*چراغ بن کر جینا ہے تو پھر ہواؤں سے شکوہ کیسا؟*
کائنات کا ایک اٹل اصول ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ قیمتی، مفید اور روشن ہوتی ہے، آزمائشوں کا رخ بھی اسی کی طرف زیادہ ہوتا ہے، سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے، ہیرا دباؤ سہہ کر اپنی چمک پاتا ہے، اور چراغ ہواؤں کے درمیان جل کر اپنی حیثیت منواتا ہے، اسی طرح جو انسان اپنی ذات کو دوسروں کے لیے روشنی، امید، خیر اور ہدایت کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے، اسے یہ حقیقت دل و جان سے قبول کرنی ہوگی کہ اس کی راہ کبھی پھولوں سے نہیں سجے گی، بلکہ کانٹوں، طوفانوں اور مخالف ہواؤں سے بھرپور ہوگی، *چراغ بن کر جینا ہے تو پھر ہواؤں سے شکوہ کیسا؟* یہ محض ایک خوبصورت جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایسا فلسفہ ہے جو انسان کو صبر، استقامت، حوصلے اور قربانی کا درس دیتا ہے، چراغ کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ خود جلتا ہے تاکہ دوسروں کو روشنی ملے، وہ اپنے وجود کو پگھلا دیتا ہے تاکہ کسی مسافر کو راستہ دکھا سکے، وہ اندھیروں کی شکایت نہیں کرتا، بلکہ اپنی روشنی سے ان کا وجود مٹا دیتا ہے۔
اگر چراغ ہر تیز ہوا پر شکوہ کرنے لگے، ہر طوفان سے خوفزدہ ہو جائے، ہر مخالفت کے سامنے بجھ جائے، تو پھر اس کے چراغ ہونے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے،چراغ کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ مخالفت کے باوجود جلتا رہے، حالات کے باوجود روشن رہے، اور مشکلات کے باوجود دوسروں کو امید دیتا رہے،انسانی زندگی بھی اسی حقیقت کا نام ہے، جو شخص علم حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے، جو حق کا علم بلند کرتا ہے، اسے مخالفت سہنی پڑتی ہے، جو معاشرے میں اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، اس پر الزام بھی لگتے ہیں، اس کی نیت پر شبہ بھی کیا جاتا ہے، اس کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی جاتی ہیں، لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے ہواؤں کا رخ بدلنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اپنے چراغ کی لو کو مضبوط رکھا،
قرآنِ کریم بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ آزمائش ایمان کا لازمی حصہ ہے *﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾* کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ آزمائش سے گھبرانا نہیں بلکہ اسے اپنے ایمان، کردار اور اخلاص کو نکھارنے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: *أشدُّ الناسِ بلاءً الأنبياءُ ثم الأمثلُ فالأمثلُ* سب سے زیادہ آزمائش انبیائے کرام پر آتی ہے، پھر ان لوگوں پر جو ان کے بعد درجے میں بہتر ہوتے ہیں،جب اللہ کے برگزیدہ بندوں نے مشکلات کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بلکہ کامیابی کا زینہ بنایا، تو ہمیں بھی زندگی کی ہواؤں سے شکایت کرنے کے بجائے اپنے عزم کو مضبوط کرنا چاہیے، *اگر سورج یہ کہہ دیتا کہ بادل آ گئے ہیں، اب میں روشنی نہیں دوں گا، اگر دریا یہ کہہ دیتا کہ چٹانیں آ گئی ہیں، اب میں بہنا چھوڑ دوں گا، اگر درخت یہ فیصلہ کر لیتا کہ آندھیاں چلتی ہیں، اب میں پھل نہیں دوں گا، تو اس کائنات کا نظام ہی درہم برہم ہو جاتا* فطرت کا ہر عنصر اپنا فرض ادا کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں، پھر انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، وہ مشکلات کے سامنے کیوں ہار مانے؟
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے۔
زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ انسان کبھی ناکام نہ ہو، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہر ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہو، ہر مخالفت کے بعد بھی حق پر قائم رہے، اور ہر طوفان کے باوجود اپنی روشنی کو بجھنے نہ دے،یہی چراغ کی شان ہے، اور یہی ایک باکردار انسان کی پہچان ہے، آج دنیا کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو صرف روشن ماحول میں مسکرائیں، بلکہ ایسے چراغوں کی ضرورت ہے جو اندھیروں میں امید کی کرن بنیں، ناامیدی میں حوصلہ دیں، نفرت کے درمیان محبت بانٹیں، اور بے راہ روی کے دور میں کردار، علم اور اخلاق کی روشنی پھیلائیں۔
یاد رکھیے! مشکلات کبھی انسان کو تباہ کرنے نہیں آتیں، بلکہ اس کے ظرف، صبر، اخلاص اور قوتِ ارادی کو نمایاں کرنے آتی ہیں، جو شخص ہر آزمائش کو اللہ کی حکمت سمجھ کر برداشت کرتا ہے، وہی وقت کے ساتھ دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے،لہٰذا اگر آپ نے چراغ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو پھر ہواؤں سے شکایت نہ کیجیے، اپنے اندر کا ایندھن یعنی ایمان، علم، اخلاص، صبر اور استقامت اتنا مضبوط کیجیے کہ زمانے کے طوفان بھی آپ کی روشنی کو بجھا نہ سکیں، کیونکہ چراغ کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہوا سے محفوظ رہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ہوا کے باوجود روشن رہے،جو چراغ اپنے جلنے کی شکایت میں وقت گزار دیتا ہے، وہ کسی کی راہ روشن نہیں کر پاتا، لیکن جو خاموشی سے جلتا رہتا ہے، وہ صدیوں بعد بھی روشنی کی مثال بن جاتا ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*