انسانی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کسی دنیاوی مقصد، شہرت یا منفعت کے لیے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر دی،ایسے نفوسِ قدسیہ کے لیے علم محض ایک مشغلہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی زندگی کا مقصد، ان کی خوشی اور ان کی پہچان بن جاتا ہے، وہ اپنی خواہشات کو علم کی عظمت پر قربان کر دیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایسے علمی نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو صدیوں تک باقی رہتے ہیں۔
انہیں عظیم شخصیات میں ایک نام شام کی معروف محققہ سکینہ الشہابی رحمہا اللہ کا بھی ہے، جنہیں علمی دنیا میں *امُّ المحققین* کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، آپ 1933ء میں پیدا ہوئیں اور 2011ء میں وفات پائی، آپ نے اپنی پوری زندگی تحقیق، تصنیف اور علمی خدمات کے لیے وقف کر دی، بالخصوص عظیم محدث و مؤرخ امام ابن عساکر رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق کتاب تاریخ دمشق پر آپ نے غیر معمولی محنت کی اور برسوں تک اس کے تحقیقی کام میں مصروف رہیں، امام ابن عساکر رحمہ اللہ کی دیگر علمی خدمات پر بھی آپ نے گہری تحقیق کی۔
سکینہ الشہابی رحمہا اللہ کی زندگی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو ان کی علمی وابستگی اور روحانی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، انہوں نے نکاح نہیں کیا اور بعض مواقع پر اپنی اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کرتی تھیں *لعلي إن شاء الله أكون من زوجات الحافظ ابن عساكر في الجنة أو أسأل الله أن يجعلني زوجته في الجنة* مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ میں جنت میں *حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کی ازواج میں سے ہوں گی،* یا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گی کہ مجھے جنت میں ابن عساکر رحمہ اللہ کی زوجیت عطا فرما دے۔
یہ بات کسی سطحی جذبات یا دنیاوی تعلق کی ترجمانی نہیں کرتی، بلکہ ایک عظیم عالم کے علمی مقام سے محبت، ان کے کام سے وابستگی اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے *امام ابن عساکر رحمہ اللہ* ساتویں صدی ہجری کے عظیم محدث اور مؤرخ تھے، جبکہ سکینہ الشہابی رحمہا اللہ کئی صدیوں بعد آئیں؛ مگر علم کا تعلق زمان و مکان کی دوریوں کو ختم کر دیتا ہے،ایک محققہ نے صدیوں پہلے کے ایک محدث کی علمی میراث کو اپنا مقصدِ زندگی بنا لیا، یہی حقیقی علمی محبت کی علامت ہے۔
حقیقی محبت صرف قربت کا نام نہیں، بلکہ محبوب کے مقصد کو زندہ رکھنے کا نام ہے، جس سے محبت ہو، انسان اس کے افکار، اس کی خدمات اور اس کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کے درمیان ایک خاص قسم کا روحانی اور علمی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، جو کبھی کبھی صدیوں کے فاصلے کے باوجود باقی رہتا ہے،عرب کا ایک مشہور قول ہے: *عفیف کے عشق سے بچو، کیونکہ جب پاکیزہ انسان محبت کرتا ہے تو پوری شدت اور اخلاص کے ساتھ کرتا ہے۔* یہاں مراد دنیاوی جذبات نہیں بلکہ پاکیزہ علمی اور روحانی تعلق ہے، جس میں انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر کسی عظیم مقصد کے لیے جیتا ہے۔
تاریخ میں ایسے بہت سے علماء اور عالمات گزرے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی خدمت کے لیے وقف کر دیں، بعض نے شادی نہیں کی اور اپنی تمام تر صلاحیتیں تصنیف، تدریس، تحقیق اور امت کی رہنمائی میں صرف کر دیں،ان کے نزدیک علم کی خدمت ایک عظیم عبادت اور ذمہ داری تھی،اسی موضوع پر بعض کتابوں میں ان علماء کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی علم کے لیے وقف کی اور ازدواجی زندگی اختیار نہیں کی، تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے نکاح کو ایک پاکیزہ سنت قرار دیا ہے، اس لیے کسی کا شادی کرنا یا نہ کرنا اس کے حالات، ترجیحات اور ذمہ داریوں سے متعلق ذاتی معاملہ ہے، اصل فضیلت اس بات میں ہے کہ انسان اپنی زندگی کو خیر، علم اور خدمت کے لیے استعمال کرے۔
آج کے دور میں، جب بہت سے نوجوان اپنی توانائیاں بے مقصد مشاغل اور وقتی دلچسپیوں میں ضائع کر دیتے ہیں، سکینہ الشہابی رحمہا اللہ جیسی خواتین ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ علم، تحقیق اور مقصدِ زندگی سے وابستگی انسان کو بلند مقام عطا کر سکتی ہے، *خصوصاً دینی طالبات کے لیے ایسی عظیم خواتین قابلِ مطالعہ اور قابلِ تقلید ہیں، جنہوں نے حیا، محنت، علم اور اخلاص کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی* ان کی زندگیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ایک انسان اگر عزم، اخلاص اور محنت کے ساتھ کسی نیک مقصد کو اختیار کر لے تو زمانہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا نام عزت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے،علم وہ دولت ہے جو انسان کے بعد بھی زندہ رہتی ہے، اور اہلِ علم کی محبت وہ تعلق ہے جو صدیوں کے فاصلے کے باوجود دلوں کو جوڑے رکھتا ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*