Translation unavailable. Showing original.
آج کل رازی وغزالی کیوں نہیں پیدا ہوتے؟
28 جولائی، 2026
مولوی منفعت علی صاحب رح سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہےکہ علماء میں رازی وغزالی پیدا نہیں ہوتے؟
انھوں نے کہا کہ کہ پہلے انتخاب کا طریقہ یہ تھا کہ قوم میں جو سب سے زیادہ ذہین اور ہوشیار لڑکا ہوتا اسکو دین کی تعلیم کے لیے بھیجا جاتا تھا ۔اب طریقہ یہ ہے کہ قوم میں جو سب سے زیادہ کند ذہن احمق اور بودہ ہو اسکو دین کی تعلیم کے لیے تجویز کیا جاتا ہے تو رازی وغزالی کیسے پیدا ہوں گے ۔لیکن اگر آج بھی ذہین وذکی پڑھتے ہیں وہ غزالی ورازی سے کم نہیں ہوتے ۔۔۔
لیکن وقت ایسا آگیا کہ جو قابل ہیں وہ ادھر توجہ نہیں دیتے ۔اورجو غریب و ناقابل ہوتے ہیں وہ ادھر توجہ دیتے ہیں ان کی جیسی سمجھ ہوتی ہے ویسے ہی نکلتے ہیں ۔
اب یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کی تعلیم چھڑادیں ورنہ تو علم دین کس کو پڑھائیں گے؟
نیزغریب غرباء کیا کریں دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ اسکی تعلیم مہنگی ہے،اور عربی سے ان کو محروم رکھا جائے تو بچارے بالکل کورے ہوجائیں گے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
حقیقتاً علم دین ایسی قیمتی چیز ہے جس میں محنت بھی کم اور خرچ بھی کم ہے ۔تعلیم حاصل کرنے والا دین سے نا آشنا نہیں رہتا ہے خواہ ذہین ہویا بلید، تیز ذہن کا مالک ہویا کند ذہن ،بودہ ہو یا ہوشیار،احمق ہو یا ذکی،دین سے محروم نہیں رہتا ہے
محمد شعیب قاسمی سیتاپوری۔مدرسہ دار الرشاد بنکی بارہ بنکی