گھر کا بڑا بیٹا: وہ جس کے حصے میں قربانیاں آئیں، مگر اعتراف نہ آیا

ہمارا معاشرہ عجیب تضادات کا شکار ہو چکا ہے۔ یہاں ہر شخص اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، مگر اپنے فرائض یاد نہیں رکھتا۔ ہر کوئی محبت چاہتا ہے، لیکن محبت کا صلہ دینا بھول جاتا ہے۔ انہی تلخ حقیقتوں میں ایک حقیقت گھر کے بڑے بیٹے کی بھی ہے؛ وہ بیٹا جسے بچپن سے یہ کہہ کر بڑا کر دیا جاتا ہے کہ "تم بڑے ہو، تمہیں سمجھنا ہوگا۔"
یہ جملہ بظاہر تربیت کا حصہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک بچے سے اس کا بچپن چھین لیا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھوں سے کھلونے لے کر ذمہ داریوں کا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کی خواہشوں کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ گھر پہلے ہے، تم بعد میں۔
وقت گزرتا ہے، مگر اس بڑے بیٹے کی ذمہ داریاں کم نہیں ہوتیں بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اگر گھر میں مالی تنگی ہے تو سب کی نظریں اسی پر ہوتی ہیں۔ اگر والد بیمار ہیں تو دواؤں کا انتظام اسی نے کرنا ہے۔ اگر والدہ کو ہسپتال لے جانا ہے تو وہی جائے گا۔ اگر بہن کی شادی ہے تو جہیز سے لے کر ہر انتظام اسی کے کندھوں پر ہوگا۔ اگر بھائی کی تعلیم ہے تو فیس بھی وہی بھرے گا۔ گھر میں کوئی خوشی آئے یا غم، ہر موقع پر سب سے پہلے اسی کا نام لیا جاتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے اس بڑے بیٹے سے پوچھا کہ تم کیسا ہو؟
کیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جو دوسروں کے آنسو پونچھتا ہے، اس کی اپنی آنکھیں کب سے نم ہیں؟ جو سب کے لیے ہنستا ہے، وہ رات کے اندھیرے میں کس درد کے ساتھ سوتا ہے؟ جو سب کو سہارا دیتا ہے، آخر اسے سہارا کون دیتا ہے؟
ہمارے معاشرے کا ایک اور ظلم یہ ہے کہ جب یہی بڑا بیٹا اپنی جوانی گھر کی بنیادیں مضبوط کرنے میں گزار دیتا ہے، اپنے خواب قربان کر دیتا ہے، اپنی پسند کی زندگی چھوڑ دیتا ہے، تب ایک دن اسی سے کہا جاتا ہے:
"آخر تم نے کیا کیا ہے؟"
یہ الفاظ صرف ناشکری نہیں، بلکہ ایک ایسی بے حسی ہیں جو انسان کے دل کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ برسوں کی محنت، بے شمار قربانیاں، بے خواب راتیں، ادھورے خواب، خاموش آنسو، سب کچھ ایک جملے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
افسوس! ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں والدین کبھی کبھی اپنی ہی اولاد کے درمیان انصاف کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایک بیٹا اپنی پوری زندگی گھر پر لگا دیتا ہے، مگر جب حالات بہتر ہو جاتے ہیں تو اس کی قربانیوں کو معمول بنا دیا جاتا ہے، جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ذمہ داریوں سے دور رہے، کبھی کبھی تعریف اور محبت کے زیادہ مستحق بنا دیے جاتے ہیں۔
یہ صرف بڑے بیٹے کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ اس اسلامی تعلیم سے بھی انحراف ہے جس میں اولاد کے درمیان عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ہر اولاد کے ساتھ انصاف کریں، مگر اس اولاد کی قربانیوں کو ہرگز فراموش نہ کریں جس نے اپنی زندگی ان کی خدمت میں گزار دی۔
یاد رکھیے! بڑا بیٹا پتھر نہیں ہوتا، اس کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے۔ اسے بھی محبت چاہیے، حوصلہ چاہیے، عزت چاہیے، دو بولِ تعریف چاہیے۔ وہ بھی کبھی کسی کے کندھے پر سر رکھ کر رونا چاہتا ہے، مگر اسے رونے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، کیونکہ اسے ہر وقت مضبوط رہنے کا سبق دیا گیا ہے۔
معاشرے کے نام میرا ایک سوال ہے:
کیا ہم نے کبھی کسی بڑے بیٹے کو اس کی قربانیوں کا صلہ دیا؟ کیا کبھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا کہ "بیٹا! تم نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہے، اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔"
اگر نہیں، تو پھر ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔
اور والدین سے بھی ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ اولاد کے درمیان انصاف کیجیے۔ جس بیٹے نے اپنی جوانی آپ کی خدمت، آپ کے علاج، آپ کے گھر اور آپ کے خاندان پر لگا دی، کم از کم اس کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کیجیے۔ اس کی قربانیوں کو طعنوں سے نہیں، دعاؤں سے نوازئیے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ گھر کا بڑا بیٹا اکثر گھر کی دیوار کی طرح ہوتا ہے؛ جب تک دیوار مضبوط کھڑی رہتی ہے، کسی کو اس کی قدر نہیں ہوتی، مگر جب وہ دراڑ کھا جائے تو پورا گھر ہلنے لگتا ہے۔
اس لیے اس دیوار کو ٹوٹنے سے پہلے پہچانیے، اس کا سہارا بنیے، اس کی قدر کیجیے، کیونکہ بعض لوگ اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے جیتے ہیں، مگر ان کے حصے میں صرف خاموشی، تنہائی اور بے قدری آتی ہے۔
-------------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ 
رابطہ: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا