امام صاحب حتی الامکان مومن کی تکفیر سے اعتراض کرتے تھے، امام صاحب کا مسلک تھا کہ اگر کسی مسلمان میں کفر کے 99 وجوہات ہوں اور صرف ایک وجہ ایمان کی موجود ہو، تو اسی کو ترجیح دی جائے گی اور ممکن حد تک مومن کے فعل کی تاویل کی جائے گی؛
چنانچہ امام صاحب کے مختلف زوانح نگاروں نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص امام صاحب کی مجلس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ایک شخص اپنے اپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے
اس کے باوجود وہ جنت کی خواہش نہیں رکھتا جہنم سے ڈرتا نہیں، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع و سجدے کی نماز پڑھتا ہے، اس چیز کی شہادت دیتا ہے، جسے اس نے دیکھا تک نہیں، حق بات کو ناپسند کرتا ہے، رحمت خداوندی سے دور بھاگتا ہے اور یہود و نصاری کی تصدیق کرتا ہے، بظاہر یہ سب وجوہات کفر ہیں جو اس شخص میں موجود ہیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