اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ تخت کی عمر چند برس ہوتی ہے، مگر قوموں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہوتی ہے، جب حکمران اپنی تعریف کے نعروں میں اس قدر گم ہو جائیں کہ *انہیں بھوک سے بلکتے بچے، روزگار کو ترستے نوجوان، انصاف کے دروازوں پر دستک دیتے مظلوم اور علم کے چراغ بجھتے ہوئے دکھائی نہ دیں* تو سمجھ لیجیے کہ ریاست ترقی نہیں، زوال کی شاہراہ پر گامزن ہے،افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب قلم کو خطرہ سمجھا جائے، کتابوں سے خوف کھایا جائے، درسگاہوں کو سیاست کا میدان بنایا جائے اور احتجاج کرنے والوں کو جواب دلائل سے نہیں بلکہ لاٹھی
وں سے دیا جائے، ایسے میں سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہوتا ہے کہ آخر اس ملک میں سب سے بڑا جرم تعلیم حاصل کرنا ہے، انصاف مانگنا ہے یا اپنے آئینی حق کے لیے آواز بلند کرنا؟
*جوہر یونیورسٹی علم و روشن خیالی پر انتقامی یلغار۔*
اتر پردیش کی سرزمین رامپور میں قائم *محمد علی جوہر یونیورسٹی* محض اینٹ اور گارے کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس پسماندہ خطے کے غریب، نادار اور محروم طبقے کے بچوں کے روشن مستقبل کی واحد امید اور ایک علمی وطن ہے، جب حکمرانوں کو یہ گوارا نہ ہو کہ پسماندہ معاشرے کے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ بن کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، تو اس علمی ادارے کو مسمار کرنے کی سازشیں، اسے تباہ کرنے کے ہتھکنڈے اور اس کے بانی کو نشانہ بنانا اسی متعصبانہ سوچ کا نتیجہ بن جاتا ہے،ایک ایسی درسگاہ جو علم کی شمع جلانے کے لیے بنائی گئی تھی، اسے مٹانے کی یہ کوششیں اس سرکار کی بدترین علم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں بلکہ جہالت کی زنجیریں اچھی لگتی ہیں،جیسے کہ سرکار عہد دار جاہل ان پڑھ گوار ہیں۔
*جنتر منتر اور عوام کے سینوں پر برستی لاٹھیاں۔*
دارالحکومت دہلی کا *جنتر منتر* وہ مقدس مقام کہلاتا ہے جہاں جمہوری روایات کے مطابق ہر مظلوم کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہونا ہے، لیکن آج اسی جنتر منتر کا منظر یہ ہے کہ جب غریب کسان، نوجوان، یا حق کی پکار بلند کرنے والا کوئی بھی شہری اپنے حقوق کے لیے پہنچتا ہے، تو اس کے استقبال کے لیے انصاف کے دروازے نہیں بلکہ پولیس کی بے رحم لاٹھیاں ہوتی ہیں *ہندوستان کی غریب عوام کے پسینے کی کمائی اور ٹیکس کے پیسوں سے پلنے والے یہ پولیس اہلکار آج اس عوام کے محافظ بننے کے بجائے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں* جو عوام اپنی خون پسینے کی کمائی سے ان کی تنخواہیں ادا کرتی ہے، آج وہی پولیس ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتی ہے، جنتر منتر پر طاقت کا یہ ننگا ناچ اس بات کا غماز ہے کہ اب اس ملک میں آواز اٹھانا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔
*حکومت کی نااہلی اور نیٹ (NEET) پیپر لیک کا عذاب۔*
حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ ملک کے کروڑوں محنتی اور ذہین نوجوانوں کا مستقبل *نیٹ (NEET) اور دیگر مسابقتی امتحانات کے پیپر لیک* ہونے کی نذر ہو رہا ہے،دن رات ایک کر کے پڑھنے والے غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کے خوابوں کا سرعام خون کیا جا رہا ہے، کرپشن اور بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ دلال اور مافیا امتحانات کے پرچے سرعام بیچتے ہیں، اور سرکار خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہتی ہے، نوجوانوں کی محنت کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور حکمران اپنی کامیابی کے جھوٹے قصیدے پڑھنے میں مصروف رہتے ہیں۔
*منصفوں کی بے اعتدالی اور عوام کی بے قدری۔*
اس ظلمِ عظیم کے دوران جب نگاہیں کرسیٔ قضاء پر بیٹھے ہوئے ان منصفوں کی طرف اٹھتی ہیں جن پر آئین کی پاسداری اور مظلوم کو انصاف دلانے کی ذمہ داری تھی، تو وہاں بھی مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا، جب عدالتیں اور منصفین طاقتور کے سامنے خاموشی اختیار کر لیں اور مظلوم کی آہ و فغاں پر پردہ ڈال دیں، تو قانون بے بس ہو جاتا ہے، آج اس ملک کا عام انسان بھوکا ہے، پیاسا ہے، بے روزگار ہے، لیکن اس کی بھوک، پیاس اور عزتِ نفس کی اس ظالم سرکار کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، عوام کی پکار کو سننے والا کوئی نہیں اور انصاف کی راہوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں *اے کرسی قضاء پر بیٹھے لوگوں جب تمہارے بس میں نہیں انصاف تو انصاف کہلانے والے اس بھون کو تالا کیوں نہیں لگاتے؟*
*سرکار سے براہِ راست سوالات۔*
(1) *آخر کیوں؟ آخر کیوں ایک علمی وطن اور یونیورسٹی کو برباد کرنے کے درپے ہیں؟کیا اسلئے کہ وہ ایک مسلمان نے بنائی ہے؟کیا جیسے خود جاہل ہو ویسے ہی قوم کو رکھنا چاہتے ہو؟ یا علم کو دشمنی کا کھیل سمجھ لیا ہے؟*
(2) *انصاف کی جگہ لاٹھیاں کیوں؟ جنتر منتر پر بیٹھے پرامن شہریوں اور طلباء کے سروں پر جمہوریت کے نام پر لاٹھیاں کیوں برسائی جاتی ہیں؟ کیا اب پرامن احتجاج کرنا غداری بن گیا ہے؟کیا انصاف کی بات کرنا جرم ہے یا یہ ملک سیکولر نہ رہا، کرسی قضاء پر بیٹھے لوگ قضاء کا معنی بھول کر صرف حکومت کی پاسداری کے لیے بک گئے ہیں؟*
(3) *مستقبل کا سودا کیوں؟ نیٹ پیپر لیک کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ کیوں دی گئی ہے اور غریب طلباء کے آنسوؤں پر پردہ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟اس لئے کہ وہ تمہارے اپنے ہیں؟ یا قوم کے مستقبل سے کھیلنا تمہارا پیشہ ہو چکا ہے؟اور عوام کو جاہل رکھنا چاہتے ہو؟*
(4) *عوام کی بھوک اور پیاس کی توہین کب تک؟ جو عوام اس ملک کو چلاتی ہے، اس کی بھوک، بے روزگاری اور بنیادی حقوق کی پامالی پر یہ مجرمانہ خاموشی کب تک برقرار رہے گی؟*
اگر اب بھی اس ملک کا باشعور طبقہ اور آئین کے محافظ بیدار نہ ہوئے، تو تاریخ اس دور کو ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھے گی جہاں تخت کی ہوس نے پورے چمن کو ویران کر کے رکھ دیا،اور لکھا جائے جاہل لوگوں نے اپنی جہالت سے پوری ہندوستانی عوام کو جاہل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا🙏🏻
*ایک ہی الو کافی ہے ویران گلستاں کرنے کو*
*ہر شاخ پے الو بیٹھے گا انجام گلستاں کیا ہوگا۔*
*ہندوستان بچاؤ آندولن،ہندوستان زندہ باد بائندہ باد،اے میرے پیارے ملک تو کن ہاتھوں میں چلا گیا🥺*
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*