*عشق کا اندھا پن انسان سے کیا کچھ نہیں کرواتا*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
کچھ دن پہلے میرے پاس ایک نامعلوم لڑکی کا فون آیا۔ سلام و دعا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد وہ کہنے لگی میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔
میں نے عرض کیا جی ضرور فرمائیے۔
وہ کہنے لگی میں کافی عرصے سے آپ کے مضامین پڑھ رہی ہوں۔ مدت سے خواہش تھی کہ ایک مرتبہ آپ سے بات کروں اس لیے آج ہمت کرکے فون کیا ہے۔
میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا جی فرمائیے کیا بات ہے؟
اس نے بتایا میرا تعلق کرنول سے ہے اور میں جامعہ عائشہ نسواں حیدرآباد کی طالبہ ہوں۔
پھر کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگی ہماری والدہ ہمیں ہمارے والد اور ہم بہن بھائیوں کو چھوڑ کر کسی دوسرے شخص کے ساتھ چلی گئی ہیں۔
میں نے کہا ذرا تفصیل سے بتائیے۔
اس نے بتایا کہ اس کی والدہ کے اس کے بقول ایک شخص سے کئی سالوں سے ناجائز تعلقات تھے۔ ان کی بڑی بہن ہاسٹل میں رہتی تھیں گھر پر ویڈیو کال کے دوران کئی مرتبہ انہوں نے اپنی والدہ کو اس شخص سے بات کرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد والد صاحب کو اس کی اطلاع دی گئی۔ والد صاحب نے بہت سمجھانے کی کوشش کی نصیحت کی گھر اور بچوں کا واسطہ دیا مگر اس کے بقول کوئی اثر نہ ہوا۔ رفتہ رفتہ معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ اس شخص سے ملنے بھی جانے لگیں اور پھر ایک دن اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر اس کے ساتھ چلی گئیں۔
میں نے حیرت سے پوچھا ایک ماں ایسا کیسے کرسکتی ہے؟
وہ کہنے لگی جب ہم نے اپنے نانا نانی کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے یقین ہی نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی ایسا نہیں کرسکتی۔ لیکن بعد میں حالات ایسے رخ پر پہنچ گئے کہ معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔
اس لڑکی کے مطابق گھر پر قبضہ کرنے کی بھی کوششیں کی گئیں شوہر اور بچوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں یہاں تک کہ ان کی جان لینے کی کوششوں کے بھی الزامات سامنے آئے لیکن اللہ ربّ العزت کے فضل سے وہ سب ناکام رہیں۔
اس کی پوری بات سن کر میں دیر تک سوچتا رہا کہ جب انسان خواہشاتِ نفس اور ناجائز محبت کے اندھے طوفان میں بہہ جاتا ہے تو اس کی سوچ عقل اور احساسات کس قدر مفلوج ہوجاتے ہیں۔ پھر اسے نہ ماں باپ کا خیال رہتا ہے نہ شوہر یا بیوی کا نہ بہن بھائیوں کا نہ اپنی اولاد کا۔ اسے ہر طرف صرف اپنی خواہش اور اپنا محبوب ہی نظر آتا ہے باقی تمام رشتے اس کی نگاہ میں بے وقعت ہوجاتے ہیں۔
یاد رکھئے ناجائز عشق کبھی کسی کو سکون نہیں دیتا۔ اس کی ابتدا خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہو اس کا انجام اکثر رسوائی بے سکونی ٹوٹے ہوئے خاندان برباد اولاد اور زندگی بھر کی ندامت پر ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خواہشات کی غلامی نے نہ جانے کتنے گھروں کو اجاڑا کتنے بچوں سے ماں کی شفقت چھینی کتنے شوہروں کی زندگیاں تباہ کیں اور کتنے خاندانوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔
اللہ ربّ العزت ہمیں اپنی خواہشات پر قابو رکھنے حلال و حرام کی تمیز کرنے اپنے گھروں کی حفاظت کرنے اور ہر ایسے فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب بنے۔ آمین یارب العالمین ۔
نوٹ یہ تحریر مذکورہ لڑکی کی اجازت سے لکھی گئی ہے اور اس میں بیان کردہ واقعات اسی کی زبانی نقل کیے گئے ہیں۔