*دورِ حاضر کا میڈیا: تعمیرِ معاشرہ یا تخریبِ افکار؟* 


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾

"اے ایمان والو! اگر کوئی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو جاؤ۔" (الحجرات: 6)

قرآنِ کریم کی یہ آیت آج کے میڈیا کے دور میں ایک مکمل ضابطۂ حیات اور ضابطۂ صحافت کی حیثیت رکھتی ہے۔ چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی یہ ہدایت اس زمانے کے لیے بھی تھی اور آج کے اس دور کے لیے بھی ہے جس میں ایک خبر چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ موبائل فون، ٹیلی ویژن، یوٹیوب، فیس بک، ایکس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات کے دروازے تو کھول دیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ فتنوں، افواہوں اور فکری انتشار کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔

آج میڈیا صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ وہ ذہن سازی، رائے سازی اور ترجیحات سازی کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ لوگ کیا سوچیں گے؟ کس سے محبت کریں گے؟ کس سے نفرت کریں گے؟ کس مسئلے کو اہم سمجھیں گے اور کس کو نظر انداز کر دیں گے؟
 ان سب پر میڈیا کا گہرا اثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔

میڈیا اگر سچائی، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرے تو قوموں کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ وہ عوام کو تعلیم دیتا ہے، شعور بیدار کرتا ہے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور اصلاحِ احوال میں معاون بنتا ہے۔ لیکن اگر یہی میڈیا سنسنی خیزی، تعصب، مفاد پرستی اور ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہو جائے تو پھر وہ معاشرے کی تعمیر کے بجائے افکار کی تخریب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں ہندوستان میں معروف استاد سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع نے میڈیا کے کردار پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑنے والے ایک استاد کے علمی کارناموں پر گفتگو کرنے کے بجائے بعض حلقوں میں ان کی شناخت، نام اور غیر متعلقہ امور کو موضوعِ بحث بنا دیا گیا۔ بعض ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا مباحثوں میں آن لائن اساتذہ کے مقام و مرتبہ کو بھی اس انداز میں چیلنج کیا گیا جسے تعلیمی حلقوں نے افسوسناک قرار دیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور شور و غوغا سرخیوں میں آ جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک استاد، جو قوم کے مستقبل کو سنوارنے کا کام کر رہا ہو، میڈیا کی نظر میں عزت اور احترام کا مستحق نہیں تو پھر نئی نسل کو علم اور معلم کا احترام کون سکھائے گا؟ اسلام میں استاد کا مقام انتہائی بلند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا" یعنی "میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔" جس دین کے نبی خود اپنے تعارف میں معلم ہونے کو باعثِ فخر سمجھتے ہوں، اس دین کے ماننے والے استاد کی تحقیر کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج میڈیا کے پاس خبر تو بہت ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ معلومات کے انبار ہیں لیکن بصیرت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ ہر گھنٹے نئی خبریں، نئے انکشافات اور نئی بحثیں سامنے آتی ہیں، لیکن ان سب کے درمیان سچائی کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ خبر کی صحت جاننے سے پہلے اس پر ردِّ عمل ظاہر کر دیتے ہیں۔ کسی ویڈیو کا چند سیکنڈ کا حصہ دیکھ کر فیصلے صادر کر دیے جاتے ہیں۔ کسی شخص کے خلاف مہم چل جائے تو تحقیق کے بغیر اس کی کردار کشی شروع ہو جاتی ہے۔

اسلام نے خبر کے باب میں جو اصول دیے ہیں وہ آج بھی ہر صحافی اور ہر سوشل میڈیا صارف کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾
"اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔" (بنی اسرائیل: 36)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرتا پھرے۔" (صحیح مسلم)

اگر صرف ان دو تعلیمات پر عمل کر لیا جائے تو جھوٹی خبروں، افواہوں اور سوشل میڈیا کے بیشتر فتنوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ آج میڈیا کے بڑے ادارے مالی، سیاسی اور تجارتی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ اشتہارات، سرمایہ کاری، ریٹنگ اور ناظرین کی تعداد میڈیا کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اہم قومی، تعلیمی اور سماجی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ تنازعات، شور شرابا اور اشتعال انگیز موضوعات نمایاں کر دیے جاتے ہیں۔
 *سوال یہ ہے کہ اگر خبر کا معیار سچائی کے بجائے منافع بن جائے تو معاشرہ کس سمت جائے گا؟* 

