*گھریلو زندگی میں سنتوں کا نفاذ* 


 *ایک گھر ہے...* 
کشادہ، خوبصورت، ہر کمرے میں جدید فرنیچر، مہنگے پردے، قیمتی برتن، ہر فرد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون، ہر آسائش موجود؛ لیکن اس گھر میں داخل ہوں تو دل گھٹنے لگتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان بات بات پر تلخی، والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے، سلام کا رواج ختم، قرآن کی تلاوت سنائی نہیں دیتی، نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، دسترخوان پر برکت نہیں، ہر شخص اپنی الگ دنیا میں گم ہے۔ بظاہر یہ ایک گھر ہے، مگر حقیقت میں چند افراد کا ایک ہی چھت کے نیچے رہنا ہے۔

 *دوسرا گھر...* 
مٹی کی دیواریں، سادہ سا سامان، کبھی کبھی کھانے کے لیے صرف چند کھجوریں، کبھی کئی دن چولہا نہیں جلتا؛ مگر اس گھر میں سکون بھی ہے، محبت بھی، قناعت بھی، ذکرِ الٰہی بھی، عبادت بھی اور ایسی برکت کہ قیامت تک آنے والے مسلمان اس گھر کو اپنے لیے نمونہ بناتے ہیں۔
یہ دوسرا گھر کسی عام انسان کا نہیں، رسول اللہ ﷺ کا گھر ہے۔
یہیں سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: آخر وہ کون سی دولت تھی جس نے اس گھر کو دنیا کے تمام محلات سے زیادہ قیمتی بنا دیا؟

اس کا جواب ایک لفظ میں ہے:
 *"سنت"۔* 
آج ہم نے گھروں کو خوبصورت بنانے کے لیے ہر چیز خرید لی، لیکن سنتوں کو گھر سے رخصت کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سامان بڑھتا گیا، سکون کم ہوتا گیا؛ سہولتیں بڑھتی گئیں، محبت گھٹتی گئی؛ گھروں کی دیواریں مضبوط ہوئیں، مگر رشتے کمزور ہوتے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان عورت کو صرف نئے فرنیچر یا نئے پکوان کی نہیں، بلکہ اپنے گھر میں سنتوں کو واپس لانے کی ضرورت ہے۔

گھر... اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے بڑی نعمت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا﴾
"اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔"
(سورۃ النحل: 80)»

غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے گھر کو "سکن" فرمایا، یعنی آرام، اطمینان اور قلبی سکون کا مقام۔

آج ہم سکون کو بینک بیلنس، قیمتی سامان اور بڑے مکان میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ قرآن بتا رہا ہے کہ سکون کا اصل راز گھر کے اندر اللہ کی اطاعت اور سنت کے نفاذ میں ہے۔

اگر گھر میں اللہ کی نافرمانی عام ہو جائے، نگاہوں کی حفاظت نہ رہے، زبانیں ایک دوسرے کو زخمی کرتی رہیں، نمازوں کی بے قدری ہو، والدین کی عزت ختم ہو جائے، اولاد بے راہ روی کا شکار ہو جائے، تو پھر وہ عمارت "گھر" نہیں رہتی، صرف رہائش گاہ بن جاتی ہے۔

 *نبی کریم ﷺ نے گھر کو عبادت گاہ بنایا* 
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ عبادت صرف مسجد میں ہوتی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کو بھی عبادت کا مرکز بنایا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:
«"اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»

قبریں اس لیے مثال بنیں کہ وہاں نماز ادا نہیں کی جاتی۔ گویا آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھروں میں نماز، ذکر، تلاوت اور عبادت کو زندہ رکھو۔

آج ذرا اپنے گھروں کا جائزہ لیجیے۔
کیا ہمارے گھروں میں روزانہ قرآن کی آواز گونجتی ہے؟
کیا فجر کے وقت پورا گھر جاگتا ہے؟
کیا بچوں نے اپنے والدین کو تہجد پڑھتے دیکھا ہے؟
کیا دسترخوان پر بیٹھنے سے پہلے بسم اللہ اور بعد میں الحمدللہ کی آواز آتی ہے؟
اگر نہیں، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے اپنے گھروں کو زندہ رکھا ہے یا واقعی "قبروں" جیسا خاموش بنا دیا ہے؟
نبی کریم ﷺ کا گھرانہ... عظمت کا اصل معیار
آج بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر کی عزت اس میں کام نہ کرنے میں ہے۔
لیکن حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا:
رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟
انہوں نے فرمایا:
«"آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مصروف رہتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔"
(صحیح بخاری)»

