اسلام میں اعتدال کا صحیح تصور اور افراط و تفریط کی حقیقت
ایک بار ضرور مطالعہ فرمائیں۔
مضمون (113)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، أما بعد:
محترم قارئین! - اسلام ایک ایسا کامل اور آفاقی دین ہے جس کی ہر تعلیم عدل، حکمت، رحمت اور توازن پر مبنی ہے۔ اس نے انسان کی انفرادی، خاندانی، معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کے ہر گوشے کے لیے ایسے اصول عطا کیے ہیں جو نہ صرف فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے یکساں قابلِ عمل بھی ہیں۔ انہی بنیادی اصولوں میں سے ایک نہایت اہم اصول "اعتدال" ہے، جسے قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کی نمایاں صفت قرار دیا ہے۔
بدقسمتی سے آج "اعتدال" ان الفاظ میں شامل ہو گیا ہے جن کا استعمال تو بہت ہوتا ہے، مگر ان کا صحیح مفہوم کم ہی سمجھا جاتا ہے۔ کوئی شخص اپنے نظریے کو اعتدال کا نام دیتا ہے، تو کوئی دوسرا اپنی جماعت کو معتدل قرار دیتا ہے، جبکہ مخالف اور مخالفت کو انتہاپسند کہنے میں دیر نہیں لگتی۔ بعض اوقات تو گناہوں اور شرعی کوتاہیوں کو بھی "اعتدال" کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، جس سے اس مبارک اصطلاح کا مفہوم مزید دھندلا جاتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام میں اعتدال کا صحیح معیار کیا ہے؟ کیا اعتدال صرف "بیچ کا راستہ" اختیار کرنے کا نام ہے؟ یا اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور اصولی ہے؟ عام طور پر اعتدال کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ "ہر معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کیا جائے۔" بظاہر یہ تعریف درست معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر اسے ہر مسئلے پر منطبق کر دیا جائے تو بہت سے علمی اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔ ذرا یہ چند سوالات پر غور کیجیے۔
کیا ایمان اور کفر کے درمیان بھی کوئی درمیانی راستہ ہے؟
کیا سچ اور جھوٹ کے درمیان بھی کوئی معتدل راستہ ہو سکتا ہے؟
کیا حلال اور حرام کو ملا دینا اعتدال کہلائے گا؟
کیا عدل اور ظلم کے درمیان کوئی ایسی منزل ہے جسے اسلام پسند کرتا ہو؟
ہر صاحبِ عقل کا جواب یہی ہوگا کہ ہرگز نہیں۔ تو یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال کا مطلب ہر جگہ "بیچ کا راستہ" اختیار کرنا نہیں، بلکہ


شریعت کی اصطلاح میں اعتدال.
"شریعت کی اصطلاح میں اعتدال سے مراد یہ ہے کہ انسان دین و دنیا کے ہر معاملے میں قرآن و سنت کی مقرر کردہ حدود کے مطابق حق، عدل اور استقامت پر قائم رہے، نہ افراط اختیار کرے، نہ تفریط، اور نہ ہی کسی صریح معصیت، حرام عمل یا حق و باطل کے درمیان سمجھوتے کو اعتدال سمجھے۔"
اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط بنایا۔"
(سورۃ البقرۃ: 143)
اس آیت میں لفظ "وسط" سے مراد صرف درمیان ہونا نہیں، بلکہ عدل، انصاف، توازن اور بہترین امت ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ، امام طبری، امام قرطبی، حافظ ابن کثیر اور دیگر مفسرین رحمہم اللہ نے بھی یہاں "وسط" کی تفسیر "عدل" سے فرمائی ہے۔(تفسیر ابن کثیر /ص265جامع البيان عن تأويل آي القرآن للطبري جلد سوم )
گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے "امتِ وسط" فرمایا کہ وہ ہر معاملے میں حق و انصاف پر قائم رہے، نہ خواہشات کی پیروی کرے اور نہ ہی ظلم و زیادتی کی راہ اختیار کرے۔
اسی مفہوم کو قرآنِ کریم ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے:
﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ﴾
"پس تو جما رہ جیسا کہ تجھے حکم دیا گیا ہے ۔"(سورۃ ہود: 112. مزید علمی نکات کے لیئے تفسیر ابن کثیر ص 740 پڑھیں )
غور کیجیے! یہاں اللہ تعالیٰ نے "درمیانی راستہ" اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ جس حق کا حکم دیا گیا ہے، اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہی دراصل اسلامی اعتدال کی روح ہے۔
اس حقیقت کو ایک سادہ مثال سے سمجھیے۔ مثلاً فرض کیجیے ایک ترازو ہے۔ اگر اس کے دونوں پلڑوں میں برابر وزن رکھا جائے تو ترازو متوازن رہتا ہے۔ یہ اعتدال کی ایک مثال ہے، کیونکہ دونوں طرف ایک ہی نوعیت کا وزن موجود ہے۔
لیکن اگر ایک پلڑے میں خالص شہد رکھا ہو اور دوسرے پلڑے میں مہلک زہر، تو کیا اعتدال یہ ہوگا کہ دونوں کو ملا کر استعمال کر لیا جائے؟
ہرگز نہیں۔ ایسے موقع پر اعتدال یہ نہیں کہ حق اور باطل میں سمجھوتہ کر لیا جائے، بلکہ اعتدال یہ ہے کہ شہد کو محفوظ رکھا جائے اور زہر سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
بالکل اسی طرح اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ ایمان اور کفر، سچ اور جھوٹ، حلال اور حرام یا عدل اور ظلم کے درمیان کوئی "درمیانی راستہ" تلاش کیا جائے، بلکہ وہ حکم دیتا ہے کہ حق کو مضبوطی سے اختیار کیا جائے اور باطل کو پوری طرح چھوڑ دیا جائے۔
یہاں ایک نہایت اہم اصول ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اسلام میں اعتدال ہمیشہ حق کے تابع ہے، حق اعتدال کے تابع نہیں۔ یعنی پہلے قرآن و سنت یہ طے کریں گے کہ حق کیا ہے، پھر اسی پر ثابت قدم رہنا اعتدال کہلائے گا۔
اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اعتدال کا مطلب ہر جگہ درمیانی راستہ نہیں، تو پھر اسلام کن معاملات میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جن امور میں افراط (حد سے بڑھ جانا) اور تفریط (کوتاہی کرنا) دونوں کا امکان ہو، وہاں اسلام عدل، توازن اور میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔اسی کو سمجھنے کے لیئے آپ( ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب "اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصرصفحہ 17 سے پڑھیں )
اس کی سب سے پہلی مثال عبادت ہے۔
اسلام نہ تو عبادت میں غلو پسند کرتا ہے اور نہ غفلت۔ اگر کوئی شخص نفلی عبادت میں اس قدر مشغول ہو جائے کہ والدین، اہل و عیال، صحت یا معاشی ذمہ داریوں کے حقوق ضائع ہونے لگیں تو یہ افراط ہے، اور اگر کوئی دنیا کی مصروفیات میں اس قدر گم ہو جائے کہ فرض نمازیں، روزے اور دیگر فرائض بھی چھوڑ دے تو یہ تفریط ہے۔
اسلام ان دونوں انتہاؤں کو رد کرتے ہوئے فرائض کی پابندی، سنتوں اور نوافل کا اہتمام، اور ساتھ ہی دیگر شرعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابو الدرداءؓ سے فرمایا:
"تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے، اور تمہارے اہل کا بھی تم پر حق ہے، لہٰذا ہر حق دار کو اس کا حق دو۔"
رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تائید فرمائی۔
(صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6139)
اسی طرح مال خرچ کرنے میں بھی اسلام نے اعتدال کی تعلیم دی ہے۔
نہ اسراف اور فضول خرچی کی اجازت ہے، نہ بخل اور کنجوسی کی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾
"اور اللہ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل، بلکہ ان دونوں کے درمیان عدل و توازن کی راہ اختیار کرتے ہیں۔"
(سورۃ الفرقان: 67)
یہاں بھی "درمیان" سے مراد یہ نہیں کہ کچھ اسراف بھی کر لیا جائے اور کچھ بخل بھی، بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہر خرچ شریعت، ضرورت اور حکمت کے مطابق ہو۔
اسی طرح محبت اور نفرت میں بھی اسلام اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔
نہ اندھی محبت درست ہے کہ انسان محبوب کی ہر غلطی کو بھی صحیح ثابت کرنے لگے، اور نہ اندھی نفرت درست ہے کہ اختلاف کی وجہ سے کسی کی ہر خوبی کا بھی انکار کر دیا جائے۔
اسی طرح دنیا اور آخرت کے معاملے میں بھی اسلام نہ رہبانیت سکھاتا ہے اور نہ دنیا پرستی، بلکہ حلال روزی کمانے، دنیاوی ذمہ داریاں ادا کرنے اور آخرت کی تیاری کو زندگی کا اصل مقصد بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔
ان تمام مثالوں سے ایک حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اعتدال صرف انہی امور میں ہوتا ہے جہاں افراط اور تفریط دونوں کا امکان موجود ہو، اور شریعت ان دونوں سے بچ کر حق و توازن کی راہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ہر معاملے میں اعتدال مطلوب ہے؟
یا _کیا بعض امور ایسے بھی ہیں جن میں اعتدال کا تصور ہی درست نہیں؟
یہاں ایک نہایت اہم اصول سمجھ لینا ضروری ہے، کیونکہ اسی مقام پر "اعتدال" اور "معصیت" کے درمیان خلطِ مبحث پیدا ہو جاتا ہے۔

