یہ حیاتِ چند روزہ جاوداں کرتے چلو
زندگی اپنی مدت کے اعتبار سے اگرچہ مختصر اور فانی ہے، مگر اس کے اعمال، افکار اور قربانیاں اسے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہیں۔ انسان کی اصل عظمت اس کی عمر کی طوالت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار کی بلندی، اس کے نظریے کی پختگی اور اس کے مقصد کی صداقت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ دنیا میں برسوں زندہ رہتے ہیں مگر ان کا نام وقت کی گرد میں گم ہو جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ چند لمحوں کے لیے تاریخ کے افق پر نمودار ہوتے ہیں اور اپنی جرأت، استقامت اور اصول پسندی سے صدیوں تک آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔
قوموں کی تاریخ انہی باہمت افراد کے گرد گھومتی ہے جنہوں نے اپنی ذاتی آسائش، مفادات اور وقتی سکون پر اجتماعی بھلائی، حق و انصاف اور انسانی وقار کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی زندگی کو محض جینے کے لیے نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے وقف کیا۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی چند روزہ حیات کو ایسے اعمال سے آراستہ کرتے ہیں کہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی پیغام شاعر نے ان الفاظ میں دیا ہے:
"یہ حیاتِ چند روزہ جاوداں کرتے چلو"
یعنی اگر زندگی مختصر بھی ہے تو اسے ایسے کارناموں سے مزین کرو کہ آنے والی نسلیں تمہیں عزت و احترام سے یاد کریں، تمہارے افکار سے رہنمائی حاصل کریں اور تمہاری جدوجہد کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں۔
آج جب ہم اپنے گرد و پیش کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جمہوری معاشروں کی اصل روح صرف انتخابات یا حکومتوں کی تبدیلی میں نہیں بلکہ شہری آزادی، انسانی وقار، اظہارِ رائے کے حق اور انصاف کی بالادستی میں مضمر ہے۔ جب عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو یہ کسی نظام کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ جمہوریت کی بقا کا ایک لازمی تقاضا ہوتا ہے۔
افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے کی کوشش کی جائے، احتجاج کرنے والوں کو خوف و ہراس کا شکار بنایا جائے اور طاقت کے استعمال کو مسئلے کا حل سمجھ لیا جائے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر آوازوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مگر افکار، نظریات اور ضمیر کی بیداری کو کبھی ختم نہیں کر سکتی۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس، گرفتاریوں اور دباؤ کے ذریعے وقتی خاموشی ضرور پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن دلوں میں موجود آزادی کی خواہش کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور جمہوری اقدار کے نام پر آواز بلند کرنے والے حلقے کیا ہر موقع پر یکساں اصولوں کے پابند رہتے ہیں؟ اگر حقوقِ انسانی واقعی ایک عالمگیر قدر ہیں تو ان کی حمایت بھی ہر مظلوم، ہر کمزور اور ہر ایسے شہری کے لیے ہونی چاہیے جس کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہوں، خواہ اس کی مذہبی، سماجی یا سیاسی شناخت کچھ بھی ہو۔
اسی طرح ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ صحافت کا مقصد حقیقت کو عوام تک پہنچانا اور طاقت کو آئینہ دکھانا ہے، نہ کہ کسی مخصوص بیانیے کو حقیقت کا واحد چہرہ بنا کر پیش کرنا۔ جب میڈیا غیر جانب داری کھو دیتا ہے تو عوام کے اعتماد میں دراڑ پیدا ہوتی ہے اور معاشرے میں فکری انتشار بڑھنے لگتا ہے۔
اسلامی تاریخ ہمیں بھی یہی سبق دیتی ہے کہ حق گوئی، جرأت، استقامت اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانا اہلِ ایمان کی نمایاں صفات رہی ہیں۔ مسلمانوں کی علمی اور تہذیبی روایت ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اقتدار کی چکاچوند کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اصولوں کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایمان انسان کو خوفزدہ نہیں بلکہ باوقار بناتا ہے، اور ظلم کے سامنے خاموشی کے بجائے حکمت، صبر اور استقامت کے ساتھ حق کی گواہی دینا سکھاتا ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر انسان اور ہر قوم کی مشترکہ ضرورت ہے۔ جب بنیادی حقوق مجروح ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون، آئین، عدل اور انسانی احترام کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
آج کی ضرورت نفرت، تقسیم اور خوف کی فضا پیدا کرنا نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے اسے جمہوری روایت کا حصہ سمجھا جائے، اور عوام کی آواز کو طاقت سے نہیں بلکہ دلیل اور انصاف سے جواب دیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو استحکام، ترقی اور حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔
اسی لیے شاعر کی یہ پکار آج بھی اتنی ہی مؤثر محسوس ہوتی ہے:
ملک و ملت پر فدا عمرِ رواں کرتے چلو
یہ حیاتِ چند روزہ جاوداں کرتے چلو
آنے والوں کے لیے بن کر چراغِ آگہی
اپنا ہر نقشِ قدم منزل نشاں کرتے چلو
اگر ہماری زندگی حق، انصاف، خدمتِ خلق، انسانی وقار اور قومی ذمہ داری کے لیے وقف ہو جائے تو یہی مختصر سی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے
ہمیشہ زندہ رہنے والا پیغام بن جاتی ہے۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com