🪶از:ح عائش✰
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
چند ہی لمحوں میں میری وفات کی خبر پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوتا ہے: "تمام حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ فلاں بنتِ فلاں کا انتقال ہو گیا ہے، نمازِ جنازہ آج نمازِ ظہر کے بعد ادا کی جائے گی۔" WhatsApp پر ایک کے بعد ایک اسٹیٹس لگنے لگتے ہیں: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، میری عزیز دوست فلاں بنتِ فلاں کا انتقال ہو گیا ہے، مغفرت کی دعا فرمائیں۔" جو لوگ کل تک میرے پیغامات کا انتظار کرتے تھے، آج میری وفات کی خبر ایک دوسرے تک پہنچا رہے ہیں۔
میرا گھر آہستہ آہستہ لوگوں سے بھرنے لگتا ہے۔کوئی خاموش بیٹھا ہے، کوئی آہستہ آہستہ آنسو پونچھ رہا ہے، کوئی میری والدہ کو صبر کی تلقین کر رہا ہے، کوئی میرے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہے۔ میری بہنیں زاروقطار رو رہی ہیں، بھائی اپنی آنکھوں کے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند دوستیں میرے گھر آ کر میرے قریب بیٹھ کر آنسو بہا رہی ہیں، اور کچھ مصروفیت یا مجبوری کے باعث نہ آ سکی ہیں، تو وہ WhatsApp پر اسٹیٹس لگا کر تعزیت کر رہی ہیں۔
ہر آنے والے کی زبان پر بس ایک ہی جملہ ہے:
"کب اور کیسے انتقال ہوا؟"
اب میرے غسل کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی پانی گرم کر رہا ہے، کوئی کفن کھول رہا ہے، کوئی خوشبو تیار کر رہا ہے۔ پھر مجھے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ غسل دیا جاتا ہے، میرے جسم کو پاک کیا جاتا ہے، سنت کے مطابق خوشبو لگائی جاتی ہے اور سفید کفن میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ کل تک میری الماری رنگ برنگے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی، عید کے جوڑے، پسندیدہ لباس، نئے جوتے، میرا بیگ، میری گھڑی، میری پسندیدہ خوشبو... سب کچھ اپنی جگہ موجود ہے، مگر آج ان میں سے کوئی چیز میرے کام نہیں آ رہی۔ دنیا بھر کے کپڑوں کا شوق صرف چند سفید کپڑوں پر ختم ہو گیا۔
پھر مجھے ایک تخت پر لٹا دیا جاتا ہے۔ میرے گھر والے آخری بار میرا چہرہ دیکھتے ہیں۔ کوئی میری پیشانی کو چومتا ہے، کوئی میرے ہاتھوں کو تھام کر روتا ہے، کوئی کہتا ہے: "کاش! ایک بار آنکھیں کھول دو..." مگر اب میری زبان خاموش ہے، میری آنکھیں بند ہیں، اور میری مہلت ختم ہو چکی ہے۔
پھر مجھے گھر سے باہر لے جایا جاتا ہے۔ وہی دروازہ جس سے میں نا جانے کتنی بار خوشی خوشی نکلی تھی، آج اسی دروازے سے میری آخری رخصتی ہو رہی ہے۔ میرے اپنے آنسو بہاتے ہوئے مجھے رخصت کر رہے ہیں، مگر کوئی بھی میرے ساتھ نہیں آ سکتا۔
نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ لوگ میرے لیے دعا کرتے ہیں، پھر مجھے قبرستان لے جایا جاتا ہے۔ میرے والد اور میرے بھائی مجھے آہستہ سے قبر میں اتارتے ہیں، قبلہ رخ لٹاتے ہیں، لحد بند کی جاتی ہے، پھر ایک ایک مٹھی مٹی میری قبر پر ڈالی جاتی ہے۔ چند لمحے پہلے تک میں لوگوں کے درمیان تھی، اور اب مٹی کے نیچے اکیلی ہوں۔
لوگ کچھ دیر میری قبر کے پاس کھڑے ہو کر میرے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ سب واپس چلے جاتے ہیں۔پھر قبرستان پر خاموشی چھا جاتی ہے، اور میں اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کے ساتھ رہ جاتی ہوں۔
گھر واپس پہنچنے کے بعد کئی دن تک ہر چیز میری یاد دلاتی ہے۔ میرا کمرہ، میرا بستر، میرا تکیہ، میری کتابیں، میری چپل، میری الماری... سب کچھ اپنی جگہ موجود ہے، مگر میں موجود نہیں ہوں۔ گھر میں کچھ دن تک غم کا ماحول رہتا ہے، ہر بات پر میری یاد آتی ہے، ہر پسندیدہ کھانے پر لوگوں کو میری یاد آتی ہے تو ہر شخص کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ وقت گزرنے لگتا ہے۔ زندگی اپنی رفتار سے چلنے لگتی ہے۔ بچوں کو اسکول جانا ہوتا ہے، کسی کو بازار، کسی کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں۔ شروع میں میرے گھر والے روز میری قبر پر جاتے ہیں، پھر ہر جمعہ، پھر مہینے میں کبھی، پھر سال میں ایک بار... پھر وہ بھی جانا بند ہو جاتا ہے، اور وقت کی مصروفیات بہت سی چیزوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ دنیا کا یہی دستور ہے، کسی کے جانے سے دنیا نہیں رکتی۔
کبھی دوستوں یا گھر والوں کو اچانک میری یاد آ جاتی ہے تو میرے لیے ایصالِ ثواب کر دیا کرتے ہیں۔
پھر ایک دن میرا کمرہ کسی اور کے استعمال میں آ جاتا ہے، میرے کپڑے تقسیم ہو جاتے ہیں، میرا فون ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے، اور میری "صدائے قلم" اور WhatsApp پر پوسٹیں جانا بند ہو جاتی ہیں۔ دن گزرتے جاتے ہیں، لوگوں کو لگتا ہے میں صرف آف لائن ہوں گی، لیکن حقیقت میں میں اس دنیا سے جا چکی ہوں گی ۔ میرا نمبر صرف ایک محفوظ رابطہ بن کر رہ جاتا ہے، اور میری زندگی کی پوری داستان صرف چند لفظوں میں سمٹ جاتی ہے: "فلاں بنتِ فلاں... مرحومہ۔"
لیکن میری اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔ وہاں نہ مال کام آئے گا، نہ شہرت، نہ خوبصورتی، نہ رشتے، نہ دنیا کی تعریفیں۔ اگر کوئی چیز میرے ساتھ ہوگی تو صرف میرے اعمال۔ اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں، اس سے معافی مانگیں، نمازوں کی حفاظت کریں، لوگوں کے حقوق ادا کریں اور ایسی زندگی گزاریں کہ جب موت آئے تو وہ ہمارے لیے رحمت کا آغاز ہو۔
اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے سچی توبہ نصیب فرما، ایمان پر خاتمہ عطا فرما، ہماری قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا، قبر کی آزمائش کو ہمارے لیے آسان فرما، اور قیامت کے دن ہمیں اپنی رحمت سے جنت الفردوس عطا فرما۔
تمام لوگوں سے بس ایک درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا کیجیےگا ۔ اللہ تعالیٰ میرے گناہ معاف فرما دے، میرے ساتھ رحمت والا معاملہ فرمائے، اور میری مغفرت فرما دے۔
آمین یا رب العالمین۔