مقصد پر نظر، اور منفی باتوں کو نظر انداز کرنا

زندگی میں ہمیشہ ایسے حالات اور لوگ موجود رہتے ہیں جو انسان کو مایوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں تواگر ہم ہر منفی بات کو دل سے لگا لیں اور ہر تنقید کا جواب دینے میں اپنا وقت، جذبات اور توانائی صرف کرنے لگیں تو ہم اپنی منزل سے دور ہو جائیں گے اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ جو بات ہمارے مقصد اور ترقی میں کوئی فائدہ نہ پہنچائے، اسے نظر انداز کر دیا جائے۔۔۔۔


ماہرینِ نفسیات کے مطابق مثبت سوچ انسان کے اندر خود اعتمادی، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے جبکہ منفی سوچ انسان کو خوف، تذبذب اور مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہے اور منفی سوچ رکھنے والے لوگ ہر کام میں رکاوٹیں تلاش کرتے ہیں وہ کامیابی کے امکانات پر غور کرنے کے بجائے ناکامی کے اندیشوں میں الجھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے بہترین مواقع ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔۔۔۔


ہمارے اردگرد بھی ایسے بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ہر نئی کوشش پر حوصلہ افزائی کے بجائے تنقید کرتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر بات کو دل پر لینا دانشمندی نہیں۔۔۔۔ ایک اصول ہے: `" کہ سنو سب کی کرو اپنے من کی"`

لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی غلط سوچ پر اڑا ہوا ہو تو اسے بدلنے میں اپنا وقت، جذبات اور الفاظ ضائع کرنے کے بجائے اپنی اصلاح اور اپنی منزل پر توجہ دینا زیادہ بہتر ہے..

 کہتے ہیں نہ کہ اگر کوئی یہ تسلیم کر چکا ہو کہ ہاتھی تار پر بیٹھا ہے، تو اس ہاتھی کو نیچے اتارنے میں اپنا وقت، جذبات اور الفاظ ضائع نہ کریں۔۔۔۔۔! بلکہ اپنی توانائی کو صحیح جگہ استعمال کریں۔۔


درحقیقت زندگی کا سفر کبھی ہموار نہیں ہوتا۔ راستے میں مشکلات اور حوصلہ شکنی کرنے والے لوگ بھی ملتے ہیں، مگر باہمت انسان ان رکاوٹوں کو اپنی ترقی کے راستے کی دیوار نہیں بناتا۔ وہ ہر آزمائش کا مقابلہ صبر، محنت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ کرتا ہے۔۔۔


❗لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مثبت سوچ  کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، فضول تنقید اور مایوس کن باتوں کو نظر انداز کریں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔۔۔!

‼️یاد رکھیں! کامیابی اُنہیں کا مقدر بنتی ہےجو اپنی نگاہ راستے کی رکاوٹوں پر نہیں،بلکہ اپنے مقصد پر رکھتے ہیں...

🖋️صغریٰ انجم حنفی
                     2/07/2026