*مدارس میں تدبر و تفکر اور اجتہاد و ابتکار کی ضرورت*

محمد صادق اصلاحی ندوی 

انسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح واضح کرتا ہے کہ جن اقوام نے فکر و نظر کی آزادی، تحقیق و جستجو اور اجتہاد و اختراع کے دروازے کھلے رکھے، وہ علم و تہذیب کی معراج تک پہنچیں، اور جنہوں نے تقلیدِ جامد، ذہنی جمود اور تقدیسِ اشخاص کو اپنے فکری افق پر مسلط کرلیا، ان کی علمی زندگی رفتہ رفتہ سکڑتی چلی گئی۔ امتِ مسلمہ کی علمی تاریخ بھی اس حقیقت کی روشن گواہ ہے۔

اسلام نے اپنے آغاز ہی سے انسان کو غور و فکر، تدبر و تعقل اور کائنات و حیات کے اسرار میں غور کرنے کی دعوت دی۔ قرآنِ کریم کے بے شمار مقامات پر "أفلا يتفكرون"، "أفلا يعقلون"، "أفلا يتدبرون" اور "لقوم يتفكرون" جیسے الفاظ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اسلام کا مطلوب انسان محض مقلد نہیں بلکہ صاحبِ بصیرت، صاحبِ فکر اور صاحبِ اجتہاد انسان ہے۔ قرآن نے اندھی تقلید کی مذمت کرتے ہوئے ان لوگوں کو ہدفِ تنقید بنایا جو صرف اس لیے اپنے آباء و اجداد کے طریقے پر قائم رہے کہ ان کے بزرگ اسی راہ پر تھے۔

بدقسمتی سے برصغیر اور جنوبی ایشیا کے دینی تعلیمی اداروں میں ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں ایسا ذہنی ماحول پیدا ہوگیا ہے جس میں اکابر کی علمی عظمت اور ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کی آراء کو بعض اوقات اس درجہ تقدس عطا کردیا جاتا ہے کہ ان سے اختلاف یا ان پر نظرِ ثانی کو تقریباً ناممکن سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی علمی روایت اس طرزِ فکر کی تائید نہیں کرتی۔

اسلامی علوم کی تاریخ اختلافِ رائے سے عبارت ہے۔ فقہ، تفسیر، حدیث، اصول اور کلام، ہر میدان میں اکابر علماء کے مابین علمی اختلافات موجود رہے ہیں۔ ائمہ اربعہ کے درمیان سینکڑوں مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس اختلاف نے کبھی ان کی عظمت کو کم نہیں کیا، بلکہ یہی اختلاف علمی ارتقا کا سبب بنا۔

امام مالکؒ نے خلیفہ ابو جعفر منصور کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا کہ ان کی کتاب "الموطأ" کو تمام عالمِ اسلام کا لازمی قانون بنا دیا جائے، کیونکہ ان کے نزدیک مختلف علاقوں کے علماء کے پاس بھی علم کے خزانے موجود تھے۔ امام شافعیؒ نے عراق سے مصر آنے کے بعد اپنے کئی قدیم فقہی اقوال سے رجوع کیا۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ نے اپنے استاذ امام ابوحنیفہؒ سے متعدد مسائل میں اختلاف کیا۔ اگر ہمارے اسلاف نے اختلاف اور اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا ہوتا تو اسلامی فقہ کبھی اتنی وسیع اور زرخیز نہ بن پاتی۔

علماء اور اکابر کی عظمت کا اعتراف ایک دینی و اخلاقی تقاضا ہے، لیکن شخصیتوں کو خطا سے ماورا سمجھ لینا اور ان کی ہر رائے کو حرفِ آخر قرار دینا علمی جمود کو جنم دیتا ہے۔ شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ سوال کرنے، غور کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض تعلیمی اداروں میں سوال اٹھانے والے طالب علم کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ نئی رائے پیش کرنے والے محقق کو فوراً "گمراہی"، "انحراف" یا "فتنہ" کے خانوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس ماحول میں تخلیقی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھتیں بلکہ دب جاتی ہیں۔

حالانکہ کسی بھی علمی تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے دلائل، مآخذ اور استدلال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ محقق کی ہر بات کو قبول کرنا ضروری نہیں، لیکن اس کی ہر بات کو محض اس وجہ سے رد کر دینا بھی علمی دیانت کے خلاف ہے کہ وہ مروجہ افکار سے مختلف ہے۔

مدارسِ اسلامیہ نے امت کو بے شمار محدثین، فقہاء، مفسرین، مصلحین اور داعیانِ دین عطا کیے ہیں۔ یہ ان اداروں کی عظیم خدمت ہے، لیکن موجودہ دور کے فکری، سماجی اور تہذیبی چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مدارس اپنے تعلیمی اور تربیتی نظام میں کچھ بنیادی اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

طلبہ کی ایسی ذہنی تربیت ہونی چاہیے کہ:

- وہ نصوصِ شرعیہ کو سمجھنے کے لیے تدبر اور گہرے مطالعے کے عادی بنیں۔
- ان کے اندر سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مختلف آراء کا تقابلی جائزہ لینے کا ذوق پیدا ہو۔
- انہیں اختلافِ رائے کے آداب سکھائے جائیں۔
- انہیں یہ شعور دیا جائے کہ اکابر کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ان کی آراء وحی نہیں ہیں۔
- ان کے اندر نئے مسائل کے حل کے لیے اجتہادی بصیرت اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کی جائیں۔

آج انسانیت مصنوعی ذہانت، جینیاتی تحقیق، مالیاتی نظام، بایوٹیکنالوجی، بین الاقوامی تعلقات اور سماجی تبدیلیوں کے ایک نئے دور سے گزر رہی ہے۔ ان مسائل کا حل محض ماضی کی جزوی تعبیرات میں نہیں، بلکہ اصولِ شریعت کی روشنی میں زندہ اجتہاد اور اجتماعی غور و فکر میں مضمر ہے۔

اگر ہمارے مدارس ایسے علماء تیار نہ کرسکے جو عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ان پر اسلامی نقطۂ نظر سے اجتہادی بصیرت کے ساتھ گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تو امت کی فکری قیادت دوسروں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔

کسی نئی تحقیق یا اجتہادی رائے سے اختلاف کرنا ہر عالم کا حق ہے، لیکن اس اختلاف کا اسلوب علمی ہونا چاہیے، شخصی نہیں۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، فتووں اور طعن و تشنیع سے نہیں۔ ایک صحت مند علمی ماحول وہی ہوتا ہے جہاں سوال پوچھنے والا مجرم نہیں سمجھا جاتا اور نئی رائے پیش کرنے والا دشمنِ دین قرار نہیں دیا جاتا۔

مدارسِ اسلامیہ کی حقیقی قوت ان کی علمی روایت، اخلاص اور دینی وابستگی میں مضمر ہے۔ اگر اس عظیم ورثے کے ساتھ تدبر و تفکر، تجسس و تحقیق، اجتہاد و ابتکار اور فکری وسعت کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہی مدارس ایک بار پھر امت کی علمی و فکری قیادت کا مرکز بن سکتے ہیں۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو صرف معلومات کا حامل نہ بنائیں بلکہ انہیں صاحبِ فکر، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ اجتہاد انسان بنائیں؛ ایسے علماء جو اپنے اسلاف کے احترام کے ساتھ ان کے علمی منہج کو بھی زندہ رکھیں، کیونکہ ہمارے اکابر کی سب سے بڑی میراث ان کی آراء نہیں بلکہ ان کا طرزِ فکر، ان کی علمی دیانت اور حق کی جستجو کا جذبہ ہے۔