جب خیر خواہی بھی الزام بن جائے
عدل، امانت اور ذمہ داری کا گم ہوتا شعور
(مضمون 112)
بسم اللہ الرحمن الرحیم.
محترم قارئین کرام!انسانی معاشرے کی مضبوطی صرف خون کے رشتوں سے نہیں بلکہ عدل، دیانت، امانت، خیر خواہی اور باہمی اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو وہاں اختلاف بھی فساد کا روپ اختیار نہیں کرتا، لیکن جب انصاف کا ترازو مفادات کے ہاتھوں بک جائے، رشتہ داری حق پر غالب آ جائے، ذاتی خواہشات اجتماعی ذمہ داریوں پر حاوی ہو جائیں اور خیر خواہی کو دشمنی سمجھ لیا جائے تو پھر خاندان اور رشتے بکھرنے لگتے ہیں، بھائی بھائی سے، بہن بہن سے اور رشتہ دار ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہو جاتے ہیں۔ دل ٹوٹ جاتے ہیں، اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو بیٹھتا ہے۔
اسلام نے ایسے ہی نازک مواقع کے لیے عدل و انصاف کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾
"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف یا والدین اور قریبی رشتہ داروں ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔" (النساء: 135)
یہ وہ ابدی معیار ہے جس پر ایک صالح اسلامی معاشرہ قائم ہوتا ہے، نہ کہ مفاد، تعصب، خاندانی وابستگی یا کسی بھی قسم کی جانبداری پر۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے عدل اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک ایسا سنہری اصول عطا فرمایا جس پر اگر عمل کیا جائے تو بے شمار تنازعات جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«انصر أخاك ظالماً أو مظلوماً»
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے ظلم سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے۔" (صحیح بخاری/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2443)
کتنی عظیم تعلیم ہے! اسلام کی نظر میں حقیقی خیر خواہی یہ نہیں کہ اپنے آدمی کی ہر حال میں حمایت کی جائے، بلکہ اصل خیر خواہی یہ ہے کہ اگر وہ ظلم کر رہا ہو تو اسے ظلم سے روکا جائے، اور اگر اس پر ظلم ہو رہا ہو تو اس کا حق دلایا جائے۔ یہی عدل ہے، یہی تقویٰ ہے اور یہی اخوتِ اسلامی کا حقیقی مفہوم ہے۔
افسوس! آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اکثر لوگ حق معلوم کرنے کے بجائے اپنے آدمی کو بچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ بعض لوگ آگ بجھانے کے بجائے کان بھرنے، بدگمانیاں پھیلانے اور دلوں میں نفرت کے بیج بونے کا کام کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معمولی نوعیت کا اختلاف مستقل دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور وہ رشتے جو محبت، اعتماد اور اخوت کی علامت ہونے چاہیئے تھے، نفرت اور انتقام کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاندان اور رشتہ داروں کے بزرگوں، ذمہ دار افراد اور بااثر شخصیات کا کردار سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ ان کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ کسی ایک فریق کے وکیل یا حمایتی بن جائیں، بلکہ ان کا منصب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے دونوں فریقوں کی بات سنیں، تحقیق کریں، عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں، حق دار کو اس کا حق دلائیں اور حکمت و بصیرت کے ساتھ صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یہی ان کا دینی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے، اور اسی امانت کے بارے میں قیامت کے دن ان سے باز پرس بھی ہوگی۔
چند روز قبل مجھے اپنے ہی رشتے داروں میں ایک ایسے اختلاف کا مشاہدہ ہوا، جس نے نہ صرف مجھے افسردہ کیا بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کر دیا۔ اختلاف کے دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکا رہے تھے، جبکہ چند بزرگ ایسے تھے جن کی بات دونوں طرف سنی اور مانی جا سکتی تھی۔
میں نے مناسب سمجھا کہ انہی بزرگوں سے تنہائی میں نہایت ادب، اخلاص اور ہمدردی کے ساتھ چند گزارشات کروں۔ میں نے عرض کیا:
"آپ لوگ خاندان.و رشتے کے بڑے ہیں، اس لیے آپ کی بات قبول کی جائے گی۔ لہٰذا کسی کی طرف داری نہ کیجیے، نہ کسی لالچ میں آئیے، نہ خاموش رہ کر ظلم کو بڑھنے دیجیے، بلکہ اللہ کو حاضر و ناظر اور پیارے رسول ﷺ کی محبت کو سینے میں محسوس کرتے ہوئے. عدل و انصاف کے ساتھ حق دار کو اس کا حق دلانے کی بھرپور کوشش کیجیے، تاکہ کل میدانِ محشر میں جواب دہی آسان ہو، دنیا میں آپ کی عزت و وقار بھی محفوظ رہے اور یہ نزاع باہمی صلح و انصاف کے ذریعے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔"
اس نصیحت میں نہ غصہ تھا، نہ دھمکی، نہ ذاتی مفاد اور نہ کسی کو نیچا دکھانے کا جذبہ، بلکہ مقصد صرف اصلاح، خیر خواہی، صلح اور آخرت کی یاد دہانی تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ان ذمہ دار افراد نے اللہ تعالیٰ کے خوف اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کیا تو ایک بکھرتا ہوا ٹوٹا دل دوبارہ جڑ سکتا ہے، دلوں میں پیدا ہونے والی دوریاں. میں پن. اور دونوں فریقین اس اختلاف کے تلخ اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔
اس خیر خواہانہ گفتگو کے بعد میرے دل میں اطمینان تھا کہ شاید اب بڑے (ذمہ دار) افراد اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے، دونوں فریقوں کو عدل و انصاف کی دعوت دیں گے اور اختلاف کے اس شعلے کو مزید بھڑکنے کے بجائے بجھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن افسوس! حالات نے ایسا رخ اختیار کیا جس کا نہ مجھے گمان تھا اور نہ ہی کسی ذی شعور انسان کو اس کی توقع ہو سکتی تھی۔
انہی بزرگوں میں سے ایک صاحب بیمار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جلد از جلد کامل شفا عطا فرمائے، ان کی بیماری کو ان کے لیے درجات کی بلندی اور گناہوں کا کفارہ بنائے۔ آمین۔
لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ بیماری کی اصل وجہ جاننے، علاج کرانے یا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے مجھ ہی پر یہ الزام عائد کر دیا گیا کہ "اسی نے مجھ پر جادو کر دیا ہے، اسی لیے میں بیمار ہوگیا ہوں۔" یہ الزام محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد طعن و تشنیع، سخت کلمات، ناروا تہمتیں اور دھمکی آمیز رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایک لمحے کے لیے میں حیران رہ گیا کہ جس شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا، عدل و انصاف کی نصیحت کی، آخرت کی جواب دہی یاد دلائی اور خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی، وہی آج الزام کا سب سے آسان ہدف بنا دیا گیا۔ میں نے خود سے کئی مرتبہ سوال کیا کہ آخر میرا قصور کیا تھا؟ کیا میں نے کسی کا حق مارنے کی تلقین کی تھی؟ کیا میں نے کسی فریق کی حمایت کی تھی؟ کیا میں نے کسی کو دھمکی دی تھی؟ یا کسی سے ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہا تھا؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ میری پوری گفتگو کا خلاصہ صرف اتنا تھا کہ حق دار کو اس کا حق ملے، کسی پر ظلم نہ ہو، خاندان محفوظ رہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی آسان ہو۔ پھر بھی اگر اس کا صلہ تہمت، بدگمانی اور الزام کی صورت میں ملے تو یقیناً یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک نہایت خطرناک فکری اور اخلاقی بیماری کی علامت ہے۔
