وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہتا ہے۔
لمحات بیت جاتے ہیں، صدیاں گزر جاتی ہیں، زخم بھر جاتے ہیں، اذیتیں ماند پڑ جاتی ہیں، غموں کا سائبان چھٹ جاتا ہے، راہیں ہموار ہو جاتی ہیں، اور الجھنوں میں الجھا ہوا ذہن بھی ایک دن سکون پا لیتا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ وقت کی گرد میں کہیں گم ہو گیا ہو، جیسے یہ سب ایک گزرے ہوئے خواب کی بات ہو...
مگر پھر بھی نہ جانے کیوں دل کے کسی خاموش کونے میں ایک کمی، ایک کسک، ایک نامکمل سا احساس ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ کسی ایک شخص کے چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اگر ایسا ہے تو ذرا قبرستان کی طرف دیکھیے۔
کیا دنیا رک گئی؟
کیا زندگی نے اپنا سفر چھوڑ دیا؟
کیا لوگوں نے اپنے پیاروں کے غم میں جینا ترک کر دیا؟
نہیں...
بظاہر تو سب کچھ پہلے جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ہماری نظر صرف ظاہری منظر تک محدود ہوتی ہے۔
مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک وجود کی موجودگی سے آباد رہتے ہیں۔ جب وہ وجود رخصت ہو جاتا ہے تو دل دھڑکتا تو رہتا ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں ایک خاموش ویرانی اتر آتی ہے۔
وہ آنکھیں، جو دنیا کے سامنے مسکراتی رہتی ہیں، نہ جانے تنہائیوں میں کتنی بار بھیگتی ہوں گی۔
وہ لمحے، جو دوسروں کو معمول کے دکھائی دیتے ہیں، شاید کسی کے لیے یادوں، خاموشی اور بے شمار الجھنوں کے ساتھ گزر رہے ہوتے ہیں۔
وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے، بہت کچھ بھلا بھی دیتا ہے، مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی کمی وقت بھی پوری نہیں کر پاتا۔
سچ تو یہ ہے کہ...
ایک شخص کے جانے سے دنیا تو نہیں رکتی،
زندگی بھی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے،
مگر دل کے کچھ گوشے ہمیشہ ویران رہ جاتے ہیں۔
۔
کیونکہ...
بعض لوگوں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، اور ان کے جانے سے پیدا ہونے والی خلاء... عمر بھر پُر نہیں ہوتی۔
ایک شخص کے جانے سے کمی تو نہیں ہوتی،
ایک شخص کی خلاء مگر کبھی پُر نہیں ہوتی۔
اے ربِ کریم!
جس وجود نے ہماری زندگیوں کو محبت، شفقت اور دعاؤں سے آباد رکھا، اسے اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرما۔ میرے والد کی قبر کو نور سے منور فرما، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
ازقلم:زا-شیخ