`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ قومیں اچانک ختم نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان کے دلوں سے احساسِ ذمہ داری ختم ہو جاتا ہے، جب وہ اپنے دین، اپنی شناخت اور اپنے اجتماعی مفادات کے بارے میں بے حس ہو جاتی ہیں، اور جب انہیں آنے والے خطرات بھی جگا نہیں پاتے۔

آج ہمارے سامنے ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ بعض ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (UCC) نافذ کیا جا چکا ہے، اور اس موضوع پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے علم، بصیرت، آئینی شعور اور اتحاد کے ساتھ حالات کا جائزہ لے، کیونکہ بڑے فیصلوں کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری بڑی تعداد ابھی تک فرقہ بندی، سیاسی اختلافات، دنیا کی رنگینیوں اور باہمی نزاعات میں الجھی ہوئی ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں، مگر اپنی ملت کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے ہمارے پاس چند لمحے بھی نہیں ہوتے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں پر گفتگو تو بہت کرتے ہیں، مگر اپنے فرائض کا احساس کم ہی کرتے ہیں۔

یاد رکھیے! تاریخ کسی پر رحم نہیں کرتی۔ وہ قومیں جو اپنی شناخت کی حفاظت میں غفلت برتتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی قوت، اپنی تہذیب اور اپنی اجتماعی حیثیت کھو بیٹھتی ہیں۔

ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے۔

بغداد، جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، تاریخ کی ایک دردناک داستان بن گیا۔ اندلس، جہاں سے علم کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی، آج صرف یادوں میں زندہ ہے۔ مسجدِ قرطبہ آج بھی اپنی خاموش دیواروں سے یہ پیغام دیتی محسوس ہوتی ہے کہ قومیں صرف دشمن کی طاقت سے نہیں ہارتیں، بلکہ اپنی غفلت، اپنے انتشار اور اپنے باہمی اختلافات کی وجہ سے بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔

یہ مثالیں کسی کو مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ہمیں بیدار کرنے کے لیے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جذباتی نعروں سے زیادہ ضرورت شعور، تعلیم، قانونی آگاہی، اتحاد، اخلاق اور مثبت اجتماعی جدوجہد کی ہے۔

آج اگر ہم نے اپنے گھروں میں دینی تعلیم کو مضبوط نہ کیا، اپنی نئی نسل کو ایمان، کردار اور اسلامی اقدار سے وابستہ نہ رکھا، اپنے آئینی حقوق سے واقفیت حاصل نہ کی، اور اپنے اجتماعی مسائل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، تو کل پشیمانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ یہ وقت مایوسی کا نہیں، بلکہ امید، حکمت اور منظم کوشش کا ہے۔ ہمیں اپنے علماء، دانشوروں، وکلاء، اساتذہ اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایسے مثبت اقدامات کرنے ہوں گے جو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہماری دینی شناخت اور حقوق کے تحفظ میں معاون ہوں۔

آئیے! ہم سب اپنے دلوں سے غفلت کی چادر اتار دیں، اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں، نمازوں کی پابندی کریں، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں، آپس کے اختلافات کو کم کریں اور ملت کے اجتماعی مفاد کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند پر مقدم رکھیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا:

"إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ"

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں حالات کو صحیح طور پر سمجھنے، حکمت و بصیرت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے، اتحاد و اتفاق اختیار کرنے اور اپنے دین و تشخص کی حفاظت کے لیے جائز اور پرامن کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu