قلم کیا ہے؟ بظاہر سرکنڈے یا لکڑی کی ایک ناچیز شے ہے، تلوار کے مقابلے میں اس کی کوئی ہستی نہیں مگر قلم تلوار ہی نہیں بلکہ تلوار سے کہیں زیادہ طاقت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قلم کی عظمت کو اس قدر بلند مقام عطا فرمایا کہ اس کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿نۤ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴾
"نون، قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھتے ہیں۔" (سورۃ القلم: 1)
تلوار سے بے شک ہم ملک فتح کر سکتے ہیں، غیر اقوام کو کچھ عرصے کے لیے مطیع و فرمانبردار بنا سکتے ہیں۔ ہزاروں کے سر قلم کر کے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں، دشمنوں پر ہمارا رعب طاری ہو سکتا ہے مگر کب تک؟ جب ہماری ذرا سی کمزوری کو دیکھ پاتے ہیں تو خائفین ہمارے جان و مال کے دشمن بن کر مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں۔
تلوار کا اثر محدود ہوتا ہے، مگر قلم سے نکلے ہوئے چند الفاظ لاکھوں دلوں کو چھلنی کر دیتے ہیں، تلوار میں صرف کاٹ کا جوہر ہے مگر قلم میں کاٹنے کے علاوہ زندہ کرنے کی طاقت بھی موجود ہے، اہل قلم لاکھوں برس کے مردوں کو آن واحد میں زندہ کر دیتے ہیں، نیکیوں کو بد اور بروں کو نیک بنا دیتے ہیں۔
تلوار والے صرف جسم پر حکومت کرتے ہیں مگر اہل قلم لوگوں کے دلوں کو بھی تسخیر کر لیتے ہیں۔ تعلیم ہی کے ذریعے کسی ملک کے باشندوں کو اپنا جانثار دوست بنایا جا سکتا ہے، قلم سے ہی لوگوں کی جان و مال پر قبضہ کر سکتے ہیں، قلم زخموں پر مرہم پٹی کرتا ہے۔ دُکھے ہوئے دلوں کو تسلی دیتا ہے، تلوار کے زخموں کے لیے اکسیر کا کام کرتا ہے، قلم ضعیفوں کو قوی اور بزدلوں کو بہادر بنا دیتا ہے۔ قلم دنیا میں علم پھیلاتا ہے اور اقوام عالم میں محبت پیدا کرتا ہے۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن جن بادشاہوں نے تلوار کے بل بوتے پر حکومت کی انہیں لوگوں نے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو فنا کے گھاٹ اتارا اور اپنے بے شمار دشمن پیدا کر لیے، موقع ملنے پر انہوں نے حکومت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا لیکن جن حکمرانوں نے قلم سے حکومت کی انہوں نے دائمی زندگی اور شہرت حاصل کی، مثلاً بابر نے تلوار کے زور سے ہندوستان کو فتح کیا مگر آنکھ بند ہوتے ہی سب علاقے ہاتھ سے نکل گئے، پھر اکبر کے قلم نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر کے سلطنت کی بنیادیں مضبوط کیں۔ اسی طرح سکندر کی وفات کے بعد فوراً ہی تمام علاقے قبضے سے نکل گئے مگر ارسطو یونانی، افلاطون، مولانا روم، فردوسی کے قلم کا اثر اب تک اسی طرح قائم ہے، قلم کی فتوحات مستقل اور دائمی ہوتی ہیں۔
، تلوار کا کام ظلم و ستم، قتل و خون اور تباہی و بربادی ہے،
تلوار قوموں کے اتحاد کی دشمن ہوتی ہے، آپس میں نفاق کی خلیج کو وسیع کرتی ہے، تلوار کی حکومت خوف پر بنی ہوتی ہے اس لئے دیر پا نہیں ہوتی۔ قلم سچائی کی اشاعت اور مذہب کی توسیع کرتا ہے، قلم ایسی چیز ہے جس کی سب کو ضرورت ہے۔ موجودہ زمانے میں دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کا انتظام قلم کے سپرد ہے، قلم ایک ایسی چیز ہے جس کی حکومت میں خوش حالی اور امن و امان کا دور دورہ ہوتا ہے، قلم مشکل سے مشکل مسائل کو منٹوں میں سلجھا کر رکھ دیتا ہے اور ہر معاملے کی کھوج پاتال تک نکالتا ہے، ذرا سی دیر میں بے حس اور مردہ قوموں کو برانگیختہ کرنا اور پھر فراسی دری میں انہیں ٹھنڈا کر دینا صرف قلم ہی کا کرشمہ ہے۔ قلم صرف ایک مضمون سے تمام عوام کو حکمران کا جانی دشمن بنا دیتا اور ایک منٹ میں بڑی سے بڑی سلطنت کا تختہ الٹ کر رکھ دیتا ہے، مگر تلوار کی طاقت ان خوبیوں سے محروم ہے، حقیقت میں ہر شہرت اور ناموری قلم کو حاصل ہے۔
انمول ✍️