قوموں کی تاریخ میں وہ لوگ کبھی نمایاں نہیں ہوتے جو ہر محفل کی زینت اور ہر تصویر کا عنوان بننے کے خواہاں ہوں، بلکہ اصل معمار وہ ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے وجود کو مٹا کر آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ یاد رکھیے! شجرِ ملت کی شادابی کبھی اُن رنگ برنگے پتوں کی مرہونِ منت نہیں رہی جو موسم بدلتے ہی جھڑ جاتے ہیں، بلکہ اُس کی بقا اُن جڑوں کے دم سے ہے جو زمین کی تاریکی میں رہ کر بھی پورے درخت کو زندگی بخشتی ہیں۔
آج اگر تمہیں ملت کی خدمت کا شوق ہے تو پہلے یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں شاخ بننا ہے یا جڑ؟ پھول بننا ہے یا کھاد؟ سایہ بننا ہے یا وہ نمی جو جڑوں تک پہنچ کر پورے درخت میں حیاتِ جاودانی بخشتی ہے؟ اس لیے کہ تاریخ نے ہمیشہ اُن لوگوں کو دوام بخشا ہے جنہوں نے اپنی خواہشات کو دفن کر کے ملت کے مستقبل کو زندہ کیا۔ جنہوں نے اپنی ذات کو بھلا کر قوم کو یاد رکھا، اپنے آرام کو قربان کر کے امت کے سکون کا سامان کیا، اور اپنی آرزوؤں کی چتا پر ملت کے خوابوں کا چراغ روشن کیا۔
ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہییں جو ہر خدمت کے بعد اپنی تعریف سننا چاہتے ہوں، جن کی نگاہ ہمیشہ صلے، منصب اور شہرت پر ہو۔ ہمیں اُن مردانِ حق کی ضرورت ہے جو چراغ کی طرح خود جل جائیں مگر دوسروں کو روشنی دے جائیں؛ جو دریا کی طرح اپنا وجود بہا دیں مگر کھیتوں کو سرسبز کر جائیں؛ جو بارش کی طرح برسیں مگر اپنے نام کی گونج نہ چاہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم سے ملت کا شجر تناور بنتا ہے۔
آؤ! اپنے دل سے یہ خواہش نکال دو کہ لوگ تمہیں یاد رکھیں۔ کوشش یہ کرو کہ تمہاری محنت سے دین آباد رہے، ملت محفوظ رہے، مدارس آباد رہیں، مساجد روشن رہیں، اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی شمع فروزاں رہے۔ نام باقی رہے یا نہ رہے، اگر شجر ملت باقی رہا تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ملت کا شجر اُن کے لہو سے سینچا گیا ہے جنہوں نے میدانوں میں جانیں دیں، مدرسوں میں عمریں کھپا دیں، قلم اٹھایا تو حق لکھا، زبان کھولی تو حق کہا، اور جب وقت آیا تو اپنی ذات کو مٹا کر ملت کی بقا کو اپنا مقصد بنا لیا۔ اگر وہ بھی صرف اپنی راحت، اپنی اولاد، اپنی تجارت اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے، تو آج یہ سایہ نصیب نہ ہوتا جس کے نیچے ہم بیٹھے ہیں۔
پس اگر تم واقعی شجرِ ملت کی آبیاری کرنا چاہتے ہو تو پھول بننے کی خواہش چھوڑ دو، جڑ بننے کا حوصلہ پیدا کرو؛ مینار بننے کی آرزو چھوڑ دو، بنیاد کا پتھر بننے کی سعادت مانگو؛ تعریف کی تمنا چھوڑ دو، اخلاص کا سرمایہ جمع کرو؛ اس لیے کہ ملتِ شجر کی آبیاری انہی کے دم سے ہے جو خود مٹ جاتے ہیں، مگر قوم کو مٹنے نہیں دیتے؛ جو خود جھک جاتے ہیں، مگر ملت کو سربلند کر جاتے ہیں۔
ذرا اس منظر کا تصور کرو! ہماری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی ہیں، ہمارے ہاتھ ہر اختیار سے خالی ہو چکے ہیں، ہمارا نام وراثت کے کاغذوں میں رہ گیا ہے، ہماری جمع کی ہوئی دولت وارثوں کے درمیان تقسیم ہو رہی ہے، اور ہوسکتا ہے کہ اسی تقسیم پر وہ ایک دوسرے کے مدِّ مقابل کھڑے ہوں۔ مگر اسی لمحے اگر ملت کمزور ہو، دین بے سہارا ہو، علم کے چراغ بجھ رہے ہوں، اور ہماری نسلیں وراثت کے مال سے عیاش ہوجائیں، تو ہماری پوری زندگی کا حاصل کیا تھا؟
کیا تم اس لیے پیدا کیے گئے تھے کہ چند گز زمین بڑھا کر چلے جاؤ؟ کیا تمہاری ساری صلاحیت کا مصرف صرف اتنا تھا کہ اپنے گھر آباد کر لو اور ملت کو ویران چھوڑ دو؟ نہیں! انسان کی عظمت جاہ و حشم، مال و دولت نہیں، اُس امانت سے ہے جسے وہ اپنے بعد محفوظ چھوڑ کر جاتا ہے۔
فیصلہ کر لو! دنیا چھوڑ کر جانا سب نے ہے، مگر کوئی اپنے پیچھے حساب چھوڑ جاتا ہے، کوئی جائیداد چھوڑتا ہے، اور کوئی ایک ایسی بیدار نسل چھوڑ جاتا ہے جو صدیوں تک اس کے ایثار کی گواہی دیتی ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کو اس قابل بنا جاؤ کہ جب ہمارا نام زبانوں سے اتر جائے، تب بھی ملت کی رگوں میں ہماری قربانی کا لہو دوڑتا رہے، اور ہمارا رب گواہی دے کہ اس بندے نے اپنے لیے نہیں، میرے کے لیے جیا تھا۔