سوچیے!
جس ہستی کے ایک اشارے پر ہزاروں صحابہ جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، وہ اپنے گھر میں جوتا بھی خود درست کر لیتے، کپڑے بھی خود سی لیتے اور اہلِ خانہ کے کاموں میں ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔
یہ صرف عاجزی نہیں تھی، بلکہ امت کو یہ سبق دینا تھا کہ گھر محبت سے چلتے ہیں، تکبر سے نہیں۔
آج اگر شوہر یہ سمجھ لے کہ گھر کے ہر کام کا بوجھ صرف بیوی پر ڈال دینا مردانگی نہیں، اور بیوی یہ سمجھ لے کہ شوہر کی خدمت اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے، تو آدھے گھریلو جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں۔

حضرت عائشہؓ کا گھر... جس میں دنیا حیران رہ گئی
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
«"ہم پر دو دو مہینے گزر جاتے تھے اور ہمارے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔"»
پوچھا گیا:
پھر آپ لوگ کھاتے کیا تھے؟
فرمایا:
«"کھجور اور پانی، البتہ کبھی انصار کے بعض لوگ دودھ بھیج دیتے تھے۔"
(صحیح بخاری)»

ذرا تصور کیجیے!
دو مہینے...
چولہا نہیں جلا...
لیکن نہ زبان پر شکوہ آیا، نہ اللہ سے ناراضی، نہ شوہر سے شکایت۔
آج معمولی سی معاشی تنگی آ جائے تو بعض گھروں میں سکون ختم ہو جاتا ہے۔ شکایتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، دوسروں کی زندگیوں سے اپنی زندگی کا موازنہ کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ محبت بھی دولت کے ترازو میں تولی جانے لگتی ہے۔
ازواجِ مطہرات نے ہمیں سکھایا کہ گھر کا سکون رزق کی کثرت سے نہیں، دل کی قناعت سے پیدا ہوتا ہے۔
ایک ایسی سنت جسے ہم نے بھلا دیا
رسول اللہ ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے سلام کرتے۔
یہ معمولی سا عمل نہیں تھا۔
سلام دراصل گھر میں رحمت کے داخل ہونے کا اعلان ہے۔
افسوس! آج کتنے گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ دروازہ کھلتا ہے، مگر سلام کی جگہ موبائل کان سے لگا ہوتا ہے، یا چہرے پر تھکن اور ناراضی ہوتی ہے۔
ایک لفظ "السلام علیکم" صرف دعا نہیں، بلکہ یہ گھر کے ماحول کو بدلنے والی سنت ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے، شیطان دور ہوتا ہے اور اہلِ خانہ کے دلوں میں اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔
 *صحابیات کے گھروں سے آج کے گھروں تک* 
اسلام نے عورت کو صرف گھر سنبھالنے والی نہیں بنایا بلکہ گھر بنانے والی بنایا ہے۔ اینٹوں سے مکان بنتا ہے، مگر کردار سے گھر بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت یافتہ خواتین نے ایسے گھر آباد کیے جن سے محدثین، فقہاء، مجاہدین اور اولیاء پیدا ہوئے۔
 *سوال یہ ہے کہ ان گھروں میں آخر ایسی کون سی بات تھی جو آج ہمارے گھروں میں کم ہوتی جا رہی ہے؟* 

اس کا جواب صرف ایک جملہ ہے:
انہوں نے گھر کو خواہشات کا مرکز نہیں، عبادت کا مرکز بنایا تھا۔
 *حضرت فاطمہؓ... جب خدمت عبادت بن گئی* 
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے محبوب بیٹی تھیں۔ اگر دنیاوی معیار دیکھا جائے تو آپ ﷺ چاہتے تو ان کے لیے خادموں کی قطار لگا دیتے، مگر اسلام کا مزاج کچھ اور تھا۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ چکی پیستے پیستے حضرت فاطمہؓ کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، پانی بھرنے سے کندھوں پر نشان آ گئے، گھر کے کاموں سے سخت مشقت ہوتی تھی۔ دونوں نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک خادم مانگ لیا جائے۔
جب وہ حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«"کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب سونے لگو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»

غور کیجیے! رسول اللہ ﷺ نے خادم دینا حرام نہیں کیا، لیکن پہلے دل کو اللہ سے جوڑ دیا۔ گویا یہ تعلیم دی کہ جس گھر میں ذکرِ الٰہی ہوگا، وہاں مشقت بھی عبادت بن جائے گی۔
آج ہمارے گھروں میں سہولتیں بہت بڑھ گئی ہیں، مگر شکایتیں بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ واشنگ مشین ہے، مکسر ہے، گیس ہے، فریج ہے، مگر پھر بھی زبان پر اکثر یہی الفاظ ہوتے ہیں: "میں ہی سب کچھ کرتی ہوں!"

