(قسط نمبر 1، جب چراغ بجھنے لگتے ہیں)

`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu

دنیا میں دو قسم کی خاموشیاں ہوتی ہیں۔

ایک وہ خاموشی جو سکون کی علامت ہوتی ہے، جب صبح کی پہلی کرن طلوع ہونے سے پہلے کائنات چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔

اور دوسری وہ خاموشی، جو قبرستان کی ہوتی ہے، جہاں زندگی کی تمام آوازیں دم توڑ چکی ہوتی ہیں۔

قوموں کی زندگی میں بھی ایک ایسی خاموشی آتی ہے جو بظاہر بہت پُرسکون دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے سینے میں زوال کی آہٹیں پل رہی ہوتی ہیں۔ لوگ کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں، بازار آباد ہوتے ہیں، عمارتیں بلند ہوتی ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں، مگر قوم کی روح آہستہ آہستہ اپنے جسم سے رخصت ہو رہی ہوتی ہے، اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ لکھنا شروع کر دیتی ہے۔

زوال ہمیشہ تلواروں کی جھنکار سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ ضمیر کی سرگوشیوں کے خاموش ہو جانے سے شروع ہوتا ہے۔

چراغ کبھی ایک دم نہیں بجھتا۔

پہلے اس کی لو کانپتی ہے، پھر تیل کم ہوتا ہے، پھر شیشہ گرد سے بھر جاتا ہے، اور آخرکار اندھیرا یہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ اب اس گھر پر میرا حق ہے۔

قومیں بھی اسی طرح بجھتی ہیں۔

پہلے ایمان کی روشنی مدھم ہوتی ہے، پھر اخلاص کمزور پڑتا ہے، پھر کردار تجارت بن جاتا ہے، پھر علم عمل سے جدا ہو جاتا ہے، اور آخر میں صرف نام باقی رہ جاتا ہے، حقیقت رخصت ہو جاتی ہے۔

آج اگر ہم امتِ مسلمہ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں تو سوال یہ نہیں کہ دشمن کتنے طاقتور ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنے کمزور ہو چکے ہیں۔

ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں دنیا کے نقشے تو دے دیے، مگر جنت کا راستہ بھلا دیا۔

ہم نے انہیں کامیابی کے اصول سکھائے، مگر سجدے کا ذوق نہ سکھا سکے۔

ہم نے ان کے کمروں کو ہر آسائش سے بھر دیا، مگر ان کے دلوں کو اللہ کی محبت سے بھرنے کی فکر نہ کی۔

یہ وہ قرض ہے جس کی قسطیں ہماری آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔

یاد رکھئے!

درخت کو کاٹنے کے لیے ہر وقت کلہاڑی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر اس کی جڑوں تک پانی پہنچنا بند ہو جائے تو سبز پتّے بھی زیادہ دیر تک زندگی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

امت کی جڑیں قرآن ہیں۔

امت کی روح سنتِ رسول ﷺ ہے۔

امت کی خوشبو اخلاص ہے۔

امت کی طاقت اتحاد ہے۔

اور امت کی زندگی اللہ سے تعلق ہے۔

جس دن یہ جڑیں خشک ہونے لگیں، اسی دن زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے، چاہے بظاہر شہر آباد ہوں، بازار روشن ہوں اور خزانے بھرے ہوئے ہوں۔

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بہت سی سلطنتیں دشمن کے حملوں سے پہلے اپنے نفس کی غلام بن چکی تھیں۔ ان کے محلات سلامت تھے، مگر ان کے ضمیر ویران ہو چکے تھے۔ ان کے لشکر موجود تھے، مگر ان کے ارادے مر چکے تھے۔ ان کے پاس دولت تھی، مگر مقصد کھو گیا تھا۔

اور جب کسی قوم سے مقصد چھن جائے تو پھر اس کے پاس باقی رہ جانے والی ہر چیز بھی آہستہ آہستہ چھن جاتی ہے۔

اسی لیے میں کہتا ہوں:

قوموں کا زوال میدانِ جنگ میں نہیں، دلوں کے اندر شروع ہوتا ہے۔

جب دل اللہ سے دور ہو جائیں، تو فاصلے صرف آسمان تک محدود نہیں رہتے، تاریخ بھی دور ہو جاتی ہے، عزت بھی دور ہو جاتی ہے، اور نصرت بھی دور ہو جاتی ہے۔

آج اگر ہمیں اپنے مستقبل کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے چراغوں میں پھر سے ایمان کا تیل ڈالنا ہوگا، اپنے دلوں کے شیشے کو توبہ کے آنسوؤں سے صاف کرنا ہوگا، اور اپنے گھروں میں قرآن کی روشنی واپس لانی ہوگی۔

کیونکہ...

اندھیروں سے شکایت کرنے سے بہتر ہے کہ ایک چراغ جلا دیا جائے، اور قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے ایک مخلص دل ہی کافی ہوتا ہے، اگر وہ سچے رب کے سامنے جھک جائے۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H