دوسری جنگِ عظیم جاری تھی، ایک کسان کو آرمی نے دشمن فوج کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار کرلیا۔کچھ عرصے بعد کسان کو جیل میں اُس کی بیوی کا خط موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ ؛
تم تو جیل میں ہو، آلو کی کاشت کا موسم نِکلا جا رہا ہے، مگر میں کھیتوں کی کھدائی نہیں کرسکتی، تم ادھر ہوتے اور کھیت میں ہل چلاتے تو میں آلو کاشت کرلیتی۔۔
کسان نے جواباً لکھا کہ ؛
کھیتوں کو ہرگز نہ چھیڑنا، کیونکہ میں نے وہاں اسلحہ دبا رکھا ہے۔۔
چند دن بعد بیوی کا دوسرا خط آیا، جس میں اُس نے لکھا تھا کہ ؛
تمہارا خط ملنے کے اگلے ہی دن فوجی آئے تھے، انہوں نے کھیتوں کا کونا کونا کھود دیا ہے، مگر انہیں تو اسلحہ نہیں ملا، اب میں کیا کروں؟
کسان نے جواب میں لکھا ؛
اب تم آلو کاشت کرلو۔
طوفان احمری