اذان اسلام اور اہل اسلام کا شعار ہے
اسلام کی پہچان ہے اسلام کی عزت کانشان ہے مسلمانوں کی عظمت کی پہچان ہے مسلمانوں کےلیے سرمایہ افتخار ہے مسلمانوں کے ایمان کی علامت ہے چناں چہ جن بستی میں اذان کی اواز گونجتی ہے وہ بستی مسلمانوں کا ثبوت دیتی ہے اسلام کی شان جھلکتی ہے
جو بستیاں اس کی آواز محروم رہتی ہے چھوٹے بڑے بوڑھا جوان اسکی صدائے بازگشت سے نامراد ہوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں مسلمان نہیں ہیں۔اسلام کی عظمت گاؤں سے نمایاں نہیں ہوتی ہے اذان سے ہماری نمازیں درست آور روزے قابل اعتبار بنٹے ہیں۔اذان اللہ کی پکار ہے
اذان سے
اللہ کی بڑائی کا خیال پیدا ہوتا ہے خدا کی وحدانیت کا ترانہ گنگنایا جاتا ہے نبی کی رسالت کا اقرار کیا چاتا ہے فلاح وکامرانی کی دعوت دی جاتا ہے اسلیے کہ اذان نام ہے ان مخصوص الفاظ کا جو نماز کے وقت ہونے کی خبر دیتا ہے
الاعلام بالفاظ مخصوصۃ بدخول وقت الصلوۃ
دنیائے انسانیت کے
ضمیر کی آواز ہے جو غافل کانوں کو دستک دیتی ہے اور دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے
کیوں کہ یہبرب کی پکار۔گہ اے اسلام کے ماننے والوں تم سچنے اللہ کی بڑائی اللہ کی وحدانیت کا اقرار ۔رسول کی رسالت کا اقرار کرلیا ہے ۔ایمان کے بعد عمل کی جانب متوجہ ہوجاؤ
اذان کی مشروعیت ۔۔۔۔۔پنج وقتہ نماز تو مکہ میں فرض ہوچکی تھی لیکن کفار مکہ نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا اسلیے اس مسلمان چبکے چپکے فریضہ نماز انجام دیا کرتے تھے پھر مسلمانوں نے ہجرت کی مدینہ منورہ میں قدم بوس ہوئے اہل اسلام سے مصیبت دور ہوگئی پریشانیاں کافور ہوگئی ۔تکالیف گا دور بیت گیا ان مع العسر یسرا کا زمانہ آگیا اسلام کی سربلندی کا وقت اپنی سروسامانی کے ساتھ چلنے لگا اس صحابہ نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی پہچان طے کرلی جائے چس سے نماز کا ہوجایا کرے سبھی باجماعت نماز ادا کرلیا کریں مختلف تجاویز منصۂ شہود پر آئیں بعض نے ناقوس کا مشورہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے ۔بعض نے بوق نرسنگھا کا مشورہ دیا آپ نے فرمایا کہ یہودیوں کا طریقہ ہے اور کچھ لوگوں نے آگ روشن کرنے کی رائے پیش کی آپ کی زبان صداقت یوں گویا ہوئی کہ رومیوں گا طرز ہے متفقہ فیصلہ نہ ہوسکا مجلس برخاست ہوگئی عبد اللہ بن زید نے خواب دیکھا کہ ایک شخص گھر کی دیوار پر کھڑا ہے اسکے ہاتھ میں ناقوس ہے انھوں نے کہا کیا یہ ناقوس فروخت کررہے ہیں
اس آدمی نے کہا تم اس سے کیا کرو گے انھوں نے کہا ہم آسکو نماز کے نائم بجآدیا کریں گے اس آدمی نے کہا کیا میں تم گو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤ انھوں نے کہا کیوں نہیں چناں چہ وہ قبلہ رو ہوا اذان کے کلمات کہنا شروع کردیے بھر تھوڑی دیر ٹھرنے بعد اذان کی طرح کلمات کہے البتہ قد قامت الصلوۃ کا اضافہ کردیا
حضرت عبد اللہ بن زید نبی کریم صلی کے پاس آئے ان کو خواب سے آگاہ کیا تو حضور صلی نے فرمایا کہ بلال کے ساتھ جاؤ ان کے سامنے اذان کے کلمات کہو اسلیے کہ ان کی آواز بلند ہے
اسی دن سے اذان کا یہ نظام قائم ہوگیا قیامت یہی نظام باقی رہے گا اسلام میں اذان کے سب سے پہلے مؤذن حضرت بلال قرار پائے۔۔۔۔۔