_*جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار*_
*کیا بیٹی واقعی پرایا دھن ہے؟پہلی دستک!"*
جہیز وہ آگ ہے جو شادی کے چراغ کو روشن کرنے کے بجائے اسے جلانے لگتی ہے۔"
(کسی مفکر کا ہلا دینے والا قول)
*ایک سلگتا ہوا سوال:*
کیا ہم اپنی بیٹیوں کی عزت کو سامان کے ترازو میں تولتے رہیں گے یا قرآن و سنت کے مطابق ان کے لیے آسان نکاح کا راستہ ہموار کریں گے؟ آئیے، اپنے بند ضمیر کے کواڑ کھولتے ہیں اور سچ کا سامنا کرتے ہیں!
*_تقدسِ نکاح... یا مادی سوداگری؟_*
معاشرے کی رسمیں اگر انسان کے لیے تنگی بن جائیں، تو وہ رسمیں نہیں بلکہ زنجیریں بن جاتی ہیں۔
ہمارا دین تو وہ خوبصورت ضابطہ ہے جس نے عورت کو ماں کی صورت میں *جنت* ، بیٹی کی صورت میں *رحمت* اور بیوی کی صورت میں *سکونِ قلب* کا تاج پہنایا۔ اللہ کا فرمان تو بڑا واضح ہے:
*{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ}*
"مرد عورتوں کے نگران اور کفیل ہیں..." (سورہ النساء: 34)
جب کائنات کے رب نے معاشی ذمہ داری مرد پر ڈالی، تو ہم نے یہ کیسا تماشہ رچایا کہ عورت کے بوڑھے باپ کو اپنا کفیل بنا لیا؟
نکاح تو روحوں کا پاکیزہ بندھن تھا، حیا اس کا زیور تھی، لیکن افسوس! ہم نے اس مقدس عبادت کو بھی مادی مفادات کی نذر کر کے ایک بازار بنا دیا ہے۔
~~*سرخ جوڑے کے پیچھے چھپا 'کرب'*~~
ہمیں لگتا ہے کہ بیٹی ہنس کر رخصت ہو رہی ہے، لیکن ذرا اس لالچ کے پیچھے چھپے خاندانی
:کرب کا چہرہ تو دیکھیں
مجبور باپ: جس نے اپنی عمرِ عزیز کا حاصل بیٹی پر نثار کر دیا، وہ رخصتی پر مسرت سے زیادہ اندیشوں اور قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہوتا ہے۔
صابر ماں: جو برسوں اپنی ضروریات کا گلا گھونٹ کر خاموشی سے ایک ایک شے جمع کرتی ہے، صرف اس خوف سے کہ کل بیٹی کو سسرال میں طعنے نہ ملیں۔
حساس بیٹی: جو والدین کی اس بے بسی کو دیکھ کر اندر ہی اندر مرتی رہتی ہے۔ رخصتی پر اس کے آنسو جدائی کے نہیں، والدین کی محرومیوں کے ہوتے ہیں۔
کیا اسی بے حسی کا نام ہم نے 'رسمِ دنیا' رکھ دیا ہے؟
~~*عدالتِ وقت... سچے حقائق کی زبانی*~
~
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف جذباتی باتیں ہیں، تو قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے ان ہلا دینے والے
اعداد و شمار پر نظر ڈالیے:
* صرف ایک سال کے اندر جہیز کے 15,489 مقدمات درج ہوئے۔
* 6,156 سے زائد معصوم خواتین جہیز کی بھینٹ چڑھ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
مہاراشٹر (امراوتی) کی فضیلہ ہو یا ناگپور کی وہ مظلوم خاتون جس نے حال ہی میں خودکشی کی ان کی المناک موتیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ جب اسلام نے عورت کو محافظ دیا تھا، تو مسلم کہلانے والے معاشرے میں وہ سامان اور دولت کے لیے کیوں سسک رہی ہے؟ اسی خوف سے ہزاروں بیٹیاں اپنے گھروں میں بوڑھی ہو رہی ہیں۔
~~*سکہ شاہی کا دوسرا رخ (پلٹ کر وار)*~
~
اس ناسور کی ایک تصویر وہ بھی ہے جہاں امیر گھرانوں کی لڑکیاں اپنے ساتھ بھاری سامان لا کر اسے سسرال پر رعب جمانے کا ہتھیار بنا لیتی ہیں۔
میں نے جہیز میں یہ قیمتی چیزیں لائی ہوں، آپ کی کیا اوقات ہے؟"
میں اپنا سارا سامان سمیٹوں گی اور آپ کے بیٹے کو آپ سے دور لے جاؤں گی!"
