شیخ اسلم الہندی

کبھی رات کے آخری پہر خاموشی میں اپنے دل سے یہ سوال کیجیے کہ ہم آخر جا کہاں رہے ہیں؟

ہر صبح سورج طلوع ہوتا ہے، ہر شام غروب ہو جاتی ہے، ایک اور دن ہماری زندگی سے کم ہو جاتا ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتا لمحہ ہمیں ہماری آخری منزل کے مزید قریب لے جا رہا ہے۔

آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی رفتار بدل چکی ہو۔ جنگیں، ظلم، بے حیائی، شراب نوشی، منشیات، والدین کی نافرمانی، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، دولت کی اندھی دوڑ، دین سے بے رغبتی، سچائی کا ناپید ہونا اور گناہوں کا عام ہو جانا... کیا یہ سب صرف اتفاق ہے، یا یہ ہمارے لیے کوئی پیغام بھی ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کے بہت سے فتنوں اور نشانیوں سے امت کو آگاہ فرمایا تھا۔ آج ان میں سے متعدد چیزیں ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہیں۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قیامت کب قائم ہوگی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہمارا کام تاریخیں طے کرنا نہیں، بلکہ ان تنبیہوں سے سبق لینا ہے۔

میرے پیارے بھائی! ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے دل سے پوچھو... اگر آج تمہاری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا تم مطمئن ہو کہ تم اللہ کے سامنے حاضر ہونے کے لیے تیار ہو؟

میری پیاری بہن! اگر آج تمہارا نامۂ اعمال بند کر دیا جائے تو کیا تم خوشی سے اسے اپنے رب کے سامنے پیش کر سکو گی؟

ہم گھروں کی تعمیر میں سال لگا دیتے ہیں، لیکن اپنی آخرت کی تعمیر کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے۔ ہم دنیا کی معمولی کامیابی کے لیے راتیں جاگتے ہیں، مگر جنت حاصل کرنے کے لیے فجر کی نماز بھی کبھی کبھی بھاری محسوس ہوتی ہے۔ ہم لوگوں کے سامنے اپنی عزت بچانے کی فکر کرتے ہیں، لیکن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی فکر بہت کم کرتے ہیں۔

سوچیے! موت روزانہ ہزاروں انسانوں کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ کتنے لوگ صبح گھر سے نکلتے ہیں مگر شام تک واپس نہیں آتے۔ کتنے لوگ آئندہ سال کے منصوبے بناتے ہیں، مگر اگلا ہفتہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ پھر آخر ہمیں یہ یقین کیوں ہے کہ ہمارے پاس ابھی بہت وقت باقی ہے؟

شاید سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ "ابھی نہیں... ابھی بہت وقت ہے۔" یہی سوچ اسے توبہ سے دور کرتی ہے، نماز سے غافل کرتی ہے اور گناہوں میں بے خوف بنا دیتی ہے۔

یاد رکھیے! قیامت کا قریب ہونا یا دور ہونا اصل مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ میری اور آپ کی موت کتنی قریب ہے۔ جس دن انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، اسی دن اس کی زندگی بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔

آج بھی وقت ہے۔ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیے۔ اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیے۔ نمازوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے، قرآن سے تعلق مضبوط کیجیے، والدین کی خدمت کیجیے، حقوق العباد ادا کیجیے اور ہر اس کام سے بچیے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔

منزل واقعی قریب آ رہی ہے... سوال صرف اتنا ہے کہ کیا مسافر نے سفر کی تیاری کر لی ہے؟