*گھروں سے برکتیں کیوں اٹھ رہی ہیں؟* 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکون، محبت اور رحمت کے لیے خاندان اور گھر کی نعمت عطا فرمائی۔ گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کی تربیت، شخصیت، ایمان اور نسلوں کی تعمیر کا مرکز ہوتا ہے۔ جب گھر میں سکون ہو تو انسان دنیا کی بڑی سے بڑی پریشانی برداشت کر لیتا ہے، لیکن جب گھر ہی بے سکونی کا شکار ہو جائے تو انسان کے لیے ہر نعمت بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گھروں میں آسائشیں بڑھ رہی ہیں مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے، وسائل بڑھ رہے ہیں مگر محبتیں گھٹ رہی ہیں، کھانے زیادہ ہیں مگر برکت کم ہے، گھر بڑے ہیں مگر دل تنگ ہو چکے ہیں۔ *آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر گھروں سے برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں؟* 

اسلام اس مسئلے کی جڑ کو انسان کے اعمال، ماحول اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بیان کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی اطاعت سے دور ہوتا ہے تو زندگی سے برکت، سکون اور رحمت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔

 *اللہ تعالیٰ سے دوری برکتوں کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ* 

گھر کی اصل رونق اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے۔ جس گھر میں نماز، قرآن، دعا اور ذکرِ الٰہی ہو وہاں رحمت نازل ہوتی ہے۔ لیکن جب گھروں میں اللہ کا ذکر کم ہو جائے، اذان کی آواز پر توجہ نہ دی جائے، نمازیں قضا ہونے لگیں، اور قرآن صرف الماریوں کی زینت بن جائے تو دل سخت ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا
“اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو یقیناً اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔”
(سورۃ طٰہٰ: 124)
آج بہت سے گھروں میں رات دیر تک موبائل، ڈرامے، فلمیں اور فضول مشغلے جاری رہتے ہیں مگر فجر کی نماز کے وقت خاموشی اور غفلت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وہاں کیسے نازل ہو جہاں اس کے احکام کی پروا نہ ہو؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے۔”
 (صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت گھروں میں روحانی زندگی پیدا کرتی ہے اور شیطانی اثرات کو دور کرتی ہے۔

 *حرام کمائی بے سکونی اور مصیبت کا دروازہ* 
آج بہت سے لوگ رزق کی حلال و حرام تمیز کو معمولی سمجھتے ہیں۔ دھوکہ، جھوٹ، سود، رشوت، ناپ تول میں کمی، حق تلفی اور ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا مال اگرچہ ظاہری طور پر زیادہ ہو، مگر اس میں خیر و برکت نہیں ہوتی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ
“اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔”
 (سورۃ البقرۃ: 276)

ایک اور مقام پر فرمایا:
> يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
“اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔”
 (سورۃ المؤمنون: 51)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ پاک رزق نیک اعمال اور روحانی برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ حرام مال گھروں میں وقتی آسائش تو لا سکتا ہے مگر سکون نہیں۔

آج کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں دولت کی کمی نہیں مگر اولاد نافرمان، رشتے ٹوٹے ہوئے، بیماریاں مسلسل، اور دل پریشان ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ برکت صرف مال کی زیادتی کا نام نہیں بلکہ اللہ کی رضا سے ملنے والی خیر کا نام ہے۔

 *والدین کی نافرمانی رحمتوں کے بند ہونے کا سبب* 
جس گھر میں والدین کی عزت نہ ہو وہاں خیر زیادہ دیر باقی نہیں رہتی۔ ماں باپ کی دعائیں انسان کی زندگی سنوار دیتی ہیں اور ان کی دل آزاری اللہ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
“اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔”
 (سورۃ الإسراء: 23)
آج معمولی باتوں پر والدین سے اونچی آواز میں بات کرنا، ان کی نصیحتوں کو بوجھ سمجھنا، اور ان کی خدمت سے بچنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ گھروں سے سکون ختم ہوتا جا رہا ہے۔