افراط و تفریط کیا ہے. 
ہر غلطی کو افراط و تفریط قرار دینا علمی طور پر درست نہیں۔ افراط و تفریط دراصل ایک کیفیت کا نام ہے، یعنی کسی جائز یا مشروع عمل میں حد سے تجاوز کرنا (غلو اختیار کرنا) افراط کہلاتا ہے، جبکہ کسی جائز یا مشروع عمل میں کوتاہی کرنا یا اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا تفریط کہلاتا ہے۔

لہٰذا.. : اس اصول کا اطلاق ہر غلطی یا ہر گناہ پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شریعت نے بعض اعمال کی حیثیت خود مستقل طور پر متعین کر دی ہے۔
چنانچہ خیانت، رشوت، غصب، ظلم، جھوٹ، سود، وعدہ خلافی اور دیگر صریح معاصی افراط و تفریط کی مجرد صورتیں نہیں، بلکہ شریعت کے مستقل احکام ہیں، جن کی حرمت قرآن و سنت نے واضح طور پر بیان کر دی ہے۔ ان میں اعتدال نہیں بلکہ مکمل اجتناب، توبہ اور اللہ کی اطاعت مطلوب ہے۔

البتہ بعض اوقات افراط یا تفریط ایسے گناہوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ مثلاً مال کی بے جا محبت انسان کو خیانت تک پہنچا دیتی ہے، یا جماعتی وابستگی میں غلو اسے تعصب، ناانصافی اور حق کے انکار تک لے جاتا ہے۔ اس لیے افراط و تفریط کو بسا اوقات بعض گناہوں کا سبب تو کہا جا سکتا ہے، مگر شرعی اعتبار سے اصل جرم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی ہے، جس کی متعدد صورتیں ہیں، مثلاً خیانت، غصب، رشوت، جھوٹ، وعدہ خلافی، ظلم، تعصب اور دیگر معاصی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے.
.
لہٰذا جہاں شریعت نے افراط و تفریط سے بچنے کی تعلیم دی ہے ، وہاں اعتدال مطلوب ہے؛ لیکن جہاں کسی عمل کو صریح حرام اور گناہ قرار دیا ہے ، وہاں اعتدال نہیں بلکہ اس کا مکمل ترک ہی مطلوب ہے۔ یہی فرق ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے اعتدال کے مفہوم میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس فرق کو چند واضح مثالوں سے سمجھنا آسان ہوگا
مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ "میں کبھی سچ میں جھوٹ ملا کر بولتا ہوں اور کبھی جھوٹ میں سچ ملا کر ، یہی اعتدال ہے"، تو یہ بات نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ شریعت کے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"
(سورۃ التوبۃ: 119)
یہاں اللہ تعالیٰ نے سچائی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، نہ کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کا۔
اسی طرح امانت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾
"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔"
(سورۃ النساء: 58)
اس آیت میں بھی کامل ادائیگیِ امانت کا حکم ہے، نہ کہ کچھ امانت ادا کر دی جائے اور کچھ میں خیانت کر لی جائے۔
اسی طرح رشوت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے رشوت لینے والے، رشوت دینے والے اور ان دونوں کے درمیان واسطہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے۔(سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2313)
لہٰذا یہ کہنا کہ "ہم کم رشوت لیتے ہیں، اس لیے معتدل ہیں" اسلام کے تصورِ اعتدال کے سراسر خلاف ہے۔
اسی طرح وعدہ خلافی بھی ایسا عمل نہیں جس میں کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"منافق کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔(صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 33)
یہاں بھی مطلوب صرف وعدے کی پابندی ہے، نہ کہ "کچھ وعدے پورے کر لینا اور کچھ توڑ دینا"۔
اسی اصول کو ظلم، سود، دھوکہ، جھوٹی گواہی، حرام کمائی اور دیگر تمام صریح گناہوں پر منطبق کیا جائے گا۔ ان میں اعتدال کا نہیں بلکہ اجتناب اور توبہ کا حکم ہے۔

