شادی کی پہلی ہی صبح گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ دولہے نے کام والی کو تھپڑ رسید کر دیا تھا۔
امی کی آواز آئی "حد ہوتی ہے جہالت کی"
"لیکن امی۔۔ یہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے۔ دیکھیں۔۔۔ اس کے ہاتھ میں میری دلہن کے منہ دکھائی کے کنگن ہیں۔۔"
وہ پیچاری ہکا بکا ایک کونے میں کھڑی دیکھ رہی تھی۔ امی نے اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا اور دولہے کو غضبناک آنکھوں سے اپنے ساتھ باہر آنے کا اشارہ کیا اور کہا، "کمبخت! یہ کام والی نہیں ، دلہن ہے تمہاری ___ ابھی منہ دھو کر آئی ہے۔"
دولہے کے جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔۔۔۔