"کچھ گناہ شور نہیں مچاتے، مگر خاموشی سے دل کی روشنی بجھا دیتے ہیں۔"

ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ صرف وہ ہیں جو سب کو نظر آتے ہیں، جیسے جھوٹ، چوری یا ظلم۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں، اور ہم ان کی سنگینی کو محسوس ہی نہیں کرتے۔

بلا وجہ بدگمانی کرنا، کسی کی غیبت سن کر خاموش رہنا، دل میں حسد پالنا، دوسروں کی کامیابی پر ناخوش ہونا، لوگوں کی عزت کو معمولی سمجھنا، باتوں باتوں میں کسی کا مذاق اڑا کر اسے نیچا دکھانا، والدین کی بات کو نظر انداز کرنا، وقت ضائع کرنا، نعمتوں کی ناشکری کرنا، کسی کا حق دینے میں بلاوجہ تاخیر کرنا، اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے کوئی بات آگے بڑھا دینا—یہ سب ایسے اعمال ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ہمارے اعمال اور ہمارے دل پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمٌ﴾
"تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑا (گناہ) تھا۔" (سورۃ النور: 15)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بندہ کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے، مگر اسی کی وجہ سے وہ جہنم میں بہت دور جا گرتا ہے۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے؛

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:
" جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ پھر اگر وہ توبہ کرے، استغفار کرے اور گناہ چھوڑ دے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں پر اصرار کرے تو وہ سیاہی بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ "(جامع ترمذی، مسند احمد)

شیطان ہمیشہ انسان کو بڑے گناہ سے نہیں بہکاتا، بلکہ پہلے چھوٹی برائیوں کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے۔ جب انسان انہیں نظر انداز کرنے لگتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کا دل گناہ سے مانوس ہو جاتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے چھوٹے سمجھے جانے والے گناہوں (محقرات الذنوب) سے بھی بچنے کی تاکید فرمائی، کیونکہ جب یہ گناہ جمع ہوتے رہتے ہیں تو آخرکار انسان کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں۔ (مسند احمد)

ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ صرف اپنے ظاہر کا نہیں بلکہ اپنے ارادوں، اپنی زبان اور اپنے دل کا بھی محاسبہ کرتا ہے۔ وہ ہر رات اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ آج اس سے کس کا دل دکھا؟ کس حق میں کوتاہی ہوئی؟ کس موقع پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوئی؟ محاسبے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم روزانہ سونے سے پہلے چند منٹ تنہائی میں بیٹھیں، اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی غلطیوں پر ندامت محسوس کریں اور سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔

آئیے آج ہی اپنے دل کا جائزہ لیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بڑے گناہوں سے تو بچ رہے ہوں، مگر یہی خاموش گناہ آہستہ آہستہ ہماری نیکیوں کو کم کرتے جا رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ظاہر و پوشیدہ گناہ سے بچنے، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ 
🤲 اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا كُلَّهَا، دِقَّهَا وَجِلَّهَا، أَوَّلَهَا وَآخِرَهَا، عَلَانِيَتَهَا وَسِرَّهَا۔ آمین
۔
ازقلم:زا-شیخ