Translation unavailable. Showing original.
تنہائی میں کیے جانے والے گناہ اور انسانی زندگی میں ان کے خطرناک اثرات
10 جولائی، 2026
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل و شعور، ارادہ و اختیار اور خیر و شر میں تمیز کی نعمت عطا فرمائی، پھر اس کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں تاکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے، اس کی اطاعت اختیار کرے اور گناہوں سے بچ کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرے۔ مگر افسوس! جب انسان اپنے رب کی نگرانی کو بھلا دیتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو یہی پوشیدہ معاصی اس کے ایمان، اعمال، قلب اور انجام کو تباہ کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت نے ذنوب الخلوات. یعنی تنہائی میں کیے جانے والے گناہوں سے خصوصی طور پر خبردار کیا ہے، کیونکہ یہ وہ گناہ ہیں جو اگرچہ بندہ مخلوق سے چھپا لیتا ہے، لیکن خالقِ کائنات سے ہرگز پوشیدہ نہیں رہتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ (غافر: 19) یعنی اللہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان رازوں کو بھی جو سینے اپنے اندر چھپائے رکھتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى یعنی کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟ یہ مختصر مگر نہایت عظیم آیت ہر اس شخص کے لیے زبردست تنبیہ ہے جو اندھیروں، بند کمروں یا موبائل اور انٹرنیٹ کی آڑ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ بندہ چاہے دنیا کی ہر آنکھ سے اوجھل ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے کبھی اوجھل نہیں ہو سکتا۔ اسی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ یعنی اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ نیز فرمایا: مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا یعنی کوئی تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، نہ پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ جہاں کہیں بھی ہوں ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ پس جو شخص اس عقیدے کو اپنے دل میں زندہ رکھتا ہے کہ میرا رب ہر لمحہ مجھے دیکھ رہا ہے، اس کے لیے گناہ کرنا آسان نہیں رہتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی کیفیت کو احسان کا نام دیتے ہوئے فرمایا: الإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ یعنی احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہی یقین مومن کو تنہائی کے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جب دل سے اللہ کی نگرانی کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے تو انسان بظاہر نیک، متقی، عبادت گزار اور دیندار دکھائی دیتا ہے لیکن خلوت میں وہی شخص گناہوں کی دلدل میں اتر جاتا ہے۔ یہی وہ نفاقِ عملی ہے جس سے سلف صالحین سخت خوف کھاتے تھے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أجمع العارفون بالله أن ذنوب الخلوات هي أصل الانتكاسات، وأن عبادات السر هي أسباب الثبات. یعنی اللہ والوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تنہائی کے گناہ ہی انسان کی لغزشوں اور تباہی کی اصل بنیاد ہیں، جبکہ پوشیدہ نیک اعمال ثابت قدمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کیا کرو، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اسی طرح فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ یعنی اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا، تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ پس معلوم ہوا کہ تقویٰ ہی وہ نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت دونوں میں گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی سے غفلت تنہائی کے گناہوں کا پہلا دروازہ ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہر صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے باطن کی اصلاح کی فکر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل معیار لوگوں کی تعریف نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، نیت کا اخلاص اور خلوت میں بھی اس کی اطاعت ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی قائم ہے۔
جب بندہ اپنے رب کی نگرانی کو فراموش کر دیتا ہے اور اس کی نگاہوں سے بے خوف ہو کر خلوت میں معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک گناہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ رفتہ رفتہ اس کا دل تاریک، ایمان کمزور، عبادت بے روح، دعا بے اثر اور اعمال بے برکت ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین تنہائی کے گناہوں سے اس قدر خوف کھاتے تھے کہ وہ انہیں کھلے گناہوں سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے تھے، کیونکہ علانیہ گناہ پر انسان کو شرمندگی اور توبہ کی توفیق ہو سکتی ہے، جبکہ پوشیدہ گناہ اکثر ریا، خود پسندی اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بے خوفی پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ یعنی گناہ کے ظاہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی، بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں عنقریب ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ظاہری معاصی سے نہیں بلکہ باطنی اور پوشیدہ گناہوں سے بھی اجتناب کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس کی عدالت میں ظاہر و باطن دونوں برابر ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے انسان کے انجام کے بارے میں نہایت عظیم تنبیہ فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّىٰ مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا یعنی تم میں سے ایک شخص اہلِ جنت کے سے اعمال کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہلِ جہنم والے اعمال کرنے لگتا ہے، پس جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ محدثین نے اس حدیث کی شرح میں واضح کیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے دل میں کوئی پوشیدہ خرابی موجود ہوتی ہے جو آخرکار اس کے برے انجام کا سبب بن جاتی ہے۔
امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إن خاتمة السوء تكون بسبب دسيسة باطنة للعبد لا يطلع عليها الناس. یعنی بری خاتمہ اکثر بندے کے کسی ایسے پوشیدہ گناہ یا باطنی فساد کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے لوگ واقف نہیں ہوتے۔ یہ قول ہر مسلمان کو اپنے باطن کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ظاہری نیکیوں کے باوجود پوشیدہ معاصی اس کے حسنِ خاتمہ کو خطرے میں ڈال دیں۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت دردناک حدیث میں بیان فرمایا۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ هَبَاءً مَنْثُورًا صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی صفات بیان فرمائیے تاکہ ہم ان میں شامل نہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ، وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا یعنی میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کو خوب جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جتنی نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ انہیں بکھری ہوئی گرد بنا دے گا۔ وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، تمہاری ہی قوم سے ہوں گے، راتوں کو تمہاری طرح عبادت بھی کریں گے، مگر جب تنہائی میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں تک پہنچیں گے تو انہیں پامال کر دیں گے۔
