اپنا ہر نقشِ قدم منزل نشاں کرتے چلو
محمد زکی کیفی صاحب زندگی کو مقصد، کردار اور خدمتِ انسانیت سے جوڑتے ہوئے نہایت شاندار انداز میں فرماتے ہیں:
ملک و ملت پر فدا عمرِ رواں کرتے چلو
یہ حیاتِ چند روزہ جاوداں کرتے چلو
آنے والوں کے لیے بن کر چراغِ آگہی
اپنا ہر نقشِ قدم منزل نشاں کرتے چلو
دنیا میں ہر انسان چلتا ہے، مگر ہر شخص اپنے قدموں کے نشان نہیں چھوڑتا۔ بعض لوگ آتے ہیں، چند سال زندگی گزارتے ہیں اور خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں؛ وقت ان کے نام، ان کے وجود اور ان کے کارناموں کو اپنے گرد و غبار میں چھپا دیتا ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے کردار، علم، فکر، خدمت، اخلاص اور قربانی سے تاریخ پر ایسی انمٹ چھاپ چھوڑ جاتے ہیں کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے قدموں کے نشانات مٹتے نہیں، بلکہ ہر آنے والا مسافر انہی نشانات کو دیکھ کر اپنی منزل کا راستہ متعین کرتا ہے۔اس شعر میں شاعر انسان کو محض کامیاب ہونے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ ایسی باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے جس کا ہر لمحہ، ہر فیصلہ، ہر عمل اور ہر قربانی آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جائے۔ انسان کی عظمت اس کی دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کے جانے کے بعد لوگ اس کے نقشِ قدم پر چلنے میں فخر محسوس کریں۔
تاریخ پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کو بدلنے والے افراد ہمیشہ وہی تھے جنہوں نے اپنی ذات سے آگے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ ان کی زندگی کا ہر قدم ایک پیغام تھا، ہر فیصلہ ایک سبق تھا اور ہر قربانی ایک نئی تاریخ رقم کر گئی۔
اسلام کی تاریخ ایسے بے شمار آفتابوں سے روشن ہے جنہوں نے اپنے کردار سے آنے والی نسلوں کو راستہ دکھایا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت پوری انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ زندگی کا عملی نظام ہے۔ تابعین، تبع تابعین اور بعد کے ائمہ نے علم، تقویٰ اور اخلاص کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی دنیا ان کے علمی سرمایہ سے فیض یاب ہو رہی ہے۔
برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کا نام ایک ایسے عظیم محقق اور مجدد کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی عشقِ رسول ﷺ، دفاعِ عقائدِ اہلِ سنت اور علمی تحقیق کے لیے وقف کر دی۔ ان کی سینکڑوں تصانیف آج بھی دنیا بھر کے مدارس، جامعات اور علمی مراکز میں پڑھی جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ دیرپا اثر رکھتی ہے۔
اسی طرح تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان ازہری نے علم، حلم، تقویٰ اور اعتدال کی ایسی مثال قائم کی کہ لاکھوں لوگ آج بھی ان کے فتاویٰ، نصائح اور طرزِ زندگی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ خاموش خدمت بھی تاریخ میں بلند آواز بن جاتی ہے۔
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے روحانیت، اصلاحِ معاشرہ اور دعوتِ دین کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو بدل دیا۔ انہوں نے محلات کی آسائش کو چھوڑ کر انسانوں کی اصلاح کو اپنا مقصد بنایا، اور آج بھی ان کا نام روحانی تربیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح سلطان الشہداء سید سالار مسعود غازی کی جرأت، استقامت اور دینی وابستگی نے انہیں تاریخ کے ان کرداروں میں شامل کر دیا جن کا ذکر آج بھی عزت و احترام سے کیا جاتا ہے۔ انسان کی اصل زندگی وہ نہیں جو سانسوں میں گزرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو اس کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
