حضرت شیخ الہند رح بیماری کی حالت میں ہوں چاہے کتنا بھی کمزور اور لاغر ہوں مگر نماز بالکل بھی نہیں چھوڑتے تھے گویا کہ نماز انکی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی 
جیسا کہ مفتی عاشق الٰہی میرٹھی صاحب بیان کرتے ہیں 
 وصال کے دوران وصال سے دو دن قبل  حاضر
 ہوا تو ضعف کی وجہ سے آپ کو کروٹ بدلنا دشوار تھا اور اکثر غشی طاری رہتی تھی مگر جب خادم نماز کا وقت ہو جانے
کی اطلاع دیتاتو آپ ایسے مستعد ہو جاتے تھے گویا تندرست ہیں، میری موجودگی میں عصرکا وقت آیا اور خادم نے آپ کے کان کے قریب جا کر کہا کہ نماز کاوقت ہو گیا،توآپ نے فورا آنکھیں کھولیں اور اشارہ کیا کہ مجھے اتارو، چنانچہ دو آدمیوں نے آپ کو اٹھا کر بٹھایا اور وضو کرایا اس کے بعد پلنگ سے نیچے مصلے پر آپکو کھڑا کیا اور آپ نے اشارہ سے فرمایا کہ ہاتھ چھوڑ دو سہارے کی ضرورت نہیں۔ میں مجسم حیرت بنا ہوا دیکھ رہا تھا کہ  ضعیف جثہ جن سے پہلو بدلنا دشوار تھا کس ہمت کے ساتھ ظاہری سہارے کے بغیر ایسا چت کھڑا ہے گویا مضبوط سپاہی ہے جس کو پہر ےپر تعینات کیا گیا ہے چونکہ آپ دہلی میں بغرض علاج ٹھیرے ہوئے تھے اس لئے قصر نماز پڑھی اور دوسری رکعت پر جب سلام پھرا تو فوراً بے اختیار گاؤ تکیہ پر سررکھ دیا اور دیرتک بات یا اشارہ بھی نہ فرمائے  بس وقتی طاقت تھی جو صرف نماز کے دو فرض ادا کرنے کے لئے بجلی کی طرح بدن میں جاری ہوتی اور سلام پھیرتے ہی نکل جاتی تھی کہ پھر وہی ضعف دبا لیتا اور آپ کو فرش   پرگرا دیتا