یاد رکھیے! حق کی راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام، جو معصوم. بے مثل. با کمال برگزیدہ اللہ کے محبوب بندے تھے، انہیں بھی جھوٹا کہا گیا، جادوگر کہا گیا، دیوانہ کہا گیا اور ان پر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، مگر انہوں نے حق کا دامن نہیں چھوڑا، نہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی اصلاحِ امت کی جدوجہد ترک کی۔ لہٰذا اگر خیر خواہی، عدل اور اصلاح کی راہ میں کسی ایک عام انسان کو بے بنیاد الزامات، طعن و تشنیع یا مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تو اسے مایوس ہونے کے بجائے صبر، حکمت، استقامت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ حق کا راستہ آزمائشوں سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اس کا انجام ہمیشہ خیر اور کامیابی پر ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کسی کو آخرت یاد دلانا جادو ہے؟ کیا عدل کی دعوت دینا جرم ہے؟ کیا ظلم سے روکنا کسی مصیبت کا سبب بن جاتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ایسے بے بنیاد الزامات آخر کس ذہنیت اور کس اخلاقی زوال کی علامت ہیں؟آخر ہمارے مسلم معاشرے کو ہو کیا گیا ہے؟ وہ ذمہ دار اور بزرگ افراد، جنہیں اختلافات ختم کرنے، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے اور عدل و انصاف کے ذریعے خاندانوں کو بچانے کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، اگر وہی مفادات، جانبداری اور مصلحتوں کے اسیر ہو جائیں تو پھر آپسی بھائی چارہ کس طرح باقی رہ سکے گا؟
کیا ہم اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ حق کی آواز ناگوار اور خوشامد پسندیدہ لگنے لگی ہے؟ کیا دنیاوی مفاد، خاندانی تعصب اور ذاتی خواہشات نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو ہماری ترجیحات سے پیچھے دھکیل دیا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہر معاملے میں انصاف کے بجائے اپنا مفاد ہی کیوں مقدم رکھا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو صرف میرے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے ہیں جو معاشرے میں عدل، اصلاح اور خیر خواہی کا خواب دیکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو الزام شروع ہو جاتا ہے، جب انصاف کی ہمت ختم ہو جاتی ہے تو کردار کشی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور جب ضمیر مصلحتوں کے ہاتھوں فروخت ہو جائے تو خیر خواہ ہی دشمن اور چاپلوس ہی مخلص سمجھا جانے لگتا ہے۔
اسلام نے تو محض بدگمانی سے بھی منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔" (الحجرات: 12)
جب صرف بدگمانی سے بچنے کا حکم ہے تو پھر بغیر کسی شرعی یا عقلی دلیل کے کسی مسلمان پر جادو جیسے سنگین جرم کا الزام لگا دینا کتنا بڑا ظلم اور کتنا خطرناک گناہ ہوگا، اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان خود کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے! ایک مومن کی عزت، اس کی جان اور اس کی آبرو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم ہے۔ کسی مسلمان کی عزت کو بے بنیاد الزامات کے ذریعے مجروح کرنا صرف ایک انسان کو تکلیف پہنچانا نہیں، بلکہ اسلامی اخلاقیات کی بنیادوں کو کمزور کرنا بھی ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض جگہوں پر مظلوم ہی کو صفائیاں دینی پڑتی ہیں، حق کی بات کرنے والا ہی موردِ الزام بنتا ہے، اصلاح کی کوشش کرنے والا ہی طعن و تشنیع کا نشانہ بنتا ہے، گویا ظلم کرنے والا بے خوف ہے اور ظلم روکنے والا مجرم۔
حالانکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سب سے بڑا محسن وہ ہے جو ظلم کو روکنے کی کوشش کرے، نہ کہ وہ جو ظلم پر خاموش رہے یا ظلم کرنے والے کی اندھی حمایت کرے۔