آج کی ایک بڑی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم خبر کو علم اور تفریح کو شعور سمجھ بیٹھے ہیں۔ گھنٹوں ٹی وی مباحث دیکھنے والے بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان مباحث سے ان کی زندگی میں کیا مثبت تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں ہر دن درجنوں خبریں یاد رہتی ہیں لیکن شاید ایک بھی ایسی بات یاد نہیں رہتی جو ہمارے اخلاق، کردار یا فکر کو بہتر بنا سکے۔

میڈیا چلانے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قلم، کیمرہ اور مائیک صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت ہیں۔ ایک غلط خبر کسی فرد کی عزت، روزگار، خاندان اور مستقبل کو تباہ کر سکتی ہے۔ دنیا کی عدالتوں سے بچنا ممکن ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے بچنا ممکن نہیں۔ صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔

اسی طرح میڈیا دیکھنے والوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہر فارورڈ کی جانے والی خبر، ہر شیئر کی جانے والی پوسٹ اور ہر تبصرہ ہمارے اعمال نامے کا حصہ بن رہا ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے اکثر لوگ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اسے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خبر کو عقل، تحقیق اور دیانت کے پیمانے پر پرکھے۔

خصوصاً خواتین اور ماؤں کی ذمہ داری دوہری ہے، کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کی معمار ہیں۔ آج بچوں کی تربیت صرف گھر، مدرسے اور اسکول میں نہیں ہو رہی بلکہ موبائل اسکرینیں بھی ان کے ذہن اور شخصیت کو تشکیل دے رہی ہیں۔ اگر ماں اپنے بچے کی جسمانی غذا کا خیال رکھتی ہے تو اسے اس کی فکری غذا کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ جو بچے دن رات منفی، اشتعال انگیز اور غیر اخلاقی مواد دیکھتے ہیں ان کی سوچ اور کردار لازماً متاثر ہوتے ہیں۔

ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ *آخر کیوں تعلیم، اخلاق، کردار سازی اور قومی ترقی کے موضوعات کم اہم دکھائی دیتے ہیں جبکہ تنازعات، افواہیں اور سنسنی خیز مباحث زیادہ نمایاں ہوتے ہیں؟* 
 *کیا قوموں کی تعمیر شور سے ہوتی ہے یا شعور سے؟* 
 *کیا ریٹنگ سچائی سے زیادہ قیمتی ہے؟* 
 *کیا ہم اپنی سوچ خود بنا رہے ہیں یا دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیوں کو قبول کر رہے ہیں؟* 

وقت کا تقاضا ہے کہ میڈیا آزادی کے ساتھ ذمہ داری کو بھی سمجھے، صحافت کو تجارت کے بجائے امانت جانے، اور عوام بھی خبر اور پروپیگنڈے میں فرق کرنا سیکھیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ میڈیا بذاتِ خود نہ خیرِ مطلق ہے نہ شرِ مطلق؛ اصل سوال اس کے استعمال کا ہے۔ اگر یہ سچائی، عدل اور اخلاق کے تابع ہو تو معاشرے کی تعمیر کرتا ہے، اور اگر مفادات، تعصبات اور سنسنی خیزی کے تابع ہو جائے تو افکار و اقدار کی تخریب کا سبب بنتا ہے۔

آج کے اس میڈیا زدہ دور میں شاید سب سے اہم سوال یہی ہے: 
 *کیا ہم معلومات کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی حقیقت سے قریب ہو رہے ہیں یا اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟* 
 اگر یہ سوال ہمیں بے چین کرتا ہے تو امید باقی ہے، اور اگر یہ سوال ہی ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا تو یہی ہماری سب سے بڑی فکری محرومی ہے۔

؎ قلم اگر ہو امانت تو قوم سنور جائے
قلم اگر ہو تجارت تو فکر بکھر جائے

؎ خبر کی روشنی جب سچ کے رستے پر سفر کرتی ہے
تو قوموں کی تقدیروں میں اجالا بھر دیا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