صفر المظفر: توہمات سے حقیقت تک، اصلاحِ فکر کا مہینہ
از: محمد معصوم ارریاوی
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد!
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر کہلاتا ہے۔ یہ مہینہ اپنی آمد کے ساتھ ہر سال مسلمانوں کو ایک اہم سبق دیتا ہے کہ انسان کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا تعلق کسی مہینے، دن یا تاریخ سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت، تقدیر اور بندے کے اعمال سے وابستہ ہے۔ افسوس کہ زمانۂ جاہلیت کی بعض غلط رسومات اور بے بنیاد توہمات آج بھی بعض معاشروں میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں، جن کی اصلاح قرآن و سنت کی روشنی میں ضروری ہے۔
لفظ "صفر" کے بارے میں اہلِ لغت نے متعدد آراء ذکر کی ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ عرب اس مہینے میں جنگ و تجارت کے لیے اپنے گھروں کو خالی (صفر) کر دیتے تھے، جبکہ بعض نے اس کی دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ بہرحال، اسلام نے کسی مہینے کے نام کو خیر یا شر کا معیار قرار نہیں دیا۔
زمانۂ جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ صفر منحوس مہینہ ہے، اس میں شادی بیاہ، سفر، کاروبار یا نئے کام کا آغاز کرنا باعثِ نقصان ہے۔ اسلام نے اس باطل عقیدے کو جڑ سے ختم کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا:
«لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ» (بخاری، مسلم)
ترجمہ: "کوئی بیماری خود بخود متعدی نہیں، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ہی صفر (کی کوئی نحوست) ہے۔"
یہ حدیث اسلام کے اس بنیادی عقیدے کو واضح کرتی ہے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
آج بھی بعض لوگ صفر کے مہینے میں نکاح، مکان کی تعمیر، کاروبار کے آغاز یا سفر سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح مخصوص تاریخوں میں خاص رسومات یا غیر ثابت عبادات کو لازم سمجھنا بھی درست نہیں۔ مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر دن اور ہر مہینہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور ہر وقت میں خیر و برکت اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔
البتہ یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ اگرچہ صفر کے مہینے کی کوئی مخصوص فضیلت صحیح احادیث سے ثابت نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس مہینے میں عبادت یا نیکی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے سال کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، ذکر، تلاوتِ قرآن، نماز، صدقہ و خیرات اور حسنِ اخلاق سے مزین ہونا چاہیے۔ جو شخص ہر وقت اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھتا ہے، وہ توہمات اور بے بنیاد اندیشوں سے محفوظ رہتا ہے۔
صفر المظفر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی بنیاد علم، یقین اور وحی پر ہے، نہ کہ سنی سنائی باتوں، افواہوں اور معاشرتی روایات پر۔ جب تک مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے نہیں تھامیں گے، تب تک وہ مختلف قسم کے توہمات اور بدعات کا شکار ہوتے رہیں گے۔
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، طلبہ اور اہلِ علم عوام الناس کو صحیح اسلامی عقائد سے روشناس کرائیں، انہیں یہ سمجھائیں کہ نحوست کا تعلق مہینوں سے نہیں بلکہ گناہوں سے ہے، اور برکت کا تعلق تاریخوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ہے۔ اگر ہم اپنے عقائد کو خالص رکھیں، تو ہماری زندگی سے بے شمار بے بنیاد خوف اور وسوسے ختم ہو جائیں گے۔
ماہِ صفر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی تجدید کریں، توکل علی اللہ کو مضبوط بنائیں، ہر قسم کی بدشگونی اور توہم پرستی سے اجتناب کریں اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ یہی ایک سچے مسلمان کی پہچان اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، کامل توکل، سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع اور ہر قسم کی بدعات و توہمات سے حفاظت نصیب فرمائے، اور ہماری زندگی کو ایمان، عملِ صالح اور خیر و برکت سے بھر دے۔
آمین یا رب العالمین۔