتا ہے

 اسی لیے اگر ہم اس میں کوشش کریں گے تو یقینا فائدہ ہوگا اور دنیا کا اصول ہے جو کوشش کرتا ہے وہی پاتا ہے اور جو اس سے پیچھے رہتا ہے وہ ناکام و نامراد رہ کر پس پردہ رہ جاتا ہے اور وہ دنیا میں اسباب فراہم ہونے کے باوجود کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا ہے،

لکھنے کی وجہ سے پڑھنے کا ذوق بھی بڑھتاہے

علامہ اقبال نے کہا تھا!

 بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا 

روشن شرر تیشہ سے ہے خانہ فرہاد 


اس دنیا کے اندر شیریں اور فرہاد کے قصے مشہور ہیں تو انہوں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی محنتیں کی اور کوششیں کی گرچہ وہ کامیاب نہیں ہوئے لیکن رہتی دنیا تک کے لیے ان کا نام جفا کش اور محنتی لوگوں میں شمار ہے اور علامہ اقبال نے خود دوسرے شعر کے اندر یہ کہا !

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ 

جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی


 اللہ تعالی ہم سب کو اس فن میں کمال حاصل کرنے اور فن تحریرکاملکہ عطا فرماکر ، دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 


✍🏻ذوق خامہ📖 


گل رضا راہی ارریاوی