خلافت عباسیہ کے ایک خلیفہ گزرے ہیں ان کا نام ابو جعفر منظور تھا ان کا ایک درباری تھا،جس کا نام موسی بن عیسیٰ ہاشمی تھا ، وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا، ایک دن چاندنی رات میں بیوی کے ساتھ بیٹھا ہواتھا فرط محبت میں بول اٹھا
(أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِنْ لَمْ تَكُونِي أَحْسَنَ مِنَ الْقَمَرِ)
تم پر تین طلاقیں ہوں، اگر تم چاند سے زیادہ حسین نہ ہو۔"
بیگم صاحبہ بہت پریشان ہوئی،پردہ میں چلی گئیں،شوہر کے پاس آنا جانا بند کردیا
شوہر نے دل لگی میں یہ الفاظ کہے تھے مگر جب ان کو ہوش آیا تو انھیں بھی فکر دامن گیر ہوئی انکی رات بڑے قلق واضطراب میں گزری -
صبح خلیفۂ وقت کے دربار میں حاضر ہوۓ اپنا دکھڑا سنایا چناں چہ بادشاہ نے شہر کے تمام فقہاء کو جمع کیا اور یہی سوال کیا سب نے بیک زبان کہا کہ طلاق ہوگئی ہے لیکن ایک عالم تھے جوامام ابوحنیفہ رحمہ کے شاگردوں میں سے تھے انھوں نے کہا طلاق نہیں ہویی وجہ پوچھی گئی تب بولے کہ قرآن کا ارشاد ہے کہ (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾"یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت (اور نہایت عمدہ انداز) پر پیدا کیا ہے۔"آیت کے بعد فرمایا: اللہ نےہر انسان کا احسن تقویم میں ہونا بیان کیا ،کوئی شئ اس سے زیادہ حسین نہیں ہے
یہ سن کر علماءوفقہاء دم بخود رہ گیے کسی نے مخالفت نہ کی منصور نے حکم دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ہے
(معارف القرآن ۔ج٨ص١٣٤)