✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 
متعلم دارالعلوم دیوبند 
١٣صفر المظفر ١٤٤٨ھ

    درس نظامی میں مشکوٰۃ المصابیح کو نہایت غیر معمولی اہمیت حاصل ہے 
مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کے زمانے اور اس سے قبل جب باقاعدہ نصاب مرتب نہیں تھا تو یہی آخری کتاب سمجھی جاتی تھی اور اسی کو پڑھا کر اجازت حدیث دی جاتی تھی 
لیکن جب مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کچھ سال درس وتدریس کے بعد مکہ مکرمہ گیے وہاں شیخ ابوطاہر صاحب رحمہ اللہ سے صحاح ستہ سردا وروایتا درس میں پڑھی اور اجازت حدیث لے کر ہندوستان آۓ اور صحاح ستہ کا درس شروع کیا، پھر جب باقاعدہ نصاب مرتب کیا گیا تو احادیث کی کتابوں کےلیے مستقل ایک سال کا اضافہ کردیا گیا -

   مشکوٰۃ المصابیح صحاح ستہ اور دگر کتب حدیث کا مجموعہ ہے ؛اسی لیے صحاح ستہ کے درس سے پہلے رکھا گیا تاکہ اس کو مسائل و دلائل ، اختلاف ائمہ ،توضیحات و تشریحات کے ساتھ پڑھادی جاۓ اور صحاح ستہ سردا وروایتا کچھ مختصرا بقدرِ ضرورت تشریح کے ساتھ پڑھائی جاۓ اور یہی ہوتا بھی ہے طلبۂ دورۂ حدیث کو حدیث کی تشریح بآسانی سمجھ آجاتی ہے -

چونکہ مشکوٰۃ المصابیح کا درس گزشتہ کئی کتابوں کا نچوڑ اور اس کا خلاصہ ہوتاہے اس اعتبار سے یہ کتاب بہت ہی قابل اعتناء اور لائق توجہ ہے ،اگر اس کا پڑھانے والا اعتدال، درمیانی رفتار سے نہ پڑھاۓ تو مجھ جیسےطلبہ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ مناسب نہیں -
میں نے تعلیم کا آخری تین سال ہندوستان کا مشہور و معروف اورقدیم ترین ادارہ جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ میں حاصل کیا-
راقم نےمشکوٰۃ المصابیح جن اساتذہ سے پڑھی ہے وہ علم وفضل میں یکتا و یگانہ ہیں ،علمی و عملی تفوق میں مثالی اور نمونہ ہیں -

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے 
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی 

جلد اول نواسۂ شیخ الاسلام حضرت مولانا و مفتی سید محمد عفان صاحب منصور پوری زید مجدہ جب کہ جلد ثانی فقیہ العصر حضرت مولانا و مفتی ریاست علی صاحب رامپوری دامت برکاتہم اور جلد ثالث حضرت مولانا و مفتی رضوان صاحب زید فضلہ سے پڑھنے کی سعادت ملی -

اللہ تعالیٰ ان حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے محنت و لگن اورذوق وشوق سے پڑھایا ،طرز تدریس سب کا نرالا ہے ،سب کا اپنا ایک انداز ہے جو دوسرے سے قدرے متفاوت وممتاز ہے ،ظاہرہے کہ ہر ایک اپنے منفرد اسلوب میں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے -
ع 
ہر گلے را رنگ و بوۓ دیگر است 