؛ جماعتی وابستگی اور اسلامی اعتدال ؛
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔
آج کل بعض اوقات جماعتی، مسلکی یا شخصی وابستگی کو بھی "اعتدال" کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ اعتدال کا نہیں بلکہ عدل اور انصاف کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی جماعت یا اپنے شیخ سے محبت رکھتا ہے تو یہ فطری بات ہے، لیکن اگر یہی محبت اسے اس مقام تک پہنچا دے کہ وہ ان کی ہر بات کو بلا دلیل صحیح سمجھے اور دوسروں کی ہر بات کو بلا تحقیق غلط قرار دے تو یہ اعتدال نہیں بلکہ تعصب ہے.
اسی طرح اگر کوئی شخص محض اختلاف یا جماعتی تعصب کی بنا پر دوسرے اہلِ علم، دوسری جماعت یا کسی دوسرے دینی ادارے کی ثابت شدہ خدمات کا جان بوجھ کر انکار کرے، یا ان کے بارے میں خلافِ واقعہ باتیں پھیلائے، تو یہ محض بے اعتدالی نہیں بلکہ ناانصافی، کتمانِ حق اور بسا اوقات جھوٹ و بہتان جیسے صریح گناہوں میں شمار ہوگا، جن کے بارے میں شریعت کے واضح احکام موجود ہیں۔

اسلام کا اصول نہایت واضح ہے کہ: حق کو دلیل کی بنیاد پر قبول کیا جائے اور باطل کو دلیل کی بنیاد پر رد کیا جائے، خواہ وہ کسی اپنے کی طرف سے ہو یا کسی دوسرے کی طرف سے۔
اسی لیے قرآنِ کریم نے فرمایا:
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾
"کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔"
(سورۃ المائدۃ: 8)
اس آیت نے محبت، نفرت، موافقت اور مخالفت ہر حال میں عدل کو لازم قرار دیا ہے، اور یہی اسلامی اعتدال کا حقیقی مزاج ہے۔

اعتدال کو سمجھنے کے تین سنہری اصول.
پہلا سنہری اصول:
ہر درمیانی چیز اعتدال نہیں، بلکہ ہر وہ چیز اعتدال ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔
دوسرا سنہری اصول:
ہر گناہ میں اعتدال نہیں ہوتا؛ گناہ میں صرف توبہ، اجتناب اور اللہ کی اطاعت مطلوب ہوتی ہے۔
تیسرا سنہری اصول:
اعتدال کا معیار لوگوں کی خواہشات، جذبات، شخصیات یا اکثریت نہیں، بلکہ قرآن و سنت ہیں۔
یہ تین اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہیں تو اعتدال کے بارے میں پیدا ہونے والی اکثر غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