 *بے پردگی اور بے حیائی* 

اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ جب گھروں میں بے پردگی، فیشن پرستی، غیر اسلامی تہذیب، گانے، فلمیں اور بے حیائی داخل ہو جاتی ہے تو آہستہ آہستہ رحمت کے فرشتے دور ہونے لگتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
“مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”
 (سورۃ النور: 30)

اور عورتوں کے متعلق فرمایا:
> وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا
“اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے۔”
 (سورۃ النور: 31)
جب معاشرے میں حیا کمزور پڑتی ہے تو گھروں کے سکون، رشتوں کی پاکیزگی اور نسلوں کی تربیت متاثر ہوتی ہے۔

 *میاں بیوی کے جھگڑے اور انا پرستی* 

گھر کا سکون میاں بیوی کے تعلق پر قائم ہوتا ہے۔ جب ان کے درمیان محبت، احترام اور برداشت ختم ہو جائے تو پورا گھر بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج معمولی باتوں پر ناراضگی، طنز، بدزبانی، مقابلہ بازی اور انا نے ازدواجی زندگی کو متاثر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”
(سورۃ الروم: 21)
شوہر اور بیوی اگر ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نرم گفتگو کریں، اور معاف کرنا سیکھ جائیں تو گھر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔

 *سوشل میڈیا اور وقت کا ضیاع* 

آج گھروں کے اندر سب سے بڑا فتنہ موبائل اور سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد ایک دوسرے سے بے خبر ہوتے ہیں۔ بچے والدین سے دور، والدین اولاد سے غافل، اور میاں بیوی ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
“زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔”
 (سورۃ العصر: 1-2)
وقت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جب یہ فضولیات میں ضائع ہونے لگے تو زندگی سے برکت بھی کم ہو جاتی ہے۔

 *فضول خرچی اور نمود و نمائش* 

آج شادیوں، تقریبات، کپڑوں، کھانوں اور سجاوٹ میں اسراف عام ہو چکا ہے۔ لوگ دوسروں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں، جبکہ اسلام سادگی اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
“فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ الأنعام: 141)

اسراف انسان کے دل میں ناشکری پیدا کرتا ہے اور برکت کو ختم کر دیتا ہے۔

 *گھروں میں برکتیں واپس کیسے آئیں؟* 
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں دوبارہ سکون، محبت، رحمت اور برکتیں لوٹ آئیں تو ہمیں اپنے گھروں کو دین سے جوڑنا ہوگا۔

نماز کی پابندی کی جائے۔
قرآن کی تلاوت روزانہ ہو۔
حلال رزق کمایا جائے۔
والدین کی خدمت کی جائے۔
میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔
بچوں کی دینی تربیت کی جائے۔
گھروں کو گناہوں اور بے حیائی سے پاک رکھا جائے۔
صبح و شام کی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔
فضول خرچی اور دکھاوے سے بچا جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
“اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے۔”
 (سورۃ الأعراف: 96)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ برکتوں کا تعلق صرف ظاہری وسائل سے نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ سے ہے۔


آج انسان سکون کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کر رہا ہے، حالانکہ حقیقی سکون اللہ کی اطاعت میں ہے۔ جب گھروں میں دین، حیا، احترام، محبت، صبر اور اللہ کا ذکر ہوگا تو رحمتیں نازل ہوں گی اور برکتیں لوٹ آئیں گی۔ لیکن اگر ہم نے اپنے گھروں کو غفلت، گناہوں، بے حیائی اور دنیا پرستی کے حوالے کر دیا تو بے سکونی بڑھتی جائے گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر فرد اپنے گھر کا جائزہ لے، اپنی کوتاہیوں کو پہچانے، اور اپنے گھر کو دوبارہ رحمتوں کا گہوارہ بنانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ وہ گھر سب سے زیادہ خوش نصیب ہے جہاں اللہ کی یاد، قرآن کی آواز، والدین کی دعائیں اور محبت بھرے رشتے موجود ہوں۔