بے وجہ نہیں ہے چمن کی تباہیاں
08 جولائی، 2026
از قلم، `مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مہتمم، مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu
"بے وجہ نہیں ہے چمن کی تباہیاں،
کچھ باغباں بھی شریکِ سفر نکلے۔"
یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت کی دردناک تصویر ہے۔ آج اگر عالمِ اسلام کا نقشہ خون میں نہایا ہوا ہے، اگر امت کے جسم پر زخم ہی زخم ہیں، اگر فلسطین سے کشمیر، شام سے سوڈان، برما سے یمن تک مسلمانوں کی آہیں آسمان چیر رہی ہیں، اگر اسلام دشمن قوتیں مسلسل ہمارے دین، ہماری تہذیب، ہماری شناخت اور ہماری نسلوں پر حملہ آور ہیں، تو یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ہماری اپنی غفلت، ہماری بے حسی اور ہماری اجتماعی کوتاہیاں بھی شامل ہیں۔
قرآن کریم نے صدیوں پہلے اس حقیقت کو بیان کردیا تھا:
> "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔"
اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔
آج امت کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دشمن طاقتور ہوگیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کمزور ہوگئے ہیں۔ ہمارا اتحاد بکھر گیا، ہماری غیرت سو گئی، ہماری ترجیحات بدل گئیں، ہماری قیادت منتشر ہوگئی، اور ہماری نسلیں اپنی شناخت سے دور ہوتی چلی گئیں۔
آج ہماری مسجدیں آباد ہیں، مگر ہمارے دل ویران ہیں۔ مدارس موجود ہیں، مگر ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلامی ادارے وسائل کی کمی سے نبرد آزما ہیں، مگر فضول اخراجات میں کسی کو تردد نہیں۔ امت کے نوجوان فکری یلغار کا شکار ہیں، مگر ان کی رہنمائی کے لیے منظم منصوبہ بندی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
اے امت کے ذمہ دارو!
آپ صرف ایک ادارے، ایک جماعت، ایک تنظیم یا ایک مسجد کے نگراں نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت آپ کے کندھوں پر ہے۔ اگر آج بھی آپ نے حالات کی نزاکت کو محسوس نہ کیا، اگر ذاتی اختلافات، گروہی تعصبات، منصب کی کشمکش اور شہرت کی خواہش سے اوپر نہ اٹھے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کریں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی ذمہ داریوں کا محاسبہ کریں، اور امت کے وسیع تر مفاد کو اپنی ترجیح بنائیں۔
اہلِ ثروت سے ایک سوال
کیا ہمارے مال میں صرف ہماری ذات کا حق ہے؟ کیا اللہ نے جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان کا کوئی حق دین، مدارس، یتیموں، مسکینوں اور دعوتِ اسلام کا نہیں؟
ہم عالی شان مکانات بنا سکتے ہیں، مہنگی گاڑیاں خرید سکتے ہیں، مگر ایک دینی ادارہ، ایک طالب علم، ایک مسجد یا ایک علمی منصوبہ ہماری توجہ سے محروم رہتا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
علماء اور اہلِ فکر سے گزارش
علم صرف کتابوں کی زینت نہیں، بلکہ امت کی رہنمائی کی امانت ہے۔ آج منبر و محراب کو امت کی فکری تعمیر کا مرکز بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کے سوالات کے جواب دینے ہوں گے، جدید فتنوں کا علمی تعاقب کرنا ہوگا، اور امت کو امید، اتحاد اور عمل کا راستہ دکھانا ہوگا۔
نوجوانو!
تم امت کا مستقبل ہو۔ اپنی صلاحیتیں سوشل میڈیا کی بے مقصد مصروفیات میں ضائع مت کرو۔ اپنے دین کو سمجھو، اپنے کردار کو سنوارو، علم حاصل کرو، اور اپنی زندگی کو اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کرنے کا عزم پیدا کرو۔
وقت کا تقاضا
آج ضرورت صرف جذباتی نعروں کی نہیں، بلکہ عملی منصوبہ بندی کی ہے۔ ہمیں ایسے مدارس چاہئیں جو علم کے ساتھ کردار بھی پیدا کریں، ایسے قائد چاہئیں جو امت کو جوڑیں، ایسے اہلِ قلم چاہئیں جو فکری محاذ پر اسلام کا دفاع کریں، اور ایسے اہلِ ثروت چاہئیں جو اپنے مال کو امت کی امانت سمجھیں۔
اگر آج بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے، تو آنے والا وقت ہم سے زیادہ سخت سوال کرے گا۔ ہماری خاموشی ہماری نسلوں کی قیمت پر ختم ہوگی، اور ہماری غفلت تاریخ کے صفحات پر ایک المیہ بن کر لکھی جائے گی۔
آئیے! اپنے دلوں کو جھنجھوڑیں، اپنی صفوں کو متحد کریں، اپنی ترجیحات کو درست کریں، اور اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنی ذات، اپنے مال، اپنے علم اور اپنی صلاحیتوں کو امتِ مسلمہ کی عزت، دین کی سربلندی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے وقف کریں گے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھئے:
قومیں دشمنوں کے حملوں سے کم، اپنی غفلت، اپنی بے حسی، اپنے انتشار اور اپنی نااتفاقی سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو بیداری، اتحاد، اخلاص، بصیرت اور عمل کی دولت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو تاریخ کے تماشائی نہیں، بلکہ تاریخ کا رخ بدلنے والے ہوتے ہیں۔
وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيزٍ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H