تاہم ان تمام تلخ تجربات کے باوجود انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم پورے معاشرے پر ایک ہی حکم نہ لگا دیں۔ الحمد للہ آج بھی ایسے بے شمار خاندان، بزرگ اور ذمہ دار افراد موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، حق کی خاطر اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف بھی سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں، ظالم کو ظلم سے روکتے ہیں، صلح کراتے ہیں اور اپنی آخرت کو دنیا کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقت میں معاشرے کا اصل سرمایہ، حقیقی رہنما اور اصلاحِ امت کی امید ہیں۔ اس لیے اس تلخ واقعے کو صرف ایک شخص یا ایک خاندان کی داستان سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے اپنے معاشرے کے لیے ایک آئینہ سمجھنا چاہیے، تاکہ ہم سب اپنے اپنے کردار کا جائزہ لے سکیں۔ اگر ہر شخص دوسروں کا محاسبہ کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ شروع کر دے، اگر ہر بزرگ اپنی ذمہ داری کو منصب نہیں بلکہ امانت سمجھے، اگر ہر فیصلہ رشتہ داری کے بجائے عدل کی بنیاد پر ہونے لگے اور اگر ہر خیر خواہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کی نیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت سے اختلافات جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کی ہر مجلس ختم ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ وہاں نہ رشتہ داری کام آئے گی، نہ مال و دولت، نہ جھوٹی حمایتیں اور نہ ہی دنیاوی مصلحتیں۔ وہاں صرف حق، عدل اور اعمال کا فیصلہ ہوگا۔
آج خاندانوں کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اصلاح کرنے والوں کی قدر کم اور خوشامد کرنے والوں کی قدر زیادہ کر دی ہے۔ جو شخص ہمارے مفاد کی بات کرے وہ ہمیں اپنا لگتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کی یاد دلائے وہ ہمیں ناگوار گزرنے لگتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارا سب سے بڑا خیر خواہ وہ ہے جو ہمیں گناہ، ظلم اور ناانصافی سے بچانے کی کوشش کرے، چاہے اس کی بات وقتی طور پر ہمیں تلخ ہی کیوں نہ محسوس ہو۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے:
"اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو مجھے میرے عیب تحفے میں دے۔ علامہ ابن الجوزی نے اپنی تصنیف "مناقبِ عمر" (صفحہ 152) میں اسے ذکر کیا ہے، جہاں الفاظ کچھ یوں ہیں: "إن أحب الناس إليّ من أهدى إليّ عيوبي"
کتنا عظیم ظرف تھا کہ نصیحت کو دشمنی نہیں بلکہ تحفہ سمجھا جاتا تھا۔ افسوس! آج بعض اوقات خیر خواہ کی نصیحت بھی الزام، بدگمانی اور دشمنی کا سبب بن جاتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بے بنیاد الزام صرف ایک زبان سے ادا ہونے والا جملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسان کی عزت، اس کے کردار، اس کی ساکھ اور اس کے خاندان کو مجروح کر دیتا ہے۔ اسلام نے جس طرح ظلم سے منع فرمایا ہے، اسی طرح تہمت، بدگمانی اور کردار کشی سے بھی سختی کے ساتھ روکا ہے۔ اس لیے کسی بھی الزام کو زبان پر لانے سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جواب دہی کا احساس ضرور کرنا چاہیے۔
یاد رکھیے! خاندان . نفرت سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم رہتے ہیں، رشتے طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی ہے جو حق کا ساتھ دیتا ہے، اگرچہ وقتی طور پر اسے تنہا ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ہر اختلاف میں اپنا آدمی تلاش کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر اختلاف میں حق تلاش کریں۔ جس دن خاندانوں اور رشتہ داروں کے بزرگ اپنی ذمہ داری کو منصب نہیں بلکہ امانت سمجھیں گے، جس دن رشتہ داری سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھا جائے گا، جس دن ظالم کی حمایت کو وفاداری نہیں بلکہ خیانت سمجھا جائے گا، اور جس دن خیر خواہ کو دشمن نہیں بلکہ محسن سمجھا جائے گا، اسی دن ہمارے گھروں سے نفرتوں کا خاتمہ ہوگا، دل دوبارہ جڑ جائیں گے، خاندان مضبوط ہوں گے اور ہمارا معاشرہ عدل، محبت، اخوت اور باہمی اعتماد کا گہوارہ بن جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں، ہر حال میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے، اپنی زبانوں کو بے بنیاد الزامات، بدگمانی اور تہمت سے محفوظ رکھنے، اور ہر معاملے میں اپنی آخرت کو دنیا کے مفاد پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com