*میری بہن ہر مسکراتے چہرے پر اعتبار مت کرو*
*لڑکی ذات ضرور پڑھیں۔*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
4 صفر المظفر 1448ھ
________________________________
میری پیاری بہن اگر تم واقعی اپنی زندگی کو خوشیوں عزت وقار اور قلبی سکون سے بھرپور دیکھنا چاہتی ہو تو سب سے پہلے ایک بات اپنے دل و دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو کہ اس زمانہ میں ہر شخص پر فوراً اعتماد کرنا عقل مندی کی بات نہیں بلکہ احتیاط کرنا ہی عقل مندی ہے۔ ہر ملنے والا شخص مخلص نہیں ہوتا ہر مسکرانے والا خیر خواہ نہیں ہوتا اور ہر میٹھی بات کرنے والا تمہاری عزت و حفاظت کا خواہاں نہیں ہوتا۔
آج کل اکثر لڑکیاں صرف چند لمحوں کی گفتگو چند اچھے جملوں یا نرم لہجے کو دیکھ کر یہ کہہ دیتی ہیں میں اسے جانتی ہوں میرا فرینڈ ہے وہ بہت اچھا انسان ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو پہچاننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک دو ملاقاتیں یا ظاہری شکل و صورت یا چند دن کی بات چیت کسی کے کردار کا معیار نہیں ہوتیں۔
میری پیاری بہن تمہاری سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ تم میٹھے لہجوں اور خوش اخلاقی سے جلد متاثر ہو جاتی ہو جبکہ دنیا ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی جیسی تم سمجھتی ہو۔ اس فانی دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے لوگ بھی مخلص بھی ہیں اور مفاد پرست بھی۔ اس لیے ہر شخص کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھو بلکہ اپنے اندر پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرو۔
یاد رکھو تمہاری عزت تمہارا کردار اور تمہاری پاکیزگی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی حفاظت کی ذمہ داری سب سے پہلے خود تم پر ہے۔ ہر وہ شخص جو تم سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرے ضروری نہیں کہ وہ تمہارا خیر خواہ ہو۔ تمہارا حقیقی محافظ وہی ہے جسے اللہ ربّ العزت نے تمہاری حفاظت کا حق دیا ہے نہ کہ ہر وہ شخص جو ظاہری محبت ہمدردی کا دکھاوا یا دوستی کے خوبصورت الفاظ استعمال کرے۔
ہر ایک سے بے تکلفی ہر ایک سے ہنس کر بات کرنا ہر ایک کو اپنے دل کی باتیں بتا دینا یا ہر ایک پر اعتماد کر لینا کبھی بھی عقل مندی نہیں۔ تم یہ نہیں جانتیں کہ سامنے والا کس نیت کس سوچ اور کس مقصد کے ساتھ تم سے گفتگو کر رہا ہے۔ بعض لوگ صرف تمہارے لہجے تمہاری سادگی اور تمہارے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے قریب آتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جب تمہیں حقیقت کا احساس ہوتا ہے تو اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر معاشرہ حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ صرف الزام لگاتا ہے۔ ایک لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانے والے صرف اجنبی ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے دوست رشتہ دار قریبی اور آس پاس کے لوگ بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں عورت پر الزام لگانا بہت ہی آسان سمجھا جاتا ہے۔ چاہے وہ بے قصور ہی کیوں نہ ہو اس کے کردار پر سوال اٹھانے میں لوگوں کو ایک لمحہ بھی نہیں لگتا۔ اگر لوگ واقعی قرآنِ کریم کی تعلیمات کو سمجھ لیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ اسلام نے عورت کو کتنی عظیم عزت حفاظت اور مقام عطا کیا ہے۔ پھر شاید وہ کسی بیٹی کے جذبات سے کھیلنے اسے دھوکہ دینے اور اس کی عزت کو مجروح کرنے کی جرأت پیدا نہ کریں۔
لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بعض اوقات ہماری اپنی بے احتیاطی بھی مشکلات کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم جلد یقین کر لیتے ہیں جلد مان لیتے ہیں جزباتی ہوکر جلد فیصلہ کرلیتے ہیں اور جلد دل ہار بیٹھتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ سامنے والا اچھے انداز میں بات کرتا ہے ہم بھی نرم لہجہ اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ ہر نرم لہجہ اخلاص کی علامت نہیں ہوتا۔
یاد رکھو تم مسلمان ہو تم ایمان والی ہو تم ایک باحیا بیٹی ہو تمہاری پہچان تمہارا حجاب مکمل پردہ تمہارا وقار تمہارا کردار اور تمہاری احتیاط ہے۔ ہر شخص تمہارے اعتماد کا مستحق نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنے لہجے اپنی گفتگو اور اپنے تعلقات میں حدود و قیود کا خیال رکھو۔ بے جا بے تکلفی سے بچو اور اپنے وقار کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لو۔
کیونکہ جب ایک بار کسی پر تہمت لگ جاتی ہے تو اسے مٹانے میں برسوں بلکہ بعض اوقات پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ لوگ حقیقت نہیں دیکھتے وہ ظاہری دیکھتے ہیں وہ صرف افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ انہیں نہ حضرت مریم علیہ السلام کی پاک دامنی یاد رہتی ہے اور نہ ہی حضرت یوسف علیہ السلام کا بے داغ کردار بلکہ انہیں صرف الزام لگانا آتا ہے۔
اس لیے میری ہر بیٹی اور ہر بہنوں سے یہی گزارش ہے کہ اپنی عزت کی حفاظت خود کرو اپنے لہجے کو اپنا حصار بنا لو اپنی حیا کو اپنی زینت بنا لو اپنی حدود کو اپنی طاقت بنا لو اور اپنی زندگی کو ایسے اصولوں پر گزارو کہ کسی کو تمہارے کردار پر انگلی اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔
یقین رکھو جس دن تم نے اپنی عزت حیا کردار اور احتیاط کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیا اسی دن تمہاری زندگی پہلے سے کہیں زیادہ پرسکون باوقار اور خوشحال ہو جائے گی اور یہی ایک باعزت مسلمان بیٹی کی حقیقی کامیابی ہے۔
اے میرے پیارے اللہ ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو حیا پاکیزگی عزت اور بہترین کردار عطا فرما انہیں ہر فتنے برائی اور بدنگاہی سے اپنی حفاظت میں رکھ اور دنیا و آخرت میں عزت عافیت اور کامیابی نصیب فرما۔ آمین یارب العالمین ۔