خوبصورتی کیا ہے..؟
بنتِ شہاب✍️
کیا آپ کو لگتا ہے کہ حسن و جمال صرف اجلی اور صاف رنگت کا محتاج ہوتا ہے؟
کیا ہر گوری چمڑی والا انسان خوبصورت ہوتا ہے؟
اگر آپ کا یا کسی کا رنگ سانولا ہے تو کیا وہ بدصورت ہے؟
نہیں، ہرگز نہیں!!
خوبصورتی صاف رنگ کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر آپ ایک مکمل انسان ہیں تو یقین کریں آپ بہت خوبصورت ہیں۔
ہمارے معاشرے میں خوبصورتی کا تصور بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ خوبصورتی کا مطلب گورا رنگ، نازک خدوخال اور چمکتی جلد ہے۔ ٹی وی ڈرامے، اشتہارات اور سوشل میڈیا نے اس سوچ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نتیجتاً ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی سانولی رنگت پر شرمندہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔
لیکن ذرا سوچیں!!
یقیناً آپ نے کبھی نہ کبھی ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو بظاہر بہت خوبصورت ہوں، لیکن ٹانگوں سے معذور ہوں چل نہیں سکتے نہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں، کبھی ان کے درد کو محسوس کیا ہے؟ وہ کس اذیت میں زندگی گزار رہے ہونگے انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا؟ کبھی ان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچا کہ اگر آپ کے پاس یہ نعمت نہ ہوتی تو آپ کی زندگی کیسی ہوتی؟
کبھی ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہوگا جن کے ہاتھ نہیں ہوتے وہ اپنے کام کس طرح کرتے ہونگے ان کی زندگی تو دوسروں کی محتاجی میں گزر رہی ہوگی۔
اور ہم؟ ہم مکمل ہیں خود اپنے ہر کام کر سکتے ہیں تو کیا یہ خوبصورتی نہیں ہے؟؟؟
اور کبھی ایسے لوگ بھی آپ کو ملے ہونگے جو بول نہیں سکتے، ان کے دل میں کہنے کو بہت کچھ ہوگا لیکن وہ اپنے جذبات اپنے احساسات کو اپنے اندر ہی دفن کئے ہوتے ہیں، ان کی کتنی خواہش ہوگی کہ کاش وہ سب کی طرح بول سکتے، کاش وہ بھی باتیں کر سکتے، وہ بھی اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے۔
کبھی ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہوگا آپ نے جو سن نہیں سکتے، وہ اس کائنات کی خوبصورت آوازوں سے محروم ہوتے ہیں_ اذان کی آواز، قرآن کی تلاوت، اپنے پیاروں کی باتیں، کوئ پیارا سا نغمہ....
ان کی کتنی خواہش ہوتی ہوگی کہ کاش وہ بھی سن سکتے، ان کی سماعت بھی ان خوبصورت آوازوں سے ٹکراتی اور وہ بھی ان آواز کی خوبصورتی کو محسوس کر پاتے۔
اور کبھی ایسے.. جو انتہائی حسین و جمیل ہونے کے باوجود نہ اپنے حسن کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی خوبصورتی کو، ان کے پاس بصارت نہیں ہوتی ان کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ کاش وہ بھی اس دنیا کے خوبصورت مناظر کو دیکھ سکتے۔
اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے پاس یہ ساری نعمتیں موجود ہیں_
یقیناً ہم نا شکرے ہیں ہمارے پاس جب تک نعمتیں موجود ہوتی ہیں ہمیں اسکی قدر نہیں ہوتی جب ہم سے وہ نعمت چھِن جاتی ہے تب کہیں جا کر احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں کیا کچھ عطا کیا تھا۔
کاش...کاش!!
