ایک معاشرہ دو ترازو
آج کے دور کا سب سے بڑا فریب
. امیر کا بگڑا بیٹا اور "ہدایت کا بہانہ"
یہ
لڑکا نشے میں دھت، راتیں کلب میں، زبان پر گالی، ہاتھ میں آئی فون، گاڑی باپ کے پیسے کی۔ مگر جب رشتے کی بات آتی ہے تو بڑے فخر سے کہا جاتا ہے:
"بیٹا تھوڑا شرارتی ہے، شادی کے بعد سدھر جائے گا۔
ویسے بھی ہدایت دینے والی ذات اللہ کی ہے۔"
یعنی دولت کے نشے میں کیے گئے گناہوں پر ہم نے اللہ کی "ہدایت" کی چادر ڈال دی۔
یہاں ہمارا ایمان بہت مضبوط ہو جاتا ہے۔
غریب کا سلجھا بیٹا اور "رزق کا انکار"
دوسری طرف ایک لڑکا۔پانچ وقت کا نمازی ہے
حافظ قرآن ہے
عالم ہے ماں باپ کا فرمانبردار ہے دل میں حیاہے
مگر جیب کچھ کمزور ہے تنخواہ وہی جو اماموں کی ہوتی ہے آجکل 10 یا 12 ہزار۔
جب اس کا رشتہ جاتا ہے تو وہی زبانیں پلٹ جاتی ہیں
"لڑکا تو اچھا ہے، نیک بھی ہے مگر مہنگائی کا دور ہے
کل کو بچے بھی ہونگے 10 یا 12 ہزار میں کیا ہوگا
اتنا کماتے۔۔کماتے پورتی نہیں ہو رہی کیسے گھر چلے گا
یہاں ہم بھول جاتے ہیں کہ جس اللہ کو ہم نے اوپر ہدایت دینے والا مانا تھا،
وہی اللہ "الرزاق" بھی ہے۔
رزق کا وعدہ بھی اسی کا ہے۔
مگر نہیں، یہاں ہمارا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ آج کے دور کا حساب ہے
آج رشتے کردار سے نہیں، کار سے طے ہوتے ہیں۔
آج لڑکا نہیں دیکھا جاتا،
اس کا بینک بیلنس دیکھا جاتا ہے۔
آج ہمیں بگڑے ہوئے امیر پر تو "ان شاء اللہ" کا یقین ہے،
مگر جب محنتی غریب کی باری آتی ہے تو انشااللہ بھول جاتے ہیں
سوال خود سے کریں_ اگر ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو رزق کس کے ہاتھ میں ہے؟
اگر بگڑا ہوا شادی کے بعد سدھر سکتا ہے
تو کم کمانے والا بھی محنت کے بعد ترقی کر سکتا ہے
دیکھو بیٹی کا رشتہ کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ لڑکے کے باپ کے پاس کیا ہے۔
یہ دیکھو کہ لڑکے کے پاس اپنا کردار ہے یا نہیں۔
کیونکہ گاڑی، بنگلہ، پیسہ… یہ سب وہ دولت ہے جو کل کو چھن سکتی ہے۔
مگر کردار یہ وہ دولت ہے جس میں دونوں جہاں کا سکون ہیں
یاد رکھیے ہدایت بھی اللہ دیتا ہے، رزق بھی اللہ دیتا ہے۔
فرق صرف ہمارے یقین کا ہے۔
ایک پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، وہ ہے ہدایت دوسرے پر ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شک کرتے ہیں۔ وہ ہے رزق
اللہ کے واسطے اپنے ترازو درست کر لو،
عائشہ 🍁