رونا ایک رسم بن چکا ہے۔
آنکھوں سے بہنے والے آنسو دل کی کیفیت کا اظہار ہوتے ہیں، مگر افسوس! ہمارے معاشرے میں رونا اب دل کی کیفیت نہیں، بلکہ ایک رسم بنتا جا رہا ہے۔
جب دل پر غم کا پہاڑ ٹوٹتا ہے تو آنکھوں سے آنسو خود بخود بہہ نکلتے ہیں۔ نہ کوئی انہیں بلاتا ہے، نہ کوئی مجبور کرتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہیکہ ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا، یہاں آنسؤوں کو بلایا جاتا ہے، یہاں آنسو دل کے درد سے نہیں، بلکہ لوگوں کی باتوں کے خوف سے بہائے جاتے ہیں، بہت سے لوگ صرف اس لئے روتے ہیں کہ اگر آنکھیں خشک رہ گئیں تو لوگ اس کے دل کی محبت پر سوال اٹھائیں گے۔
اس ڈر سے روتے ہیں کہ کہیں لوگ یہ نہ کہہ دیں: "اس کی آنکھ سے تو ایک آنسو بھی نہیں نکلا۔"
اور یہی خوف معاشرے میں ایک نیا رواج پیدا کر چکا ہے کہ آنسو دل کے درد سے نہیں، بلکہ "لوگ کیا کہیں گے" کے ڈر سے بہائے جاتے ہیں۔
غم یقیناً فطری ہے، اسلام بھی ایسے فطری آنسوؤں سے منع نہیں کرتا۔ خود نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے اپنے صاحبزادے کی وفات پر آنسو جاری ہوئے تھے، لیکن ساتھ ہی آپ ﷺ نے فرمایا:
"آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، مگر زبان سے ہم وہی بات کہیں گے جس پر ہمارا رب راضی ہو۔" (صحیح مسلم)
افسوس کہ بات یہ ہیکہ ہمارے معاشرے میں رونا اب دل کا جذبہ کم اور ایک سماجی رسم زیادہ بن چکا ہے۔ اگر کسی گھر میں میت ہو جائے تو تعزیت کے لیے آنے والے بعض لوگ دلاسہ دینے کے بجائے یوں لپٹ کر روتے ہیں کہ صبر سے بیٹھے ہوئے لوگ بھی بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں۔ کسی کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا جاتا ہے، کسی کو مرحوم کی باتیں یاد دلا کر رلایا جاتا ہے، گویا اگر آنسو نہ نکلیں تو غم ادھورا رہ جائے گا۔
ذرا سوچیے..!!
اگر غم دل میں تھا تو کیا وہ صرف لوگوں کے آنے کے بعد ہی جاگا؟
کیا آنسو صرف مجمع دیکھ کر ہی نکلتے ہیں؟
اگر صبر کرنا ممکن ہے تو پھر یہ رونا دھونا کیوں؟
کیا صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے خوشخبری نہیں دی۔
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
"اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔" (سورۃ البقرۃ :155)
اسلام نے ہمیں مصیبت کے وقت صبر سکھایا ہے، بے صبری نہیں۔ رسول اللہ ﷺنےمصیبت کے وقت نوحہ، چیخ و پکار اور ایسے اعمال سے منع فرمایا ہےجو اللہ کی رضا کے خلاف ہوں، جبکہ صبر کرنے والوں کو عظیم اجر کی بشارت دی۔
تعجب کی بات یہ ہیکہ یہ رسم صرف میت تک محدود نہیں رہی، بلکہ شادی بیاہ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دلہن کی رخصتی کے وقت اگر وہ نہ روئے تو فوراً زبانیں حرکت میں آ جاتی ہیں:
"ارے! اس کی آنکھ سے تو ایک آنسو بھی نہیں نکلا۔"
"کتنی بے حس لڑکی ہے۔"
"لگتا ہے ماں باپ سے محبت ہی نہیں تھی۔"
وغیرہ وغیرہ...
یہ کیسا معیار ہے؟
کیا محبت صرف آنسوؤں سے ثابت ہوتی ہے؟
کیا ہر بیٹی کا اظہارِ غم ایک جیسا ہوتا ہے؟
کئی بیٹیاں اندر ہی اندر ٹوٹ رہی ہوتی ہیں، مگر خود کو سنبھالے رکھتی ہیں تاکہ ان کے ماں باپ مزید کمزور نہ پڑ جائیں۔ ان کے ضبط کو بے حسی کا نام دے دینا کتنی بڑی ناانصافی ہے۔
ہم نے جذبات کو بھی لوگوں کی نظروں کا محتاج بنا دیا ہے۔ اگر رو لیا تو محبت ثابت، اور اگر صبر کر لیا تو بے حس!
حالانکہ ہر انسان کی طبیعت اور جذبات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کا خاموش رہنا بے حسی نہیں، بلکہ صبر اور مضبوطی بھی ہو سکتی ہے۔ اسلام نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے روؤ، یا رسم پوری کرنے کے لیے آنسو بہاؤ، بلکہ ہمیں ہر حال میں صبر کرنا سکھایا ہے،
بہت سے لوگوں سے سننے کو ملتا ہیکہ کیسے صبر کر لیں؟
خود پر مصیبت پڑتی ہے تب ہی معلوم ہوتا ہے۔
نہیں ہوتا ہے صبر...
لیکن ایک مومن کیلئے یہ دلیل کافی نہیں ہو سکتی، کیونکہ جس اللہ نے صبر کا حکم دیا ہے، اسی اللہ نے انسان کی طاقت اور استطاعت کو بھی سب سے بہتر جانا ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
﴿لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔"
(سورۃ البقرۃ: 286)
یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے تو یقیناً اس نے انسان کو صبر کی طاقت بھی عطا کی ہے۔ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر ناممکن نہیں۔
یہی تو اصل امتحان ہے، اور جو ان آزمائشوں پر کھرا اترے وہی اصل مومن ہے۔
مگر یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہو چکا ہے،
یہاں صبر کو بے حس کا نام دیا جاتا ہے اور مصنوعی آنسؤوں کو سچی محبت، وفاداری اور غم کی سچی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔
آئیے! رسموں کی زنجیریں توڑ کر سنت کو اپنائیں۔ اپنے جذبات کو لوگوں کی توقعات کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔
کیونکہ ہر آنسو سچی محبت کی علامت نہیں ہوتی، اور نا ہی ہر خاموشی بے حسی کی۔ بعض اوقات خاموش رہ کر صبر کرنا، سینہ پیٹ کر رونے سے کہیں زیادہ بلند عمل ہوتا ہے۔
رونے والوں کو نہیں، صبر کرنے والوں کو اللہ نے خوشخبری سنائی ہے۔ اس لیے رسموں کی نہیں، سنت کی پیروی کریں۔
اس رسم و رواج کے دباؤ میں آکر اپنی آخرت خراب مت کریں، لوگوں کی پرواہ نا کر کے اللہ کے احکام کی پیروی کریں۔