ہم پہلے ہی قدر کرنے والے بن جائیں، ہم غور کریں!! خود ہمارے جسم کے اندر ظاہر و باطن خدا کی کتنی نعمتیں پوشیدہ ہیں۔
شکرا یا ربی الکریم
الحمدللہ حمدا کثیرا کثیرا
سوچیں!! اگر ہم مکمل ہیں، ہاتھ پاؤں، زبان، آنکھیں، کان.. سب سلامت ہیں تو کیا ہم خوبصورت نہیں ہیں؟
صرف اس بنیاد پر کہ ہم سانولی رنگت والے ہیں، ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم خوبصورت نہیں؟
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں فرما دیا:
"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ"
ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔
جب خالق نے "احسن تقویم" کہہ دیا تو پھر مخلوق کے حقیر سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اپنے ارد گرد نظریں گھمائیں تو اکثر ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو ہماری آنکھیں کھول دیتے ہیں ہمیں شکر کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
مجھے ابھی چند روز قبل ایک 10-12 سال کی بچی ملی جو نہ بول سکتی تھی نہ چل سکتی تھی۔ میں اس بات سے لاعلم تھی۔ میں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا " جا کر اپنی امی سے کہو تھوڑا جلدی کر لیں، ہم لیٹ ہو رہے ہیں"۔
پاس کھڑے ایک شخص نے بتایا "یہ بچی چل نہیں سکتی اور نہ ہی بول سکتی ہے"۔
یہ جملہ سنتے ہی دل بوجھل ہو گیا، آنکھیں نم ہو گئیں، میں سوچنے لگی کہ جس بچی کو اللہ نے بولنے اور چلنے جیسی بنیادی نعمتوں سے محروم رکھا ہے، وہ اپنی زندگی کیسے گزارتی ہوگی؟
اور ہم؟
ہم مکمل ہونے کے باوجود صرف رنگت کی وجہ سے خود کو یا دوسروں کو "بدصورت" قرار دے دیتے ہیں۔ یہ ہماری ناشکری ہی تو ہے۔
وہ پیاری سی بچی مسکرا رہی تھی، اس کے چہرے پہ بکھری مسکراہٹ نے مجھے مزید سوچ میں مبتلا کر دیا،
اس نے بغیر ایک لفظ کہے مجھے "شکر" کرنا سکھا دیا۔
میں نے سوشل میڈیا پر بھی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو نا مکمل ہونے کے باوجود مسکرا رہے ہیں، اپنے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرے شکرِ خدا کر رہے ہیں، ایسے لوگوں کو دیکھ کر میں کچھ پل کے لئے ٹھہر جاتی ہوں، مجھے ان کی ہمت، ان کے حوصلے پر رشک آتا ہے اور خود پر افسوس کہ ہم کتنے نا شکرے ہیں ہزار نعمتوں کے باوجود خود کو بدصورت شمار کرتے ہیں
اور پھر ایک مکمل انسان ہونے پر دل سے خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔
حقیقی خوبصورتی کا تعلق رنگ سے نہیں بلکہ کردار سے ہے خوبصورتی آنکھوں کی حیا میں ہے، زبان کی مٹھاس میں ہے، دل کی نرمی میں ہے اور دوسروں کے لیے ہمدردی میں ہے۔ ایک معذور کی ہمت، ایک سانولی لڑکی کی خودداری، ایک نابینا کی مسکراہٹ، اور ایک یتیم کا صبر...
یہ سب خوبصورتی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ آئینے میں خود کو دیکھ کر عیب تلاش کرنے کے بجائے نعمتوں پر نظر ڈالیں اور جب کبھی دل میں رنگ یا شکل کو لے کر کوئی وسوسہ آئے تو فوراً کہیں:
"الحمدللہ الذی عافانی و فضلنی علی کثیرٍ ممن خلق تفضیلا"
تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے عافیت دی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا کی۔
آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے جو مکمل ہے وہی خوبصورت ہے اور جو شکر گزار ہے، اسی کی زندگی میں سکون اور برکت ہے۔
آئیے آج عہد کریں کہ ہم خود کو اور دوسروں کو رنگ سے نہیں، رب کی دی ہوئ نعمتوں سے پہچانینگے۔
ہاتھ ہیں، پاؤں ہیں، آنکھیں اور زبان ہے
شکر کر اے دل یہی حسنِ جاوداں ہے
رنگ کیا دیکھتا ہے تو، دیکھ خالق کا کرم
مکمل ہے تو، یہی سب سے بڑی پہچان ہے
اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس پیغام کو صدقۂ جاریہ سمجھ کر آگے شیئر کریں شاید اس تحریر سے کسی کی سوچ بدل جاے_