یہ حدیث ان تمام لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو لوگوں کے سامنے نیک، متقی اور عبادت گزار دکھائی دیتے ہیں، لیکن خلوت میں ان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آلودہ ہوتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں بلکہ بندے کا باطن بھی پاک ہونا ضروری ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ما عصى الله أحدٌ في السر إلا ألبسه الله ذلَّ ذلك في العلانية. یعنی جو شخص تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس گناہ کی ذلت کسی نہ کسی صورت اس کے ظاہر پر نمایاں کر دیتا ہے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: إن للحسنة ضياءً في الوجه، ونورًا في القلب، وسعةً في الرزق، ومحبةً في قلوب الخلق، وإن للسيئة سوادًا في الوجه، وظلمةً في القلب، وضيقًا في الرزق، وبغضةً في قلوب الخلق. یعنی نیکی چہرے پر نور، دل میں روشنی، رزق میں کشادگی اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے، جبکہ گناہ چہرے پر سیاہی، دل میں تاریکی، رزق میں تنگی اور لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے۔
پس اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا روزانہ محاسبہ کریں، اپنی خلوت کو اپنی جلوت سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل معیار وہ اعمال ہیں جو اخلاص کے ساتھ صرف اس کی رضا کے لیے انجام دیے جائیں، نہ کہ وہ نیکیاں جو صرف لوگوں کی نگاہوں میں عزت حاصل کرنے کے لیے ہوں۔ جس شخص نے اپنی تنہائی کو پاکیزہ بنا لیا، اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی نور، وقار اور برکت سے آراستہ فرما دیتا ہے، اور یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔
موجودہ دور میں تنہائی کے گناہوں کی صورتیں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ پہلے انسان کو گناہ تک پہنچنے کے لیے سفر کرنا پڑتا تھا، برے لوگوں کی مجلس اختیار کرنا پڑتی تھی یا کسی خاص موقع کا انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے گناہ کو انسان کی جیب اور اس کے کمرے تک پہنچا دیا ہے۔ اب ایک شخص تنہائی میں بیٹھا ہوا چند لمحوں کے اندر ایسی چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے جو اس کے ایمان، حیا، عفت اور اخلاق کو تباہ کر دیتی ہیں۔ فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھنا، ناجائز روابط قائم کرنا، حرام گفتگو، غیبت، تہمت، جھوٹ، بے حیائی کی اشاعت، سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کی عزت پر حملہ کرنا، موسیقی اور فحش مواد میں مشغول رہنا، ناجائز ویب سائٹس کا استعمال، حرام کمائی کے ذرائع اختیار کرنا اور لوگوں سے چھپ کر اللہ تعالیٰ کی حدود کو پامال کرنا، یہ سب تنہائی کے گناہوں کی خطرناک صورتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى یعنی کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟ اور فرمایا: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا۔ یعنی بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا مؤمن کا ہر عضو اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، جسے گناہ میں استعمال کرنا اس امانت میں خیانت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے گناہ کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّىٰ تَعْلُوَ قَلْبَهُ، فَذَاكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔ یعنی جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرے، استغفار کرے اور گناہ چھوڑ دے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ بار بار گناہ کرتا رہے تو وہ سیاہی پورے دل پر چھا جاتی ہے، یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 'ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گناہ کی سب سے بڑی سزا خود گناہ کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔ گناہ انسان سے عبادت کا لطف چھین لیتا ہے، قرآن کی مٹھاس ختم کر دیتا ہے، دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے، رزق کی برکت اٹھا لیتا ہے، دل کو بے چین اور روح کو مضطرب کر دیتا ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لِلْمَعْصِيَةِ ظُلْمَةٌ يَجِدُهَا الْعَبْدُ فِي قَلْبِهِ، وَوَهْنٌ فِي بَدَنِهِ، وَنَقْصٌ فِي رِزْقِهِ، وَبُغْضٌ فِي قُلُوبِ الْخَلْقِ. یعنی گناہ دل میں تاریکی، جسم میں کمزوری، رزق میں کمی اور لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کر دیتا ہے۔
تاہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ بعض اوقات انہیں نیکیوں میں بھی بدل دیتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ یعنی آپ کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ایک اور مقام پر فرمایا: إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ یعنی مگر وہ شخص جس نے سچی توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیے، تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ۔ یعنی آدم کی تمام اولاد خطاکار ہے، اور خطاکاروں میں بہترین وہ ہیں جو بار بار توبہ کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے: التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ یعنی جو شخص گناہ سے سچی توبہ کر لے، وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی خلوت کو اپنی جلوت سے بہتر بنائے، موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے، زبان کو گناہوں سے بچائے، ہر رات اپنے نفس کا محاسبہ کرے، کثرت سے استغفار پڑھے، تہجد اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور ہر وقت یہ احساس زندہ رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہی احساسِ مراقبت انسان کو گناہوں سے بچاتا، تقویٰ پیدا کرتا اور حسنِ خاتمہ کی طرف لے جاتا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ظاہر و باطن کو پاکیزہ بنا دے، ہمیں خلوت اور جلوت ہر حال میں اپنا مطیع و فرمانبردار بندہ بنائے، ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائے، ہمیں ہر چھوٹے بڑے، ظاہری و باطنی، اعلانیہ و پوشیدہ گناہ سے محفوظ رکھے، سچی توبہ، کامل اخلاص، حسنِ عمل اور حسنِ خاتمہ کی دولت عطا فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما کر جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
از قلم مولانا پرویز رسول اشاعتی ٹھنڈوسوی