 *حضرت اسماءؓ... محبت خدمت سے بڑھتی ہے* 
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ اپنے شوہر حضرت زبیرؓ کے ساتھ انتہائی سادہ زندگی گزارتی تھیں۔
وہ خود گھوڑے کی خدمت کرتیں، کھجور کی گٹھلیاں سر پر اٹھا کر لاتیں، گھر کے کام کرتیں اور کسی عار کو محسوس نہ کرتیں۔
(صحیح بخاری)
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے انہیں راستے میں دیکھا اور سواری پر بٹھانا چاہا، مگر انہوں نے شوہر کی غیرت کا خیال کرتے ہوئے معذرت کر لی۔

 *یہ واقعہ صرف خدمت کا نہیں بلکہ حیا، وفاداری اور باہمی احترام کا سبق دیتا ہے* ۔

آج بعض اوقات میاں بیوی کا تعلق صرف حقوق کے مطالبے تک محدود ہو جاتا ہے۔ ہر شخص پوچھتا ہے: "میرے حقوق کیا ہیں؟" جبکہ صحابہ و صحابیات کی زندگی کا سوال یہ تھا: "میری ذمہ داری کیا ہے؟"

 *حضرت عائشہؓ... اختلاف بھی ادب کے ساتھ* 
گھریلو زندگی میں اختلافات ہونا فطری بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں بھی بعض اوقات ازواجِ مطہرات کے درمیان غیرت کے واقعات پیش آئے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی غصے، بدزبانی یا ذلت آمیز انداز کو اختیار نہیں فرمایا۔

ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کے سامنے حضرت صفیہؓ کا بھیجا ہوا کھانے کا برتن ٹوٹ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ڈانٹا، نہ سخت کلامی کی۔ آپ ﷺ نے سکون سے فرمایا:
«"تمہاری والدہ کو غیرت آگئی۔"»
پھر ٹوٹے ہوئے برتن کے بدلے دوسرا برتن دے دیا۔
(صحیح بخاری)
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر کا ہر مسئلہ چیخنے سے نہیں، حکمت سے حل ہوتا ہے۔

آج کتنے ہی گھر صرف اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ ایک لمحے کے غصے میں ایسے الفاظ کہہ دیے جاتے ہیں جن کے زخم برسوں نہیں بھرتے۔
سنتیں صرف عبادات میں نہیں، اخلاق میں بھی ہیں
بعض لوگ سنت کو صرف لباس، مسواک یا کھانے کے آداب تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ سنت کا سب سے نمایاں پہلو اخلاق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔"
(جامع ترمذی)»
غور کیجیے! آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ سب سے بہتر وہ ہے جو بازار میں اچھا ہو یا دوستوں میں خوش اخلاق ہو، بلکہ اصل امتحان گھر کو قرار دیا۔

آج ایک عجیب المیہ ہے۔ باہر لوگوں سے نہایت نرمی سے بات کی جاتی ہے، مگر گھر آتے ہی لہجہ بدل جاتا ہے۔ والدین، شوہر، بیوی اور بچوں کو وہ اخلاق نہیں ملتا جو اجنبیوں کو مل جاتا ہے۔
یہ سنتِ نبوی کے بالکل خلاف ہے۔

 *آج ہمارے گھروں سے سنتیں کیوں رخصت ہو رہی ہیں؟* 
اگر ہم انصاف سے جائزہ لیں تو چند بنیادی اسباب سامنے آتے ہیں۔
پہلا سبب: گھروں میں اجتماعی عبادت ختم ہو گئی۔ پہلے فجر کے بعد قرآن کی آواز سنائی دیتی تھی، آج موبائل کی آواز پہلے سنائی دیتی ہے۔
دوسرا سبب: دسترخوان سے برکت اٹھتی جا رہی ہے۔ ایک ہی گھر کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کم کھاتے ہیں۔ ہر شخص اپنی اسکرین کے ساتھ مصروف ہے۔
تیسرا سبب: گفتگو میں نرمی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ طنز، طعنہ، غصہ اور چیخنا عام ہوتا جا رہا ہے۔
چوتھا سبب: بچوں کی تربیت والدین کے بجائے موبائل کر رہا ہے۔ بچے والدین سے زیادہ اسکرین کو دیکھتے ہیں، اس لیے ان کے کردار پر بھی اسی کا اثر پڑ رہا ہے۔

