« کسی سے محبوبہ ادھار نہ مانگیں »



*ایک عربی محقق* نے کہا ہے
چوروں کی کئی اقسام ہیں
`پہلی قسم`
محنت کا چور
جو دفتر میں یا کام پر دیر سے آتا ہے
`دوسری قسم`
امتحان کا چور
یہ امتحانات میں دوسرے طالب علم کا جواب چوری کرتا ہے
`تیسری قسم`
علمی چور
یہ دوسرے سے مضامین چوری کر کے اپنے نام لگاتا ہے
`چوتھی قسم`
وقت کا چور
یہ آپ کا وقت چور بے وقت آپ کے پاس آجاتا ہے
جب آپ کو اس کی ضرورت پڑے تو ہاتھ نہیں آتا
`پانچویں قسم`
کتابوں کا چور
یہ کتب ادھار لے کر واپس نہیں کرتا
کتابوں کے چور بھی عجیب چور ہیں *یہ حرام طریقے سے نورانی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں*
`علامہ تفتازانی` کے پاس کوئی شخص کتاب ادھار مانگنے آیا تو انہوں نے شعر پڑھا
_ألا يا مستعير الكتب دعني_
_فإن إعارتي للكتب عار_
اے مجھ سے ادھار کتابیں مانگنے والے دھیان سے سن
میرا کتب ادھار دینا شرم کی بات ہے

_فمحبوبي من الدنيا كتابي_
_وهل أبصرت محبوبا يعار_
دنیا میں میرا محبوب کتاب ہے کیا تم نے کبھی محبوب ادھار دیتے دیکھا ہے ؟
*سید شریف الجرجانی* نے علامہ تفتازانی کے نظریے کو رد کرتے ہوئے شعر کہا
`ولا تمنع كتابا مستعيرا`
`فإن البخل للإنسان عار`
کوئی کتاب ادھار لینے والے کو منع نہ کرو کیونکہ بخل انسان کے لیئے عار ہے

`ألم تسمع حديثًا صححوه`
`جزاء البخل عند الله نار`
کیا تم نے وہ حدیث نہ سنی جسے علماء نے صحیح قرار دیا ہے کہ الله رب العزت کی بارگاہ میں بخیل کی سزا جہنم ہے
« کشکول ابن عقیل ص ١٣٥ »

یہ پرانی بات تھی جب لوگ علم کے لیئے کتابیں ادھار لیتے تھے
اب شوق کے لیئے اور دکھلاوے کے لیئے لائبریری بھرنے کے لیئے بس کتب جمع کرتے ہیں
پڑھنا نصیب نہیں ہوتا
*آج کل کے طلباء کا خواب ہوتا ہے بڑی اور سجی ہوئی لائبریری ہو نرم گدا اور آدم دہ کرسی ہو پھر بیٹھ کر مطالعہ کریں*
کیسی عجیب و غریب اور غیر علمی سوچ ہے
علم مشقت سے آتا ہے اور جو بغیر مشقت و محنت کے حصولِ علم کی کوشش کرے وہ احمق ہے
جو کتاب ملے پڑھ لیں
آپ کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہیں ہیں تو ادھار لیں مگر جیسے کتاب لی ویسے ہی واپس کریں
امانت میں خیانت نہ کریں
`اپنی لکھی ہوئی کتاب عالم کا بچہ ہوتی ہے اور خریدی ہوئی کتاب محبوبہ ہوتی ہے`
لہذا ادھار دینے والے کو آزمائش میں نہ ڈالیں

محمد مصعب پالنپوری