میں سات پردوں کی ملکہ ہوں
میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جنہیں
بے لگام آزادی چاہیے۔
نمائش چاہیے،
شوہرت چاہیے،
ہر گلی، ہر محفل میں اپنی دھوم چاہیے۔
آج کل آزادی کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے
ہر جگہ جانا،
ہر بات کرنا،
کسی سے پردہ نہ کرنا
ہر کسی کو اپنا حال سنانا۔
لیکن میری آزادی یہ ہے کہ
میرا سکون کسی کی نظروں کا محتاج نہ ہو۔
میرا ہنسنا،
میرا رونا،
میری باتیں...
صرف ایک شخص کی امانت ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ وہ مجھے سات پردوں میں چھپا کر رکھے
بالکل کسی قیمتی متاعِ جاں کی طرح۔
کسی امانت کی طرح ۔
جیسے کسی نگینے کو مخمل میں لپیٹ کر رکھتے ہیں
کیونکہ
میں جانتی ہوں ۔۔۔۔
سات پردے کوئی قید نہیں ہوتے۔
سات پردے حفاظت ہوتے ہیں۔
دنیا کی کڑوی باتیں، اور میلی نظروں سے بچانے والے پردے۔
جب وہ مجھے پردے میں رکھے گے تو دنیا مجھے دیکھ نہیں پائے گی
ہاں عزت ضرور کرے گی۔
کیونکہ جو چیز چھپی ہوتی ہے نا اس کی قدر بہت زیادہ ہوتی ہے
میں وہ کتاب نہیں بننا چاہتی جو لائبریری میں ہر کوئی کھول کر پڑھ لے۔
میں وہ خط بننا چاہتی ہوں
جو صرف ایک کے نام لکھا جائے
اور وہ اسے سینے سے لگا کر رکھے۔
میں چاہتی ہوں وہ مجھے فخر سے کہے
"یہ میری ہے...
اور میں اس کی حفاظت چاہتا ہوں"
مجھے آزادی نہیں چاہیے۔
مجھے عزت چاہیے۔
مجھے نمائش نہیں چاہیے۔
مجھے محبت چاہیے۔
میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو کہتی ہیں "مجھے اڑنے دو"
میں وہ ہوں جو کہتی ہے "مجھے تھام لو"
اس طرح کہ دنیا مجھے چھو بھی نہ سکے۔
کیونکہ عورت قیمتی ہوتی ہے
اور قیمتی چیزیں ہمیشہ پردے میں ہی اچھی لگتی ہیں
جب محبت میں عزت شامل ہو جائے تو پردہ بھی خوبصورتی بن جاتا ہے
بلکہ جنت کا نمونہ محسوس ہوتا ہے۔
بچا کر رکھا ہے خود کو تیری خاطر
کوئی پیار سے دیکھے تو برا لگتا ہے
عائشہ 🍁