جتنا زنا کو آسان کر دیا گیا ہے
 اتنا ہی نکاح کو مشکل بنا دیا گیا ہے

_جب کسی شخص کو بہت زیادہ بھوک لگی ہو اور کھانا اس کے بہت پاس رکھا ہو،
وہ یہ نہیں  دیکھتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ہے
وہ اپنے دل کی سنتا ہے
 اور بھوک مٹا لیتا ہے 
جب حلال کھانے میں بہت مشکلات پیدا کر دی جائیں،
_اور طرح طرح کی پابندیاں لگا دی جائیں،
 تو کون حلال کھانے جائے گا۔۔۔۔۔؟
 جب اسے حرام کھانا اتنی آسانی سے مل رہا ہے۔۔۔۔۔؟
یہاں کھانے سے مراد جسمانی بھوک ہے

حرام رشتہ، دوستی، تعلق =
 آسان، فری، کوئی سوال نہیں۔  

حلال نکاح =
 جہیز، لاکھوں کا خرچہ، سالوں انتظار، 100 شرطیں۔

تو
جب حلال کو اتنا مشکل بنا دیں گے تو لوگ آسان راستہ ہی چنیں گے۔

یہ تحریر ہمیں جھنجھوڑتی ہے
کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے حلال کو مشکل اور حرام کو آسان کر دیا ہے۔  

پھر شکایت بھی کرتے ہیں کہ "نوجوان بھٹک گئے ہیں"۔

عائشہ 🍁