Translation unavailable. Showing original.
تبصرۂ کتاب: اُس بازار میں
19 جولائی، 2026
برادرِ مکرم مولوی معاویہ مجادری نے اس کتاب کی جانب متوجہ فرمایا تھا۔ اگرچہ یہ تصنیف آج کل گوگل اور دیگر برقی ذرائع پر دستیاب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتابوں کی دنیا میں ورق گردانی کا لطف، سیاہی کی مہک اور الفاظ کی حرارت ہارڈ کاپی ہی میں محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ جب "اُس بازار میں" کا مطالعہ کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے شورش کاشمیری قاری کا ہاتھ تھام کر اسے تہذیب کے اُس نیم تاریک کوچے میں لے جا رہے ہوں جہاں رنگ و نور کی چکاچوند کے پیچھے آہوں، محرومیوں، حسرتوں اور شکستہ آرزوؤں کا ایک جہان آباد ہے۔
یہ کتاب محض طوائفوں کے احوال و کوائف کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی معاشرت کے ایک پیچیدہ اور المناک باب کی داستان ہے۔ شورش نے بازارِ حسن کے ظاہری طلسم کے پیچھے چھپی ہوئی معاشی مجبوریوں، طبقاتی تفاوت، مردانہ ہوس، سماجی ناہمواری اور انسانی بے بسی کو جس انداز سے بے نقاب کیا ہے، وہ قاری کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ غور و فکر کی وادیوں میں لے جاتا ہے۔
کتاب کا ایک نمایاں وصف شورش کا سحر آفریں اسلوب ہے۔ ان کی نثر میں ایسی رنگینی، شگفتگی اور بانکپن ہے کہ بعض مقامات پر نثر شعر کی ہمسائیگی میں آ کھڑی ہوتی ہے۔ جب وہ شہناز کے رقص کا منظر کھینچتے ہیں تو الفاظ گویا رقص کرنے لگتے ہیں:
"اس کا ناچ تیز ہوتا گیا، اس کی دھنیں پھیلتی گئیں، اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہوتا گیا، اس کی ادائیں نکھرتی گئیں، اس کے پھول کھلتے گئے، اس کے شعلے ٹوٹتے گئے، اس کا روپ سوا ہوتا گیا..."
ایسے مقامات پر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف محض منظر نگاری نہیں کر رہا بلکہ لفظوں سے ایک زندہ تصویر تراش رہا ہے۔ اگرچہ بعض ناقدین کے نزدیک یہ اسلوب کہیں کہیں اعتدال سے متجاوز ہو جاتا ہے، تاہم یہی ادبی اسراف شورش کی نثر کو دلکش اور یادگار بنا دیتا ہے۔
کتاب کا سب سے فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ مصنف نے عصمت فروشی کو صرف چند عورتوں کی داستان قرار نہیں دیا بلکہ اسے معاشرے کی اجتماعی خرابیوں کا شاخسانہ بتایا ہے۔ مطالعے کے دوران بار بار یہ احساس ابھرتا ہے کہ بازارِ حسن کی بنیاد خواہش سے زیادہ احتیاج پر استوار ہے اور اس کے پس منظر میں معاشی جبر، طبقاتی استحصال اور مرد کی خود غرض نفسیات کارفرما ہیں۔ شورش کی پیش کردہ حکایات سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ طوائف اکثر اپنی خواہش سے نہیں بلکہ حالات کے جبر سے اس راہ پر آتی ہے۔
کتاب میں خورشید اور نیلم کے بیانات خصوصاً قابلِ توجہ ہیں۔ ان میں جو سادگی، فطریت اور بے ساختگی ہے وہ دل پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔ ان کرداروں کی گفتگو میں تصنع نہیں بلکہ زندگی کی دھوپ چھاؤں بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دوسری جانب ممتاز، شمشاد اور شہناز کے کردار شورش کی رنگین بیانی اور حسنِ تخیل کا مظہر ہیں، جہاں مصنف کا قلم حقیقت اور ادب کے سنگم پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
"اُس بازار میں" پڑھتے ہوئے یہ حقیقت پوری شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ معاشرے کی بہت سی لعنتیں دراصل خود اسی معاشرے کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ شورش نے بازارِ حسن کو ایک سماجی ناسور کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دکھایا ہے کہ اس ناسور کو جنم دینے والے اسباب خود ہماری اجتماعی بے حسی، معاشی ناہمواری اور اخلاقی دوغلے پن میں پوشیدہ ہیں۔
آغا شورش کاشمیری کی یہ کتاب اردو نثر کا ایک دل آویز نمونہ بھی ہے اور معاشرتی تنقید کی ایک مؤثر دستاویز بھی۔ اس میں ادب کی چاشنی، فکر کی گہرائی، مشاہدے کی وسعت اور بیان کی دلکشی اس انداز سے جمع ہو گئی ہے کہ قاری آخری صفحے تک بندھا رہتا ہے۔ کتاب ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کردار، اس کے سوالات اور اس کی تلخ حقیقتیں ذہن کے افق پر مدتوں گردش کرتی رہتی ہیں۔
محمد مصعب پالنپوری