الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين۔
اسلام نے سال کے ہر مہینے کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیا ہے۔ انہی مہینوں میں ماہِ صفر بھی شامل ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ نفع و نقصان، خیر و برکت اور مصیبت و راحت سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾
"کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں پہنچتی۔"
(سورۂ التغابن: 11)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا﴾
"کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے۔"
(سورۂ التوبہ: 51)
رسول اللہ ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کے غلط عقائد کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
«لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ»
"کوئی چیز بذاتِ خود متعدی نہیں، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں، اور صفر (کو منحوس سمجھنا) بھی باطل ہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا یا اس میں شادی، کاروبار یا سفر کو برا جاننا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
البتہ ہر نئے مہینے کی طرح صفر کا آغاز بھی ہمارے لیے محاسبۂ نفس، توبہ، استغفار اور نیک اعمال میں اضافہ کرنے کا موقع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»
"جہاں کہیں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، برائی کے بعد نیکی کرو وہ اسے مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔"
(جامع ترمذی)
لہٰذا ماہِ صفر کے آغاز پر ہمیں چاہیے کہ:
اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی سچی توبہ کریں۔
نمازوں کی پابندی کریں۔
قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کریں۔
کثرت سے درود شریف اور استغفار پڑھیں۔
والدین، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کریں۔
بدعات، توہمات اور بدشگونی سے مکمل اجتناب کریں۔
دعا:
اے اللہ! اس نئے مہینے کو ہمارے لیے خیر، برکت، امن، ایمان، صحت، عافیت اور تقویٰ کا ذریعہ بنا۔ ہمیں ہر قسم کے گناہوں، فتنوں اور مصیبتوں سے محفوظ فرما، اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