اعتدال، تسامح اور مداہنت میں فرق

اسلام کے تصورِ اعتدال کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اعتدال، تسامح اور مداہنت کے درمیان فرق کو جاننا بھی ضروری ہے، کیونکہ ان تینوں کو ایک سمجھ لینا علمی اور عملی دونوں اعتبار سے غلطی کا سبب بنتا ہے
مندرجہ بالا بحث سے اعتدال کا صحیح شرعی مفہوم واضح ہو چکا ہے۔ تاہم اس تصور کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ایک اور اہم فرق جاننا ضروری ہے، کیونکہ آج کل اعتدال، تسامح اور مداہنت کو ایک ہی مفہوم میں سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کی نظر میں یہ تینوں الگ الگ اصطلاحات ہیں۔

تسامح کا مطلب حسنِ اخلاق، برداشت اور معاملات میں نرمی ہے، نہ کہ حق سے دست بردار ہونا۔ مثلاً کوئی غیر مسلم پڑوسی ہو تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور اچھے اخلاق سے پیش آنا اسلامی تسامح ہے، لیکن اس کے مذہبی عقائد کو حق مان لینا یا ان کی تائید کرنا تسامح نہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ﴾
"تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے۔"
(سورۃ الکافرون: 6)

مداہنت اس کے برعکس یہ ہے کہ کسی کے دباؤ، مفاد یا خوشنودی کی خاطر دین کے مسلمہ اصولوں پر سمجھوتہ کر لیا جائے۔ مثلاً حق بات جاننے کے باوجود کسی بااثر شخص یا جماعت کی ناراضی سے بچنے کے لیے اسے حق قرار دینا یا باطل پر خاموش رہنا مداہنت ہے، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
اسی رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾
"وہ چاہتے ہیں کہ آپ (دین کے معاملے میں) نرمی اختیار کریں، تو وہ بھی نرمی اختیار کریں۔"
(سورۃ القلم: 9)
لہٰذا ایک مسلمان حق پر ثابت قدم رہنے میں معتدل، معاملات میں خوش اخلاق اور نرم خو، لیکن دین کے اصولوں میں ہرگز مداہنت کرنے والا نہیں ہوتا۔ یہی قرآن و سنت کا متوازن مزاج اور "امتِ وسط" کی حقیقی پہچان ہے۔

مختصراً،
اعتدال حق پر استقامت کا نام ہے، تسامح حسنِ اخلاق کا، اور مداہنت حق پر سمجھوتے کا۔ ان تینوں کا فرق ملحوظ رکھنا ہر طالبِ علم اور داعی کے لیے ناگزیر ہے۔"

امتِ وسط کی ذمہ داری
امتِ وسط ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملے میں قرآن و سنت کو اپنا معیار بنائیں، حق کو دلیل کی بنیاد پر قبول کریں، باطل کو دلیل کی بنیاد پر رد کریں، اور محبت، نفرت، اختلاف و اتفاق ہر حال میں عدل، دیانت اور حسنِ اخلاق کو مقدم رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو اتحاد، استحکام اور عزتِ رفتہ کی طرف واپس لے جا سکتا ہے۔

جامع خلاصہ
اس پورے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اعتدال کا معیار "درمیانی راستہ" نہیں بلکہ قرآن و سنت ہیں۔
جہاں افراط و تفریط کا امکان ہو وہاں اعتدال مطلوب ہے۔
جہاں شریعت نے کسی عمل کو حرام قرار دیا ہو وہاں اعتدال نہیں بلکہ مکمل اجتناب مطلوب ہے۔
اعتدال، تسامح اور مداہنت تین الگ الگ مفاہیم ہیں، جنہیں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
الغرض. اسلام کا صحیح تصورِ اعتدال یہی ہے کہ انسان ہر حال میں حق، عدل اور استقامت کو اختیار کرے، نہ افراط کا شکار ہو، نہ تفریط کا، اور نہ دین کے اصولوں پر مداہنت کرے۔ یہی "امتِ وسط" کا حقیقی وصف اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ اسلام میں اعتدال کا مطلب ہر ایک کو خوش کرنا نہیں، بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے حق، عدل اور حکمت پر قائم رہنا ہے۔"اللہ تعالیٰ سے دعاء گو ہوں اللہ ہم سب کو اعتدال پر ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔"
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com