« معیاری حسن و جمال »
حکماءِ عرب نے فرمایا
> الجميلة الَّتِى تَأْخُذ بَصرك جملَة على بعد فَإِذا دنت لم تكن كَذَلِك والمليحة الَّتِى كلما كررت فِيهَا بَصرك زادتك حسنا
جمیل عورت وہ ہے جو دور سے تمہاری نظر کھینچ لے مگر جب قریب آئے تو ویسی نہ ہو
اور ملیح عورت وہ ہے کہ جب بھی تم اسے دیکھو اس کا حسن زیادہ لگے
« `طبائع النساء وما جاء فيها من عجائب وأخبار وأسرار لابن عبد ربه الأندلسي ص ١٢٠`»
آج کل میک اپ سے لتھڑی خواتین جمیلہ ہیں کہ دور سے نظر کھینچ لیں پاس آئیں تو من من میک اپ سے اٹا منہ دیکھ کے جی مکدر ہو جائے 😅
شاعر نے کہا
> إن المليحة من تزين حليها
> لا من غدت بحليها تتزين
ملیح عورت وہ کہ جو زیور کو زینت بخشے نہ کہ وہ جو زیور سے زینت حاصل کرے
« `ديوان الصبابة لابن أبي حجلة ص ١٥` »
*جمال ملاحت کا نام ہے* اور ملاحت ملح سے نکلا ہے جیسے آٹے میں نمک تھوڑا ہوتا ہے ویسے ہی حسنِ ملیح دنیا میں کم ہے
فطری طور پہ مرد کے نذدیک حسن کا معیار بلند ہوتا ہے اسی وجہ سے سیانی دادیوں نانیوں نے میک اپ ایجاد کیا کہ *بھینس کو ہرن بنا کے دکھایا جائے* 😅
مگر آج کل کے مرد بہت ترسے ہوئے ہیں کہ معیار سے اتر گئے ہیں
بلکہ خود *زنانہ بن گئے ہیں*
یہ ماحولیاتی فطری تبدیلی بھی بتاتی ہے کہ دنیا آخری لمحات میں ہے!
محمد مصعب پالنپوری