سننِ ابن ماجہ کا آخری درس: علم و اصلاح کی ایک یادگار محفل
16 جولائی، 2026
تیسری صدی ہجری کا ابتدائی زمانہ چل رہا ہے، دورِ نبوت کے آثار و برکات زمین کو منور کر رہی ہیں ، تابعین اور تبع ِتابعین کا مقدس وجود زمین کے لیے باعث فخر بنا ہوا ہے ، علمِ حدیث کی روح پرور خوشبوئیں مشامِ جاں کو معطر کر رہی ہیں ، حصولِ علم کا شوق تمام مصروفیات ِزندگی پر حاوی ہے، بخاری و مسلم جیسے نابغہ ٔ روزگار اور عبقری شخصیات اپنا لوہا منوا رہی ہیں، حدثنا و أخبرنا کی صداءِ بازگشت دلوں میں رس گھول رہی ہے ، ایک طرف ہزاروں محدثین و مفسرین تدوین حدیث و تفسیر میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں ،تو دوسری طرف فقہا و مجتہدین مسائل کا استنباط کر کے عوام کے لیے راہ ہم وار کر رہے ہیں۔ ایسے بابرکت زمانے میں ایک طرف سنہ ٢٠٩ ہجری میں امام ترمذی اپنی آنکھیں کھولتے ہیں، اور دوسری طرف اسی سال یزید ابن ماجہ قزوینی کے گھر میں ایک لاڈلہ پیدا ہوتا ہے، جس کا نام نامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر” محمد“ رکھا جاتا ہے ؛ مگر آگے چل کر یہ” امام ابن ماجہ“ کے نام سے شہرت پا تا ہے ۔
امام ابن ماجہ جب ہوش سنبھالتے ہیں ، تو دیکھتے ہیں کہ ہر طرف علم حدیث کا چرچا ہے، محدثین کے حلقۂ درس آنکھوں کو خیرہ کر رہے ہیں، چناں چہ آپ بھی علم حدیث کو اپنا مقصد و محور بناتے ہیں ، اور سفر کی لاٹھی ہاتھ میں لے کر حصولِ علم کے لیے نکل پڑتے ہیں ، شہر شہر ، قریہ قریہ اور بستی بستی کی خاک چھان کر علمِ حدیث میں وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں کہ علامہ یاقوت الحموی، حافظ شمس الدین ذہبی ، حافظ ابن حجر عسقلانی، ابن خلکان اور دیگر ماہرینِ فن کو بھی علم حدیث میں آپ کی امامت ، رفعتِ شان ، وسعتِ نظر اور ثقاہت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے، اور تھوڑے ہی عرصے بعد آپ علمِ حدیث میں ایک ایسی کتاب تصنیف کر دیتے ہیں ، کہ ائمہ حدیث اور ناقدین رجال کو اس کی مقبولیت کا اعتراف کرنے کے ساتھ،اس کو صحاح ستہ میں شامل کرنا پڑتا ہے، جس کو آج ”سنن ابن ماجہ “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کتب صحاح ستہ میں اس کو آخری کتاب شمار کیا جاتا ہے، اس کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ صرف امام ابو ذرعہ رازی کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے، کہ وہ فرماتے ہیں : ”اگر یہ کتاب لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ گئی، تو اس دور کی اکثر جوامع اور مصنفات بے کار اور معطل ہو کر رہ جائیں گی “ اور ہوا بھی یہی کہ آپ کے اسلوب و انداز، اور اخذِ حدیث کے طور طریقے اور بیانِ حدیث کے دل نشیں طرز نے دیگر کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ، اور جو مقبولیت اس کے حصے میں آئی، وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوئی۔
ہمارے ملک ہندوستان میں جب سے علمِ حدیث کا درس مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے شروع کیا ، اسی وقت سے آج تک یہ کتاب شامل نصاب رہی ہے، دارالعلوم کے قیام کے بعد بھی دورۂ حدیث شریف کے طالب علموں کے لیے اس کتاب کا پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو مادرِ علمی میں خاص اہمیت حاصل ہے، اور اس کا درس ایسی شخصیت کے متعلق ہے، جو محتاج تعارف نہیں، جن کے بارے ان کے ایک شاگرد مولانا ابوعبداللہ سفیان طائی کا یہ جملہ بر محل ہے کہ ”حضرت اقدس پیرِ طریقت مولانا سلمان صاحب بجنوری - دامت فیوضہم* - کا اصلاحی مزاج و مذاق اہل دنیا سے مخفی نہیں، اور حسن اتفاق کہیے کہ حضرت والا سے متعلق ابن ماجہ کے جو ابواب ہیں ، وہ تقریباً سب اصلاحی ہیں ، اس اعتبار سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اصلاحی نصاب کے لئے مادرِ علمی نے ایک بہترین مصلح کا انتخاب کیا “ ۔
آپ کا درس نہایت دل نشین ،اور اندازِ بیان نہایت شگفتہ تھا ، گویا کہ الفاظ موتیوں کے مانند جھڑ رہے ہوں، جو ہرسامع کو مسحور کر دے، خاص طور پر مشاجراتِ صحابہ پر آپ کا کلام اپنا گرویدہ بنانے کے لیے کافی تھا ، صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب کو اس انداز سے بیان فرماتے ، کہ عجیب سماں بندھ جاتا تھا، جب آپ خاموش ہوتے تو یہ محسوس ہوتا ،کہ
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے پیاسا نکلا
افسوس کہ آج یہ مختصر سا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ، آج ساری رعنائیاں ختم ہوگئیں ؛ کیوں کہ آج آپ کا درس پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا، اور اس سادگی کے ساتھ کہ خود ترجمان کو بھی خبر نہیں تھی۔ یہ اکابر دارالعلوم کا امتیازی شان رہا ہے کہ انتہائی سادگی کے ساتھ ہر کام انجام دیتے ہیں۔ اب نہ معلوم اتنے حسین لمحے اور یہ پرکیف مواقع اب کبھی میسر ہوں گے یا نہیں ، شاید پوری زندگی اس کی تمنا کرتے رہیں؛ لیکن یہ ہمارے نصیب میں نہ آئے ۔
کچھ اس طرح سے وصل کا لمحہ گزر گیا
پلکیں جھپک کے دیکھا تو دورِ فراق تھا
بس دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی علم حدیث کا شغف عطا فرمائیں ۔ آمین یارب العالمین
✍️: محمد شاہد گڈاوی