عصرِ حاضر میں علامہ خادم حسین رضوی کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ چاہے لوگ ان کے اسلوب سے اتفاق کریں یا اختلاف، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے اپنے نظریے پر ثابت قدم رہنے اور اپنی بات بے خوف انداز میں پیش کرنے کی ایک نمایاں مثال قائم کی۔ ان کی شخصیت نے لاکھوں افراد کو اپنے عقیدے اور نظریے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر آمادہ کیا۔
یہ صرف دینی شخصیات ہی نہیں بلکہ دنیاوی میدانوں میں بھی کامیاب انسانوں کی زندگیاں یہی سبق دیتی ہیں کہ اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرو۔
بل گیٹس نے صرف کاروباری کامیابی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تعلیم، صحت اور انسانی فلاح کے لیے اربوں ڈالر وقف کر دیے۔ آج ان کی پہچان صرف مائیکروسافٹ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت بھی ہے۔
ایلون مسک نے ناممکن سمجھے جانے والے خواب دیکھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ برقی گاڑیوں، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی جدوجہد نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ترقی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو روایتی سوچ سے آگے بڑھ کر نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے انتہائی سادہ پس منظر سے اٹھ کر ہندوستان کے ممتاز سائنس دان اور صدرِ جمہوریہ بننے تک کا سفر طے کیا۔ ان کی دیانت، سادگی، علم دوستی اور نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا پیغامات آج بھی لاکھوں طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو ان تمام شخصیات میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے۔ ان کے راستے الگ تھے، ان کے میدان مختلف تھے، ان کی سوچ اور اہداف میں فرق تھا، لیکن ان سب نے اپنی زندگی کو محض اپنے لیے نہیں جیا۔ انہوں نے ایسا کام کیا جس سے ان کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی وہ "نقشِ قدم" ہیں جو منزل کا پتہ دیتے ہیں۔
آج کا نوجوان اگر صرف شہرت، دولت اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کو کامیابی سمجھے گا تو شاید وقتی تعریف حاصل کر لے، لیکن تاریخ میں جگہ نہیں بنا سکے گا۔ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو معاشرے کو کچھ دے کر جاتے ہیں، نہ کہ صرف معاشرے سے لینے والے لوگوں کو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر یہ سوال پیدا کریں کہ اگر آج ہماری زندگی کا سفر ختم ہو جائے تو کیا ہمارا کوئی ایسا کام باقی ہوگا جس سے آنے والی نسلیں فائدہ اٹھائیں؟ کیا ہمارے علم، ہمارے اخلاق، ہماری تحریروں، ہماری خدمات، ہمارے کردار یا ہماری قربانیوں میں کوئی ایسی روشنی ہوگی جو دوسروں کو راستہ دکھا سکے؟
اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی زندگی کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا طالبِ علم بننا چاہیے جس کا علم معاشرے کے لیے سرمایہ بنے؛ ایسا استاد بننا چاہیے جس کے شاگرد اس کی پہچان بنیں؛ ایسا عالم بننا چاہیے جس کا علم امت کی رہنمائی کرے؛ ایسا تاجر بننا چاہیے جس کی دیانت مثال بن جائے؛ ایسا قلم کار بننا چاہیے جس کی تحریریں شعور پیدا کریں؛ اور ایسا انسان بننا چاہیے جس کی موجودگی لوگوں کے لیے رحمت اور اس کی جدائی ایک خلا محسوس ہو۔
زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنے بعد صرف قبر نہ چھوڑے بلکہ ایک فکر چھوڑے، ایک کردار چھوڑے، ایک روایت چھوڑے، ایک خدمت چھوڑے اور ایک ایسا راستہ چھوڑے جس پر چل کر آنے والے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
یہی اس شعر کا حقیقی پیغام ہے کہ:
آنے والوں کے لیے بن کر چراغِ آگہی
اپنا ہر نقشِ قدم منزل نشاں کرتے چلو
یعنی اس دنیا سے اس طرح گزرو کہ تمہارے قدموں کے نشان صرف مٹی پر نہ رہ جائیں بلکہ دلوں، ذہنوں، کتابوں، اداروں، کرداروں اور تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو جائیں۔ یہی وہ زندگی ہے جو انسان کو فنا کے بعد بھی بقا عطا کرتی ہے، اور یہی وہ کامیابی ہے جسے زمانہ کبھی فراموش نہیں کرتا۔تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com