زندگی میں پیش آنے والی ہر اچھی یا بری بات کو کالی بلی،
چھت کے کنارے کوۓ کے بیٹھنے،
خالی کینچی چلانے،‌
 کالا ٹیکہ یا دیگر توہمات سے جوڑ دینا ایک غلط فہمی ہے۔

_اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ نفع و نقصان، خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے،
نہ کہ ایسی بے بنیاد باتوں سے۔

کچھ کہاوتیں جو شرک کے قریب لے جاتی ہے 

شاید آپ نے بھی سنی ہوگی۔۔۔۔۔۔

صبح گھر سے نکلے... سامنے کالی بلی آ گئی۔
بس! آج کا دن خراب جائے گا۔

چھت پر صبح سویرے کوا بیٹھ گیا۔
کوئی مہمان آنے والا ہے۔

ارے! خالی کینچی مت چلاؤ۔
گھر میں لڑائی ہو جائے گی۔

کالا ٹیکا لگا دو۔
نظر نہیں لگے گی۔

رات کو جھاڑو مت لگاؤ۔
رزق چلا جاتا ہے۔

 ہتھیلی میں خارش ہو رہی ہے۔
پیسے آنے والے ہیں۔

راستے میں چھینک آ جائے۔
کچھ دیر رک جاؤ، ورنہ کام خراب ہوگا۔


ہم نے اپنی زندگی کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا قیدی بنا لیا ہے۔  
جبکہ 
 بیماری لگنا، نقصان ہونا، کامیابی ملنا...  
یہ سب اسباب ہیں۔
 اصل کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔
کالی بلی میں طاقت نہیں کہ وہ تمہارا رزق روک دے۔  
کالے دھاگے میں طاقت نہیں کہ وہ تمہیں نظر بد سے بچا لے۔  
بچانے والی اور روکنے والی صرف ایک ذات ہے... اللّٰہ تعالیٰ کی ۔۔۔۔۔
جب ہم یہ مان لیں کہ فلاں چیز نفع نقصان دے سکتی ہے،
 تو لاشعوری طور پر ہم اللہ کے سوا کسی اور کو اختیار دے رہے ہوتے ہیں۔
زندگی آزمائش کا نام ہے۔  
کبھی خوشی،
کبھی غم۔  
کبھی نفع،
 کبھی نقصان۔  
مگر اس کا تعلق نہ بلی سے ہے، نہ دھاگے سے۔  
اس کا تعلق صرف اور صرف اللّٰہ کے فیصلے سے ہے۔
تو پھر کیوں اپنا سکون ان بے جان چیزوں کے حوالے کریں؟  
دل کا تعلق اللہ سے جوڑ لو۔  
کیونکہ جب اللہ تمہارے ساتھ ہے...  
تو نہ کوئی بلی تمہارا راستہ کاٹ سکتی ہے،  
نہ کوئی نظر۔
اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ۔۔۔
"اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو" 
عائشہ 🍁