یہ تکبر اور احسان جتانا رشتوں کے خلوص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور لڑکے کے بوڑھے والدین کو ذہنی دباؤ میں رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآنی وارننگ ہے:
*{لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى}*
"اپنے صدقات (اور تحائف) احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔" (سورۃ البقرہ: 264)
اسوۂ نبوی ﷺ اور سادگی کا حسن آئیے، اس اندھیرے میں سچے نور کی تلاش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*{يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ}*
"اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا۔"
(سورۃ البقرہ: 185)
پیارے نبی ﷺ کا سنہرا اصول کیا تھا؟
*"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً"*
"سب سے زیادہ برکت والی شادی وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔" (مسند احمد)
سیدہ کائنات حضرت فاطمہ الزہراؓ کی رخصتی کا سامان انتہائی مختصر اور صرف ضرورت کے مطابق تھا۔
تاریخ کا وہ واقعہ یاد کیجیے جب حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اتنی خاموشی سے نکاح کیا کہ نبی ﷺ کو بعد میں پتا چلا اور آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا: "ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔" (بخاری)۔
کہاں وہ اسوہ اور کہاں ہماری یہ نمود و نمائش!
شاعرہ مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
نہ پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
~
*رسموں کے اسیر یا سنت کے امین؟ مادی زنجیروں سے آزادی کے چند عہد*~
معاشرے کی اصلاح کسی بیرونی قانون سے نہیں، آپ کی اپنی ذات سے شروع ہوگی۔
*"إِصْلَاحُ الْمُجْتَمَعِ يَبْدَأُ مِنْ إِصْلَاحِ الْفَرْدِ"*
(معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے ہے)۔
آئیے نیکی کے اس کام میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں ان چند طریقوں سے شروعات کریں:
کھلم کھلا انکار: لڑکے والے شادی سے پہلے لڑکی والوں پر واضح کر دیں کہ ہمیں ایک روپے کا سامان یا جہیز نہیں چاہیے۔ کسی کے بوڑھے باپ کی کمائی پر نظر رکھنا مردانگی نہیں۔
فرضی رسومات کا بائیکاٹ: منگنی، مایوں اور مہندی کے نام پر فضول اخراجات اور قیمتی جوڑوں کا دباؤ ڈالنا بند کریں۔
بارات کے بوجھ سے گریز: لاکھوں کی بارات لے جا کر لڑکی والوں کو معاشی طور پر نہ دبائیں، بلکہ سادگی سے سنت کے مطابق نکاح کریں۔
نوجوانوں کا عہدِ وفا: نوجوان لڑکے خود آگے بڑھیں اور مادی حیثیت یا سامان کے بجائے لڑکی کے اخلاق، کردار اور دینداری کو ترجیح دیں۔
تعلیم و تربیت کا زیور: والدین اپنی بیٹیوں کو فرنیچر اور گاڑیوں کے بھاری سامان کے بجائے اعلیٰ تعلیم، بہترین تربیت اور معاشی خودمختاری کا حقیقی زیور دیں۔
*ممنبر و محراب کی پکار: علمائے کرام اور آئمہ مساجد جمعہ کے خطبات میں اس لعنت کے خلاف کھل کر بولیں اور لوگوں کی ذہنیت بدلیں۔
فکری بیداری کا سفر:_"صدائے قلم" ، "محدث فورم" اور "کتاب و سنت"_ جیسے علمی و فکری پلیٹ فارمز اپنی تحریروں، آرٹیکلز اور اصلاحی مہمات کے ذریعے نوجوان نسل کے بند ضمیروں کو بیدار کرتے رہیں۔
یقیناً یہ چند اقدامات تو صرف ایک شروعات ہیں، اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے معاشرے کا ہر فرد اپنے اپنے انداز میں کئی اور مثبت طریقے بھی اپنا سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
:نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان یاد رکھیے
*"كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"*
"تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کا سوال ہوگا۔" (صحیح البخاری)
بیٹی سامان کا صندوق نہیں، اللہ کی رحمت ہے۔ اس قوم کی جہالت کیسے ختم ہوگی جو اپنی اولاد کی تعلیم سے زیادہ اس کی شادی پر خرچ کرنا فخر سمجھتی ہے! اگر آج ہم نے اپنی سوچ
:نہ بدلی تو قدرت کا اصول ہمیں یاد دلاتا ہے
*{إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ}*
"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے" (سورۃ الرعد: 11)۔
سادگی میں بھی محبت کی بہاریں ہیں بہت
رسمِ دنیا نے مگر دل کو الجھا رکھا ہے
آئیے، اس کتابچے کو بند کرنے سے پہلے یہ عہد کریں کہ ہم نکاح کو آسان اور حیا کو معتبر بنائیں گے۔
رسمِ جہیز چھوڑ دو، سنت کو عام کرو
آسانیاں پیدا کرو، ہر خاص و عام کرو
اے ہمارے پروردگار! ہمارے معاشرے کو جہیز کے ناسور اور لالچ سے پاک فرما۔ مردوں کو خودداری دے، ہماری بیٹیوں کے نصیب اچھے فرما اور ہمیں شریعت کی سادگی اپنانے کی توفیق عطا کر۔
{اللَّهُمَّ أَصْلِحْ أَحْوَالَنَا وَأَحْوَالَ الْمُسْلِمِينَ، وَوَفِّقْنَا لِاتِّبَاعِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ۔ آمین یا رب العالمین!}
``` _
*از قلم:- مبشرہ فطین الماسی صدیقی*_