 ان میں حضرت الاستاذ مفتی رضوان صاحب کےطرزِ تدریس کا تذکرہ کر رہاہوں -

   استاذ محترم حضرت مولانا و مفتی محمد رضوان صاحب دامت کا طرز تدریس نہایت اعتدال پر مبنی ہے ،آپ کا اسلوب یہ تھا کہ آپ درمیانی آواز میں درمیانی رفتار سے ہر حدیث کی مختصر تشریح کرتے جاتے، کوئی حدیث ایسی نہیں گزرتی جس میں آپ نے کسی علمی نکتہ کو نہ بیان کرتے ہوں ،جلد ثالث میں نسبتاً تعارض زیادہ ہے آپ دفع تعارض آسانی سے حل فرماتے کوشش یہ کرتے ہیں کہ وہ یاد ہوجاۓ ،آواخر سال میں جب نصابوں کا بوجھ رہتاہے اکثر اساتذہ روایتا پڑھاتے ہیں مگر آپ کا وہی انداز جو ابتدائے سال میں ہوتاہے انتہاۓ سال تک اسی طرز کے ساتھ درس دیتے چونکہ آپ پابندی کے ساتھ درس دیتے تھے ، اس میں کسی طرح کا تغافل کو روا نہیں سمجھتے تھے ،اسی وجہ سے آپ کا نصاب بآسانی پایۂ تکمیل کو پہونچ جاتا، طلبہ کو بھی اس کا احساس نہیں ہوتا،آپ کا انداز بیاں شگفتہ و شیریں ہے، لہجہ میں نرمی ہے مزاج میں لطافت ہے جو زود فہمی کا سبب بھی ہے ،اس طرح گفتگو فرماتے ہیں کہ طلبہ آپ کی باتوں میں کسی طرح کی پیچیدگی محسوس نہیں کرتے؛ بلکہ آپ مشکل مباحث کو بھی آسانی سے حل فرما دیتے ہیں ،اہم بات کو دو تین مرتبہ ذکر فرماتے تاکہ وہ ذہن میں نقش ہوجاۓ، اور لکھنے والا بآسانی لکھ لے ،دوران درس طلبہ کی سستی کو دور کرنے اور نشاط بر قرار کےلیے مزاحیہ جملے ارشاد فرماتے ،جس سے طلبہ کی توجہ سبق کی طرف لوٹ آتی ،برمحل مناسب اشعار ذکر فرماتے، جس سے محفل درس معطر و لالہ زار ہو جاتا- نگاہ تیز رکھتے جس غافل طلبہ پکڑ میں آجاتے ،مناسب تنبیہ فرماتے ، دوران درس کسی طرح کی کوئی نامناسب رویہ یا نامناسب عمل برداشت نہیں کرتے کیونکہ یہ سب درس میں خلل کا سبب بنتا ہے بطورِ خاص سامنے بیٹھے طلبہ کے لیے یہ ضروری ہوتاہے کہ کسی طرح کی غفلت نہ برتیں ،آپ اپنے سامنے ایسے طالب علم کو پسند فرماتے جس میں نشاط ہو، نہایت توجہ سے سبق سننے کا شوق ہو،بے توجہی سے کدورت رکھتا ہو،

   اس ناکارہ کو حضرت الاستاذ سے دو سال استفادہ کا موقع ملا ،چہارم میں ابتداء" دروس البلاغہ" آپ سے متعلق تھی ،پھر نصاب میں جزوی تبدیلی کی وجہ سے "معلم الانشاء"آپ سے متعلق ہوگئی ،عربی ہفتم میں مشکوۃ جلد ثالث متعلق ہے یہ کتاب نسبتاً زیادہ آسان معلوم ہوا اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی زیادہ محسوس ہوا-

   آپ کا درس طلبہ میں یکساں مقبول ہے،میں نے کئی ساتھی سے آپ کے طرز تدریس سے متعلق گفتگو کی کسی نے کسی طرح کی شکایت نہیں کی ،جس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا درس طلبہ میں یکساں مقبول ہے ورنہ یہ دور ایساہے کہ اگر اساتذہ میں یا طرز تدریس میں کوئی خامی ہوتو مجلس میں نہ سہی کسی نہ کسی موقع سے اس کو ذکر کرہی دیتے ہیں ، بارہا ساتھیوں کوآپ کی تعریف میں رطب اللسان پایا اس سے معلوم ہوتاہے طلبہ آپ سے محبت رکھتے ہیں 

علامہ اقبال کا یہ شعر حضرت الاستاذ سے بارہا سنا 
   ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق 
 یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق 
 ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں 
 فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق 

   حضرت الاستاذ اس شعر کے مصداق تھے
 یہ چند معروضات تھے جو میں نے تعمیل حکم کی غرض سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں تحریر کردیا حالانکہ یہ مجھے رمضان سے قبل کردینا تھا مگرکم ہمتی کی وجہ سے اس کی جرأت نہ ہوئی ، کئی ماہ اسی کشمکش میں گزر گیا کہ کس طرح تحریر کروں ،کوئی بے ادبی والے جملے نہ ذکر ہوجاۓ ، کوئی مبالغہ آمیز بات رقم نہ ہوجاۓ، جس سے دروغ گوئی کا الزام آۓ ،پھر غلط بات استاذ محترم کی جانب منسوب ہو جو ناگواری کا سبب بنے، حکم بھی تھا اس کی تعمیل ضروری تھی ،ذہن میں یہ بات گردش کررہی تھی -
میں نے کوشش کی ہے کہ کوئی بھی ایسی بات تحریر میں نہ آۓ،جو واقع کے خلاف ہو پھر بھی اگر کسی طرح کی کوئی خامی ہو تو ہم انسان ہیں اصلاح فرمادیں یا مطلع کردیں 

اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کو ہر طرح کے خیر سے نوازے اور شر سے محفوظ فرمائے آمین