 *گھر میں سنتیں واپس کیسے آئیں؟* 

تبدیلی کسی بڑے منصوبے سے نہیں، چند چھوٹے مگر مستقل اعمال سے شروع ہوتی ہے۔
- گھر میں داخل ہوں تو بلند آواز سے سلام کریں۔
- فجر یا مغرب کے بعد روزانہ صرف دس منٹ قرآن کی تلاوت یا ترجمہ پورا خاندان مل کر سنے۔
- دن میں کم از کم ایک وقت سب افراد ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔
- سونے سے پہلے مسنون اذکار کو پورے گھر کا معمول بنایا جائے، خصوصاً حضرت فاطمہؓ والی تسبیحات۔
- ہفتے میں ایک دن گھر کے افراد مل کر سیرتِ نبوی ﷺ یا صحابیات کی زندگی کا مطالعہ کریں۔
- اختلاف ہو تو اسی دن معافی مانگنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ شیطان کا سب سے پسندیدہ کام گھروں میں جدائی ڈالنا ہے۔

آج دنیا کے ماہرینِ نفسیات خاندانی سکون کے لیے مختلف اصول پیش کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے چودہ سو سال پہلے وہ تعلیمات عطا فرما دیں جو ہر زمانے کے لیے باعثِ رحمت ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم انہیں کتابوں سے نکال کر اپنے گھروں میں لے آئیں۔

 *جب سنتیں لوٹ آئیں...* 
کسی بزرگ نے بڑی حکمت کی بات کہی:
"گھر اس وقت نہیں ٹوٹتا جب اس کی دیواروں میں دراڑ پڑتی ہے، بلکہ اس وقت ٹوٹنا شروع ہوتا ہے جب اس کے افراد کے دلوں سے اللہ کا خوف اور رسول اللہ ﷺ کی سنت نکل جاتی ہے۔"
یہ جملہ شاید تلخ محسوس ہو، مگر اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے گھروں کے مسائل کی جڑ مالی تنگی نہیں، بلکہ سنتوں سے دوری ہے۔
ہم نے گھر تو بڑے بنا لیے، لیکن ان میں رہنے والوں کے دل چھوٹے ہو گئے۔
سامان بڑھ گیا، مگر صبر کم ہو گیا۔
کھانے کی اقسام بڑھ گئیں، مگر دسترخوان کی برکت کم ہو گئی۔
تعلیم بڑھ گئی، مگر تربیت گھٹ گئی۔
اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کو رسول اللہ ﷺ کے گھر کی بجائے زمانے کے رجحانات کے مطابق چلانا شروع کر دیا۔

 *برکت آخر کہاں سے آتی ہے؟* 
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ برکت کا تعلق صرف آمدنی سے ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔
برکت یہ ہے کہ تھوڑا مال بھی کافی ہو جائے، تھوڑا وقت بھی بہت محسوس ہو، کم وسائل میں بھی دل مطمئن رہے اور گھر میں محبت قائم رہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے کھانے میں، سونے میں، لباس میں، سلام میں، ذکر میں، ہر چھوٹے بڑے کام میں سنتیں سکھائیں، کیونکہ یہ صرف آداب نہیں بلکہ برکت کے دروازے ہیں۔۔

 *ایک ایسا گھر جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے* 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھتے، وضو فرماتے، نماز پڑھتے، دعا کرتے اور پھر اہلِ خانہ کو بھی عبادت کی ترغیب دیتے۔
رمضان کے آخری عشرے میں تو آپ ﷺ خود بھی شب بیداری کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

 *ذرا سوچیے!* 
جس گھر میں رات کے آخری پہر اللہ کا ذکر ہو، جہاں قرآن کی تلاوت ہو، جہاں نماز کے لیے ایک دوسرے کو جگایا جاتا ہو، وہاں سکون کیوں نہ ہوگا؟
اور جس گھر میں رات دیر تک فضول مشاغل، اسکرینیں، بے مقصد گفتگو اور غفلت ہو، وہاں دلوں کی سختی کیوں نہ آئے؟

 *بچوں کی تربیت... نصیحت سے زیادہ عمل سے ہوتی ہے* 
اکثر والدین شکایت کرتے ہیں:
"بچے ہماری بات نہیں مانتے۔"
لیکن سوال یہ ہے کہ بچوں نے ہمیں کرتے ہوئے کیا دیکھا؟
اگر بچہ اپنے والد کو نماز کی فکر کرتے دیکھے، اپنی والدہ کو قرآن کی تلاوت کرتے دیکھے، گھر میں سلام، دعا، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق دیکھے، تو یہی اس کی سب سے بڑی تربیت ہے۔
بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔

اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد صالح بنے تو پہلے اپنے گھروں میں سنتوں کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

 *سنتیں چھوڑنے کے نتائج* 
جب سنتیں زندگی سے نکلتی ہیں تو ان کی جگہ کوئی خلا نہیں رہتا، بلکہ وہاں شیطان اپنی عادتیں لے آتا ہے۔
سلام کی جگہ خاموشی آ جاتی ہے۔
ذکر کی جگہ غفلت آ جاتی ہے۔
شکر کی جگہ شکایت آ جاتی ہے۔
مشورے کی جگہ ضد آ جاتی ہے۔
رحمت کی جگہ غصہ آ جاتا ہے۔
اور رفتہ رفتہ وہ گھر، جو سکون کا مرکز ہونا چاہیے تھا، ذہنی دباؤ، بے اعتمادی اور بے برکتی کا مرکز بن جاتا ہے۔

آج بڑھتی ہوئی طلاقیں، اولاد کی نافرمانیاں، والدین سے دوری، گھریلو بے سکونی اور خاندانی انتشار ہمیں یہی پیغام دے رہے ہیں کہ ہمیں اپنے گھروں کا رخ دوبارہ سنتِ نبوی ﷺ کی طرف موڑنا ہوگا۔

 *تبدیلی کہاں سے شروع ہوگی؟* 
بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ پہلے پورا گھر بدلے، پھر ہم بدلیں گے۔۔
تبدیلی ہمیشہ ایک فرد سے شروع ہوتی ہے۔
اگر گھر کی ایک خاتون بھی اخلاص کے ساتھ یہ فیصلہ کر لے کہ:
میں سلام کو زندہ کروں گی۔
میں قرآن کو اپنے گھر میں جگہ دوں گی۔
میں شکایت سے زیادہ شکر کو اختیار کروں گی۔
میں بچوں کو سنتیں سکھاؤں گی۔
میں غصے کے بجائے حلم سے کام لوں گی۔
تو یقین جانیے، اس کی برکت پورے گھر تک پہنچتی ہے۔

ہمارے اکابر فرمایا کرتے تھے:
"ایک نیک عورت پورے خاندان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔"
یہ کوئی مبالغہ نہیں، تاریخِ اسلام اس کی گواہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی سب سے بہترین نسل صرف خطبات سے تیار نہیں کی، بلکہ گھر سے تیار کی۔
حضرت خدیجہؓ کا گھر، حضرت عائشہؓ کا گھر، حضرت فاطمہؓ کا گھر، حضرت اسماءؓ کا گھر... یہی وہ تربیت گاہیں تھیں جہاں ایمان صرف پڑھایا نہیں جاتا تھا بلکہ جیا جاتا تھا۔
آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں محبت لوٹ آئے، اولاد صالح بنے، رزق میں برکت ہو، دلوں سے نفرت ختم ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو، تو ہمیں کسی نئے فلسفے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنے گھروں میں سنتِ رسول اللہ ﷺ کو واپس لانے کی ضرورت ہے۔

گھر کی زینت مہنگا فرنیچر نہیں، بلکہ سنت ہے۔
گھر کی خوشبو قیمتی عطر نہیں، بلکہ ذکرِ الٰہی ہے۔
گھر کی مضبوطی سیمنٹ اور سریا نہیں، بلکہ تقویٰ، حسنِ اخلاق اور باہمی محبت ہے۔

آئیے! آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں کو صرف رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایسی تربیت گاہ بنائیں گے جہاں ہر دن کسی نہ کسی سنت پر عمل ہوگا، ہر زبان پر سلام ہوگا، ہر دل میں اللہ کی یاد ہوگی، اور ہر رشتہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو ایمان، محبت، برکت، سکون اور سنتِ نبوی ﷺ کا گہوارہ بنا دے، اور ہمیں ان خوش نصیب خواتین میں شامل فرمائے جن کے بارے میں قیامت کے دن کہا جائے گا کہ انہوں نے اپنے گھروں کو دنیا میں بھی جنت کا نمونہ بنایا اور آخرت میں بھی جنت کا راستہ اختیار کیا۔

آمین یا رب العالمین۔